دیکھنا ہے زور کتنا....!

دیکھنا ہے زور کتنا....!
 دیکھنا ہے زور کتنا....!

  

ملانے والے نواز شریف کو الطاف حسین سے ہی کیوں ملاتے ہیں؟ ان کا موازنہ لیاقت علی خان،حسین شہید سہروردی اور محترمہ فاطمہ جناح سے کیوں نہیں کیا جاسکتا ہے؟ آخر نواز شریف جو کچھ کہہ رہے ہیں، وہ آج کی بات تو نہیں ہے، عصر حاضر کا مسئلہ تو نہیں ہے۔

وزیر اعظم عمران خان سے بہتر اب کون جانتا ہوگا کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر شور نہیں مچایا جا سکتا ہے، وزیر اعظم ہاؤس میں شور مچانا منع ہوتا ہے، مچایا بھی جائے تو کوئی نہیں سنتا، جس طرح موٹر وے پر زیادتی کے دوران ایک نہتی خاتون اور اس کے معصوم بچوں نے مچایا ہوگا، زیادتی کرنے والے شور کب مچانے دیتے ہیں، شور تو بعد میں مچایا جاتا ہے۔ عزت مآب جسٹس اعجاز الاحسن لاہور ہائیکورٹ میں جج تھے تو قبل از گرفتاری کا ایک مقدمہ ان کے سامنے پیش ہوا، درخواست گزار کے وکیل نے سو سو طرح ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سوئی گیس کے محکمے کے خلاف اس کی قبل از گرفتاری ضمانت کیوں ضروری ہے مگر معزز عدالت کا ایک ہی جواب تھا کہ واقعہ رونما ہونے سے قبل عدالت کیونکر کچھ فرض کرکے کسی کو قبل از گرفتاری ضمانت دے سکتی ہے، جب بنائے دعویٰ جنم لے گا تو عدالت حرکت میں آئے گی!

کیا نواز شریف ایک عوامی تحریک بپا کرنے کے لئے بنائے دعویٰ تشکیل دینے میں کامیاب ہو گئے ہیں؟ کیا عوام کی عدالت ان کو ان کا حق سماعت دینے کے لئے تیار ہے؟ ان سوالوں کا جواب آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں کھل کر سامنے آجائے گا۔ ابھی تو نواز شریف کا موازنہسابق قائد تحریکسے کیا جا رہا ہے جو برطانوی قومیت کے حامل ہیں اور عدالت جن کے بارے میں نقطہ اٹھاچکی ہے کہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ، پاکستان کے تحت کوئی غیر ملک کا باشندہ پاکستان میں ایک سیاسی جماعت کی سربراہی نہیں کر سکتا ہے، وہ سابق قائد تحریک جن پر پاک فوج اور رینجرز پر ہرزہ سرائی کا الزام ہے اور جن کی میڈیا کوریج کے خلاف درخواست وکیل عبداللہ ملک سمیت دیگر وکلاء نے دائر کی تھی اور ان تصویر نہ دکھانے کے لئے پیمرا اور تقریر نہ چھاپنے کے لئے پریس کونسل آف پاکستان کو عدالت عالیہ لاہور کے معزز جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی حکم نامہ جاری کر چکے ہیں۔ لاہور کے ہی معروف وکیل اظہر صدیق ایک اور درخواست کے ذریعے ان پر ریاستی اداروں کو بدنام کرنے پر غداری کے مقدمے کی استدعا لے کر لاہور ہائیکورٹ میں موجود ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مرحومہ عاصمہ جہانگیر اپنی وفات تک اس مقدمے میں الطاف حسین کی وکیل تھیں۔اس قضیے کو ایک حساس معاملہ قرار دے کر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی جاچکی ہے کہ اس معاملے پر ایک لارجر بنچ تشکیل دیا جائے۔  20ستمبر 2020کو 11اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے بعد سے نون لیگ کا سافٹ چہرہ جیل میں ہے اور ہارڈ چہرہ ٹی وی سکرینوں پر چھایا ہوا ہے، نواز شریف کی تین تقریروں سے اتنا شور مچا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو وضاحتیں اور دلائل دینے پڑے ہیں، سنا ہے اب تو شیخ رشید بھی بیمار پڑ گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کیا نون لیگ اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے، اگر نہیں ہوئی تو کیا ہو جائے گی؟ کیا جنرل اسلم بیگ کی زبان میں میڈیا اپنے گھٹنوں میں پانی کی موجودگی ثابت کر سکے گا؟ کیا مہنگائی اور بے روزگاری کی ماری عوام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی؟ کیا وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کے مطابق حکومت کو دی گئی چھے ماہ کی مہلت ختم ہو گئی ہے؟ یا پھر کیا نواز شریف دوبارہ سے میڈیا کے لئے شجر ممنوعہ قرار پائیں گے؟

بہرحال وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کے دل خوش کردیا ہے کہ اگر کوئی آئی ایس آئی چیف ان سے استعفیٰ مانگتا تو وہ اسے برطرف کردیتے اور کوئی جرنیل ان کی مرضی کے بغیر کارگل پر چڑھائی کرتا تو اس کو سامنے کھڑا کرکے فارغ کردیتا لیکن کیا نواز شریف بھی یہی نہیں کہہ رہے ہیں؟ کیا انہوں نے بھی 90کی دہائی میں یہی کچھ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی؟ 

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

مزید :

رائے -کالم -