معروضی حالت کا تقاضا!

معروضی حالت کا تقاضا!
معروضی حالت کا تقاضا!

  

قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی کمیٹی کے سینئر رکن خواجہ آصف کا تعلق سیالکوٹ سے ہے، ان کو بھی سیاست اور رکنیت وراثت میں ملی ہے، وہ خواجہ صفدر (مرحوم) کے صاحبزادے ہیں، جو دور ایوبی میں مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تھے، وہ قابل پارلیمانی رہنما اور اچھے مقرر تھے، ہم ان کی تقریروں سے استفادہ بھی کرتے اور رپورٹ بھی کیا کرتے تھے، اس دور میں پارلیمانی ورکنگ ریلیشنز شپ (پارلیمانی تعلقات کار) ایسے تھے کہ سخت ترین تقریروں کے بعد قانون آرام سے منظور ہو جایا کرتے تھے، خواجہ صفدر خوش مزاج تھے اور ان کے مراسم بھی اچھے رہے (پھر خواجہ صفدر دور ضیاء الحق میں مرکزی مجلس شوریٰ کے چیئرمین بنائے گئے تھے) ویسا ہی نظارہ اس بار قومی اسمبلی میں فیٹف والے قوانین کی منظوری کے دوران نظر آیا کہ یہ سب بھی باہمی رضامندی ہی سے منظور کر لئے گئے اور اب باقی ماندہ کے لئے بھی سپیکر اسد قیصر متحرک ہیں، تاہم دونوں ادوار کا فرق یہ ہے کہ ماضی میں تقریریں ہوتی اور سن لی جاتی تھیں، لیکن اس بار اعتراض ہوا اور بائیکاٹ کیا گیا، تاہم قوانین منظور ہو گئے، حتیٰ کہ جو مسودہ قانون سینٹ سے مسترد ہوا وہ بھی مشترکہ اجلاس میں منظور ہو گیا، انہی خواجہ آصف نے اب اپنے ایک ٹی وی بیان کے حوالے سے معذرت کر لی، جس میں انہوں نے کہا ”میں پھر کہوں گا کہ آصف علی زرداری پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا،

وہ قابل اعتماد نہیں ہیں“، خواجہ آصف نے یہ معذرت اغلباً مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی ہدایت پر کی جنہوں نے خواجہ آصف کے پہلے اعتراض والے بیان کے بعد جو ویڈیو خطاب کیا، اس میں خصوصی طور پر آصف علی زرداری کی تعریف کی اور بہت ہی اعتماد کا اظہار کیا، لیکن دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ آج ہی خواجہ آصف کی طرف سے اظہار تاسف کی خبر چھپی تو ساتھ ہی ہمارے محترم چودھری اعتزاز احسن کا ایک بیان پڑھنے کو مل گیا۔ اس میں انہوں نے اپنی جماعت (پیپلزپارٹی) کو نصیحت کی کہ مسلم لیگ (ن) پر اعتبار نہ کیا جائے۔ یوں نہلے پر دہلے والی بات ہوئی اور ہر دو  جماعتوں میں سے ایک ایک سینئر رہنما ایسے نکل ہی آئے جو پی ڈی ایم کی تحریک کے باقاعدہ اعلان اور مسلم لیگ (ن) کی جذباتی قیادت کی طرف سے پیش قدمی پر تو اعتراض (بوجوہ) نہیں کرتے لیکن ان کی طرف سے شبہ کا جو اظہار کیا گیا وہ ماضی کی ”محاذ آرائی“ اور ”وعدہ خلافیوں“ ہی کی وجہ سے ہے کہ ہر دو جماعتوں کے درمیان میثاق جمہوریت بھی ہوا اور دونوں اے آر ڈی میں اکٹھی بھی ہو گئیں اور پھر اسی لاہور میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے راہنما ایک ہی حوالات میں اکٹھے بھی رہے، بہرحال محمد نوازشریف اور آصف علی زرداری نے جس نوعیت کا موقف اختیار کیا اور بلاول بھٹو زرداری کے بعد اب مریم نواز نے جس تندی کا اظہار کیا ہے، وہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ دونوں جماعتوں میں خواجہ آصف اور چودھری اعتزازاحسن نقارخانے میں طوطی کی آواز کے مترادف ہیں۔

ہم نے خواجہ صفدر کی اپوزیشن لیڈری کا ذکر کیا تو یہ بھی بتا دیں کہ یہ ایک چھوٹی اپوزیشن تھی، تاہم ایک حزب اختلاف بلکہ دو ایسی بھی تھیں جن کی تعداد کم تھی تاہم ان کی کارکردگی کے حوالے سے حاجی سیف، سید تابش الوری، علامہ  رحمت اللہ ارشد اور مخدوم زادہ حسن محمود کے بعد رانا اکرام ربانی بھی اچھے مقرر اور رہنما بن کر ابھرے، رانا اکرام ربانی پیپلزپارٹی کے پارلیمانی رہنماپارٹی کے رہنما کی حیثیت سے مسلم لیگ (ن) کے دور میں پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تھے اور ان کے اراکین کی تعداد گیارہ یا پندرہ تھی، اس دور میں رانا اکرام ربانی نے اس منی اپوزیشن کے ساتھ ایسا کردار ادا کیا کہ حزب اقتدار کوئی بھی قانون آسانی سے منظور نہ کرا پاتی تھی اور ایوان میں اعتراض والی تقاریر سننا پڑتی تھی، قائد حزب اختلاف رانا اکرام ربانی دھیرے بولتے لیکن ان کو آئین اور قواعد زبانی ازبر تھے، یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ آج قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں کیا ہو رہا ہے، حالانکہ دونوں ایوانوں میں مسلم لیگ (ن) کی پیپلزپارٹی سمیت بھاری تعداد ہے۔

بہرحال یہ تو یاد ماضی ہے، تاہم معروضی حالات سے ہم تشویش میں مبتلا ہیں، جس کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد تین بار ویڈیو لنک سے خطاب کر چکے اور انہوں نے بہت سخت موقف اختیار کیا، اگرچہ ان کی طرف سے بعض شخصیات کا نام بھی لیا گیا لیکن اصل اعتراض بالواسطہ کیا گیا ”ہماری لڑائی عمران خان سے نہین، ان کو لانے والوں سے ہے“ یا ”عمران خان کو لانے والوں کو جواب دینا ہوگا“ اگرچہ نواز شریف کا کہا واضح ہے لیکن پھر بھی پردہ داری کا مظہر ہے، لیکن حکومت اور حزب اقتدار کی طرف سے اسے ایک اور ہی لڑائی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور سب کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف نے علم بغاوت بلند کیا اور سرحدوں کے محافظوں کی توہین کر رہے ہیں، ساتھ ہی ایک مطالبہ ان کے خلاف بغاوت کے الزام میں اندراج مقدمہ کا بھی ہے، نوازشریف نے اپنے ویڈیو لنک خطابات میں ایک دو جو نام لئے ان میں ایک سابق آئی ایس آئی سربراہ کا بھی ہے، اور الزام ہے کہ انہوں (جنرل صاحب) نے نوازشریف سے دھرنے کے دوران استعفے دینے کو کہا تھا، آج ہی محترم وزیراعظم عمران خان کے ایک حالیہ انٹرویو کی خبرچھپی ہے، وہ کہتے ہیں، نوازشریف جنرل ظہیر کو برطرف کر دیتے، پھر کہا کس کی جرات ہے مجھ سے استعفےٰ مانگے، کوئی آرمی چیف پوچھے بغیر کارگل کرے تو میں اسے کھڑے کھڑے فارغ کر دیتا،کپتان بذات خود درست کہہ رہے ہوں گے کہ بطور کرکٹ ٹیم کپتان وہ ایسا ہی کرتے تھے اور ان کی حکم عدولی کوئی نہیں کرتا تھا، لیکن یہاں ذرا معاملہ مختلف ہے، جب بھٹو نے مضبوط کرسی کا ذکر کیا تو ان سے بی بی سی کارسپانڈنٹ (مارک ٹیلی نہیں) نے پوچھا تھا کہ وہ جنرلوں کے گھیرے میں ہیں، ان کا جواب بھی ایسا ہی تھا، نوازشریف نے جب جنرل مشرف کو فضا میں ہوتے ہوئے برطرف کر دیا تو جو ہوا، وہ تاریخ کا حصہ ہے، بہرحال انہوں نے اٹک قلعہ میں ہوتے ہوئے جرنیلی مطالبے پر استعفیٰ نہیں دیا تھا۔

یہ تاریخ کے ابواب ہیں، وزیراعظم کو ایسے بیان کی ضرورت نہیں تھی، ہماری تو اپیل ہے کہ فریقین آپس میں جو مرضی کریں فوج کو الگ رکھیں کہ سرحدی صورت حال سے اس کی توجہ نہیں ہٹنا چاہیے، ویسے صوفی تبسم نے کہا:

لڑتے لڑتے ہو گئی گم

ایک کی چونج اور ایک کی دم

مزید :

رائے -کالم -