چیف جسٹس کے لئے دعا گو ہوں 

چیف جسٹس کے لئے دعا گو ہوں 
چیف جسٹس کے لئے دعا گو ہوں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان میں عدالت عالیہ پچھلے سال سے کافی متحرک اور فعال نظر آتی ہے۔ اِسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ادارے اور اُنکے سر براہان کرپشن میں بُری طرح ملوث ہوچُکے ہیں۔ شریف آدمی کی عزت، جان و مال اور زمینیں غیر محفوظ ہیں۔ پاکستان میں جائداد خریدنا اَب خوشگوار تجربہ نہیں رہا۔ پٹواری سے لیکر تحصیلدار تک رشوت ستانی میں ملوث ہوتے ہیں۔ جب تک سائل مذکورہ افراد کی مُٹھی گرم نہیں کرتا۔ وُہ نہ تو انتقال اپنے نام کروا سکتا اور نہ ہی اُس کو بلا کسی رکاوٹ کے بیچ سکتا ہے۔ زمینوں کی خریداری اور فروخت کے لئے محکمہ مال کے اہل کاروں کو رشوت دینا زندگی کا ایک چلن اور وطیرہ بن چُکا ہے۔ کرپشن جیسی بُرائی سے نجات حاصل کرنے کے لئے مُستقل بنیادوں پر انتھک محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔لیکن اَس کے ساتھ بہادر اور ایماندار انتظامیہ بھی مطلوب ہے۔ جو بغیر کسی خوف کے ایمانداری سے اپنا کام انجام دے سکے۔ 
عمران خان صاحب کے اقتدار میں آ جانے سے اُمید بندھی ہے کہ عام آدمی کو نوکر شاہی کے نخروں اور معاشرے میں پائی جانے والی سماجی بُر ائیوں سے نجات مل سکے گی۔ لیکن ہم سجھتے ہیں چیف جسٹس نے تہیہ کر رکھا ہے کہ وُہ اپنی رٹائیرمنٹ سے پہلے ممکن حد تک ایسے کام ضرور کر جائیں گے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے عدیم المثال ہو نگے اور چیف جسٹس کے کار ناموں کو درد مند اور محب وطن لوگ ایک عرصہ تک یا د رکھیں گے۔
چیف جسٹس صاحب نے خلوص دل سے یہ بات محسوس کی کہ وطنِ عزیز کو خشک سالی اور قحط سے بچانے کے لئے پاکستان میں ڈیموں کو بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ڈیموں کو بنانا حکومت کا کام ہے جسٹس صاحب نے ذاتی دلچسپی لے کر اِس منصوبے کے لئے ذاتی طور پر نہ صرف فنڈز جمع کئے بلکہ نئی حکومت کو بھی قائل کیا کہ وُہ ڈیموں کی تعمیر کو اپنی ایجنڈے کی ترجیح میں شامل کرے۔ لہذا چیف جسٹس کی پر خلوص کوششوں کی بدولت حکومت اور قوم میں ڈیموں کو تعمیر کرنے کے لئے ایک نمایاں جذبہ پایا جاتا ہے۔اور یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر سے چیف جسٹس صاحب کو ذاتی طور پر کوئی فائدہ نہیں۔ وُہ باالفاظِ دیگر خفیہ عزایم نہیں رکھتے جس سے اُن کو یا اُنکے خاندان کے کسی عزیز کو مالی فائدہ ہو سکے۔ پاکستان میں درد مند اور حب وطن شہریوں کا فقدان ہے۔ ہمیں ایسے ایماندار اور حساس لوگوں کی دل وجان سے قدر کرنی چاہئے۔ جو مُلک کی خاطر ہر قسم کا طعنہ برادشت کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے ۔ اُن کو اِس بات کی پرواہ نہیں کے عوام یا سیاستدان اُن کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اُن کو صرف اور صرف مُلک کا مُفاد عزیز ہے۔ اور مستقل مزاجی سے مُلک میں انصاف کے علم کو بلند کرنے کے لئے اپنی سی کوشش کر رہے ہیں۔ 
ہم سمجھتے ہیں کہ عوام کی یہ خُوش بختی ہے کہ اُن کو عمران خان اور چیف جسٹس جناب نثار ثاقب صاحب کے روُپ میں ایسے مخُلص لیڈر ملے ہیں جو کہ مُلک کی بہتری کے لئے کُچھ بھی کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ عمران خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ احتساب کے معاملے پر کسی سے رو رعایت نہیں برتی جائیگی اور ہمارے چیف جسٹس صاحب بھی بغیر خوف کے ہر ایسے آدمی پر ہاتھ ڈالنے کے لئے مستعد ہیں جو عوام کے حقوق کو غصب کرتا اور زبر دستی سے دوسرے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں شہباز شریف، اُنکے پرنسپل سیکریٹری توقیر شاہ، صوبائی وزیر قانوں رانا صاحب کے علاوہ میاں نواز شریف بھی شامل تھے۔ مولانا طاہرالقادری کو سبق سکھانے کے لئے را ت کی تاریکی میں ناجائیز تجازاوت کی وا گُزاری کے لئے پو لیس کی بھاری نفری سے حملہ کروایا گیا۔ مرد اور خواتین کو بیدر دی سے مار ا گیا ۔ مولانا طاہر القادری صاحب کی رہائش گاہ کو روندا گیا۔ اِس ساری کارروائی کا مقصد منہاج اُلقران کی انتظامیہ اور اُ نُ کے ارکان کو ہر اسان کرنا تھا تاکہ وُہ حکومت کے کڑے روئیے سے متاثر ہو کر منہاج اُلقران کی تنظیم سے مستعفی ہو جائیں۔ لیکن اُنکی وفاداری پہلے سی بھی زیادہ پختہ ہو چُکی ہے۔ مولانا طاہر القادری مستقل مزاجی سے شہید ہونے والے مر د اور خواتین کے لئے مُلک کی عدلیہ سے انصاف مانگ رہے ہیں۔ چودہ بے افراد کے قتل کا الزام شہباز شریف اور میاں نوازشریف کے سر پر ہے۔لیکن جیسا کہ قارئین جانتے ہیں کہ وُہ اثر ورسوخ کی وجہ ابھی تک اس کیس سے بچے آتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ہائی کورٹ نے مہناج القران کی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے مُلزمان کو عدالت میں پیش ہونے کی پابندی سے آزاد کر دیا ہے۔ لیکن ایک بیٹی کی درخواست پر جس کی ماں کو بے رحمی سے قتل کیا گیا تھا، عدالت عالیہ نے اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے مقدمے کا پُورا ریکارڈ عدالت عالیہ میں طلب کر لیا ہے۔ جس سے اُمید پید ا ہو گئی ہے کہ متاثرین کو عدالت سے سو فیصد انصاف ملے گا۔کیس کی تفتیش ایسے افسروں سے کروائی جائے گی جو کہ غیر جانبدار ہوں تاکہ واقعہ میں ملوث افراد کو انصاف کے تقاضے پُورے کرتے ہوئے سزائیں دی جاسکیں۔
حالیہ دنوں میں عدالت عالیہ نے مُلک میں قبضہ گروپوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔ لاہور رجسٹری میں قبضہ گروپ کے سر غنہ منشاء بم کے خلاف شکائت کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نثار ثاقب نے حکم جاری کیا کہ مُلز م کو جلد از جلد گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے اور وُہ تمام حضرات جو اِس مُلزم کی پشت پناہی کرتے ہیں اُن کو بھی گرقتار کرکے عدالت کے رُوبرو پیش کیا جائے۔ آئی جی پولیس نے اپنی جان کو خطرے میں پڑتے دیکھ کر عدالت عالیہ کو بتایا کہ مُلزم کو گرفتار کرنے کے لئے کوششیں کی گئی ہیں لیکن مُلزم کی پشت پناہی کرنے والے تحریک انصاف کے دو ارکان قومی اسمبلی ہیں۔ اِس لئے پولیس اُن کو پکڑنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہے۔ لہذا، چیف جسٹس صاحب نے حُکم صادر کیا کہ اُن دونوں ارکانِ قومی اسمبلی کو عدالت کے سامنے جلد از جلد پیش کیا جائے۔ پو لیس نے عدالت عالیہ کے احکامات کی بجا آوری میں ارکان اسمبلی کو عدالت کے رُو برو پیش کیا۔عدالت عالیہ کے استفسار پر دونوں ممبران نے مُلزم کی مدد کرنا کا اعتراف کیا۔اور اپنے جُرم کا اقرار کرتے ہوئے عدالت سے معافی مانگی۔ عدالت عالیہ نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُنکی رُکنیت کو بحال رکھا اور حکم دیا کہ مُلز م کو پکڑنے میں پولیس کی مدد کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف کی انتظامیہ کو تاکید کی کہ وُہ ان لوگوں کے خلاف انضباطی کاروائی کرکے عدالتِ عالیہ کو مطلع کریں۔شنیدہے کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے عدالت عالیہ کے حُکم کی روشنی میں ۸۰ کنال زمین جسکی مالیت اربوں روپے بنتی ہے مُلزمان سے وا گُزار کر وا لی ہے۔ یہ سب کُچھ اس لئے ہوُا کی عدلیہ اور حکومت نیک نیتی سے مُلک کی بہتری کے لئے کو شاں ہیں۔ ہم دعُا گو ہیں یہ نیک جذبہ ہر پاکستانی کے دل میں کار فرما ہو جائے۔ آمین

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -