توہین عدالت کی درخواستیں، سرکاری افسران کو نوٹس جاری 

  توہین عدالت کی درخواستیں، سرکاری افسران کو نوٹس جاری 

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست پر23اکتوبر کو وفاقی سیکرٹری صحت سے جواب طلب کرلیا،جسٹس شجاعت علی خان نے مسعود احمد ملک کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی، درخواست میں موقف اختیار ہے کہ عدالت نے شیخ زید ہسپتال کے  مستقل چیئرمین کی تقرری کے معاملہ پروفاقی سیکرٹری صحت کو درخواست گزار کو سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن اس عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ حکم عدولی پر وفاقی سیکرٹری صحت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست پرچیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔

،جسٹس شمس محمود مرزا نے ڈی جی لیبارٹریز کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کا موقف ہے کہ وہ گریڈ 20میں بطور ڈی جی فرائض انجام دے رہا ہے، سلیکشن بورڈ کی سفارش کے باوجود گریڈ 21 میں ترقی نہیں دی گئی، چیف سیکرٹری کی طرف سے 13مئی کوعدالت میں دادرسی کی یقین دہانی کروائی گئی اس کے باجود ترقی نہیں دی جارہی،چیف سیکرٹری پنجاب کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست پر سیکرٹری پلاننگ پنجاب حامد یعقوب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا،جسٹس شمس محمود مرزا نے یہ حکم ایک تعمیراتی کمپنی کی درخواست پر جاری کیا،درخواست گزار کا موقف ہے کہ تعمیراتی کام بروقت مکمل کرنے کے باوجود 4کروڑ 31لاکھ روپے ادا نہیں کئے گئے، معاوضہ کی ادائیگی کی بابت عدالتی حکم بھی موجود ہے لیکن عمل درآمد نہیں کیاجارہا۔دریں اثناء لاہور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست پرپاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے ڈی جی کوبھی نوٹس جاری کردیئے، درخواست گزارشہری برہان سلیم کا موقف ہے کہ میرٹ پر آنے کے باوجود ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل بھرتی نہیں کیا گیا،اس بابت عدالت نے 13مارچ 2019 ء کودادرسی کا حکم جاری کیاجس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا،ڈی جی پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

مزید :

علاقائی -