سی پیک منصوبے روکنے کی کوشش،منفی روش!

سی پیک منصوبے روکنے کی کوشش،منفی روش!

  

 چند سال قبل،شروع کئے گئے چین کے تجویز کردہ ترقیاتی منصوبوں سے، بالخصوص امریکی حکومت کو یہ وسیع اقتصادی کارکردگی بلاروک ٹوک جاری رہنے سے کوئی خوشی یا حمایت حاصل ہونے کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتا، کیونکہ جب ایشیاء، یورپ اور افریقہ کے کئی ممالک میں آئندہ چند سالوں کے دوران، صنعتی اور زرعی ترقی کے علاوہ،رفاہ عامہ کی سہولتیں بھی عام لوگوں کو، میسر ہونے کی توقعات پوری ہونے کے حالات کی طرف پیش رفت صاف نظر آئے گی۔تو بلاشبہ مذکورہ بالا خطہ ہائے ارض کے کروڑوں افراد بھی ان پالیسیوں کے مقاصد اور مفادات کے حصول کے تناظر جان کر، ان کی حمایت، بلکہ کھلی ترویج و تشہیر سے بھی،انکار نہیں کرسکیں گے۔جبکہ امریکی حکومت کی قیادت میں متحد اور متفق ممالک بھی اپنے مشترکہ اور ذاتی مفادات سے محروم ہونے کی تکلیف اور اذیت کو امن و سکون کے لیے، برداشت اور قبول کر سکیں گے؟ کیونکہ مستقبل قریب میں ان کے عالمی سطح پر، اپنی مرضی کے نتائج اور حالات برقرار رہنے کے امکانات دم توڑسکتے ہیں۔ 

 معاشی معاملات کے کم یا زیادہ ہونے سے خطہ ارض کی سیاست بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے امریکہ بہادر کی عرصہ سے جاری،بالا دستی اور اجارہ داری کے مزید تسلسل کو قوی خدشات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ان بدلتے امور میں سیاسی تجزیہ کار، آئندہ چند سال میں امریکی اتحادی قیادت کے اثرورسوخ میں،موجودہ معاشی اور صنعتی شعبوں میں بعض مقامات پر، نمایاں تبدیلیاں وقوع پذیر ہونے کے واضح اشارے دے رہے ہیں،چین حکومت،سی پیک کے منصوبوں کی تعمیر و ترقی کے لیے اربوں ڈالر کے قرضے اور امداد متعلقہ ممالک کو فراہم کر رہی ہے۔ان رقوم کی واپسی کی شرائط بھی زیادہ سخت نہیں،تاکہ ان غریب ملکوں کو اس بارے میں، دیگر بین الاقوامی مالیاتی /اداروں کی طرح مشکلات سے دوچار نہ ہونا پڑے۔اس طرح چین کااثرورسوخ بلاشبہ مالی امداد سے مستفید ہونے والے ملکوں میں بڑھتا جارہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل کہا تھاکہ وہ افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد جلد ہی پانچ ہزار افراد سے کم کردیں گے۔اس طرح افغانستان میں امریکہ بہادر تاحال اپنی افواج کی تعداد موجود رکھ کر طالبان کے اس مطالبہ پر عمل کرنے سے گریز کررہا ہے، کہ امریکہ جلد ہی وہاں سے اپنی ان حملہ آور افواج کا مکمل انخلا کرے گا جو وہاں 7 اکتوبر 2001 سے بتدریج آکر مختلف صوبوں اور علاقوں میں براجمان تھیں۔ یہ جزوی انخلا بھی امریکی حکومت اور طالبان کے درمیان، کئی بار کے طویل مذاکرات کے بعد قطر میں دوحہ کے مقام پر چند ماہ قبل (29فروری 2020) ایک معاہدے کے تحت گاہے بگاہے، ہورہا ہے۔ افغانستان میں صدر اشرف غنی اور طالبان کے مابین فریقین کے قیدیوں کی رہائی کا معاملہ بھی، بتدریج آگے بڑھ رہا ہے۔اب بھی فریقین نے متعدد افراد، مختلف الزامات میں جیل خانوں میں بند کر رکھے ہیں۔جن کی رہائی کا فیصلہ کرنے،میں آئندہ چند ہفتے یا مہینے بھی، لگ سکتے ہیں۔

گزشتہ پون صدی سے امریکہ بہادر، عالمی سطح پر، بیشتر اہم امور پر، اپنی مرضی اور من مانی کی کاروائیاں، جاری رکھے ہوئے ہے۔ حالانکہ وہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے متعلقہ آرٹیکلز کے تحت، بروئے کار نہیں لائی گئیں۔ یاد رہے کہ اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ 1945میں قائم کیا گیاتھا۔اس کے بانی اراکین کی تعداد51تھی۔جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، بڑھ کر 193ہوگئی ہے۔عرصہ تین دہائی قبل، سویت یونین کی افغانستان میں فوجی شکست اور اس کی افواج کی واپسی کے بعد امریکہ بہا در، عالمی سطح پر ایک بڑی اور سپر پاور، بن کر تاحال اپنا کردار زیادہ تر ایک طاقتور، جارحیت کار اور غاصب وجابر قوت ہونے والاظاہرکررہا ہے۔جبکہ انسانی حقوق کا تحفظ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے سلامتی کونسل کے اہم اداروں کا ویٹو پاور کا حامل ملک ہوکر ہر امریکی حکمران کی کارکردگی، متعلقہ قوانین اور ضابطوں کی پاسداری اور پابندی پر مبنی ہونی چاہیے۔

لیکن یہ امر افسوس ناک ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر اور فلسطین کے لوگوں کے لیے سلامتی کونسل کی منطور شدہ کئی قراردادوں پر عمل درآمد کی بجائے ان کو بے انتنائی اورلاپروائی سے ماضی میں متعدد بار، ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہے۔ حالانکہ سلامتی کونسل، اقوام متحدہ کا سب سے اہم اور انسانی حقوق کے قیام و استحکام کی سمت قانونی طور پر درست رکھنے کا بڑا ادارہ ہے۔ مذکورہ بالا قراردادوں پر عمل درآمد کی بجائے، نظر انداز کرنا، غیر ذمہ دارانہ کاروائی ہے۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چینی حکومت کی چند سال قبل سے بعص ایشیائی، یورپ اورا فریقی ممالک میں جاری سی پیک کی حالیہ اقتصادی بہتری کی پالیسی کسی طور پر قبول نہیں لگتی۔ کیونکہ اس کی عملی کارکردگی سے امریکی اقتصادی مفادات اور سیاسی بالادستی کو قابل ذکر حد تک نقصانات اور پس منظر میں چلے جانے کے خدشات لاحق معلوم ہوتے ہیں،  حالانکہ کسی خطہ ارض یا علاقائی اتحاد سے اپنے معاشی، تجارتی،زرعی یا بحری وسائل کے بہتر استعمال سے مثبت نتائج حاصل کرنا، کوئی غیر قانونی اور ناجائز منصوبہ سازی نہیں ہے۔

اس لیے امریکہ بہادر یا اس کے اتحادی بعض حکمرانوں کو اپنی ناپسندیدگی یا ناگواری سے ایسی کسی سابقہ یا موجودہ پالیسی یا کارکردگی کو غیر قانونی حرکات اور حربوں سے مخالفت کرنے، یا روکنے کا کوئی جائز حق اختیار اور جواز حاصل نہیں ہے۔ بلکہ وہ بھی پر امن انداز سے اپنی کسی نئی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے آغاز و نفاد سے اپنے اتحادی ممالک کی تعمیر و ترقی کی وقتی یا طویل مدتی،پالیسی بنا کرا سے چلا کر اپنے مطلوبہ تنائج اور اہداف حاصل کر سکتا ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -