سیر وفاقی دارالحکومت کی 

سیر وفاقی دارالحکومت کی 
 سیر وفاقی دارالحکومت کی 

  

اسلام علیکم پارے پارے دوستوں سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے اور ہم بھی یقینا اچھے ہی ہیں اور مزے سے وفاقی دارالحکومت کی سیر بھی کر رہے ہیں اور گزشتہ پانچ چھ دن سے اسلام آباد میں ہی قیام پزیر ہیں …… یہ بھی بتلا دیں کہ کرونا کے سبب تقریباً نو سے دس مہینے بعد اسلام آباد کا رخ کیا ہے مصطفی ْ اسد، عبداللہ بھی ہمراہ ہیں مصطفی اینڈ کمپنی خوب سیریں کر رہی ہے یہ بھی بتلا دیں کے گزشتہ پانچ چھ دن اسلام آباد رہائش رکھنے کے دوران تقریباً تین دفعہ مری کی سیر کر لی کوہالہ پل پہ نیلم جہلم دریا کنارے نظارے بھی لئے اور اسی لئے سوچا کہ فیصل مسجد کی سیر بھی کر لی جائے جو کہ اسلام آباد میں ہی واقع ہے اور اس سے قبل مصطفی اسد اور عبداللہ دامن کوہ سے بھی وفاقی دارالحکومت کا نظارہ کر چکے تھے پھر سوچا کہ لگے ہاتھوں اسلام آباد کی خوبصورت ترین مسجد کا نظارہ بھی کر لیا جائے اسی لئے پہنچ گئے فیصل مسجد اور یہ بھی بتلا دیں کہ فیصل مسجد وہ شاہ فیصل جو کہ کسی زمانے میں سعودی عرب کے سربراہ رہے کے نام پہ ہے اور ہمارا نام بھی فیصل ہے جو یقینا شاہ فیصل کی مناسبت سے ہی ہے۔

بہر حال بات ہو رہی تھی فیصل مسجد کی تو یقینا پاکستان کی چند خوبصورت ترین مساجد میں شمار کیا جا سکتا ہے اور فیصل مسجد کے باہر بچوں کے ساتھ تصویریں بنوانے کے بعد سوچا کہ سابق صدر پاکستان ضیاء الحق شہید کی آخری آرام گاہ پہ بھی فاتحہ خوانی کی جائے اور فاتحہ خوانی کے بعد چند تصاویر بنوائیں یادگار کے طور پہ اور یہ بھی بتلا دیں کے فیصل مسجد میں عوام کا خاصہ رش تھا اور بہت سے لوگ شہید صدر کی آخری آرام گاہ پہ فاتحہ خوانی کر رہے تھے اور ہم نے بھی وہاں موجود عوام کے ساتھ دعا ئے خیر کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے۔ اگر دیکھا جائے تو شہید صدر ضیاء الحق نے طویل حکمرانی کی اور یہ بات بھی دنیا جانتی ہے کہ وہ فوجی سربراہ تھے انہوں نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا تختہ الٹا کے اقتدار حاصل کیا اور طویل ترین حکمرانی کی اور سترہ اگست انیس سو اٹھاسی میں دنیائے فانی سے ایک فضائی حادثے کے دوران رخصت ہو گئے تھے یقینا پاکستانی تاریخ کا بدترین حادثہ تھا نقصان عظیم تھا ضیاء الحق یقینا خوش قسمت ترین صدر تھے جنھیں دنیا سے گئے عرصہ بیت گیا لیکن آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے اسی لئے تو آج بھی عوام جوق در جوق جناب شہید صدر کی آخری آرام گاہ پہ فاتحہ خوانی کرتے ہیں بہر حال خاصی دیر فیصل مسجد کے احاطے میں بیٹھنے کے بعد واپسی کا ارادہ کیا اور واپس رہائش گا ہ جاتے جاتے بس لبوں پہ یہی دعا تھی کہ اللہ پاک شہید صدر کے درجات بلند فرمائے اور ہمارے پیارے ملک پاکستان کو نظر بد سے بچائے آمین ثم آمین

مزید :

رائے -کالم -