جب ذلت ہی اپنا مقدر ٹھہری 

جب ذلت ہی اپنا مقدر ٹھہری 

  

وہ شہزادی تھا۔مجھے سر بازار ملا۔ باجی کچھ دے اللہ کے نام پہ۔اللہ تجھے بہت دے گا۔سینے پہ دوپٹہ ڈالے، آنکھوں پہ جامنی شیڈ اور ہونٹوں پہ گہری لال لپ اسٹک لگائے، مختلف انداز میں بات کرتا وہ میرا راستہ روکے کھڑا تھا۔اس کے کھڑے ہونے کا انداز جدا تھا اوربات کرنے کا بھی۔میں نے پہلے اسے ناگواری سے دیکھا۔ وہی ناگواری جو مجھے پیشہ ور بھکاریوں کو دیکھنے پر ہمیشہ ہوتی ہے۔پھر مجھے اس پہ ترس آیا۔میں نے اپنے لہجے کو سخت ہونے سے بچایا،اور اسے کہا تم کو مانگتے شرم نہیں آتی،کچھ کام کیوں نہیں کرتے۔

دینا ہے تو دو نصیحتیں کیوں کرتی ہو۔مجھے مانگتے شرم نہیں آتی تو تمہیں خدا کے نام پر دیتے شرم کیوں آتی ہے۔

لو میں مستحق کیوں نہیں،آدھا ادھوری تو ہوں نہ مرد نہ عورت۔پھر بھی مستحق نہیں۔ واہ۔ مخصوص انداز  میں تالی بجاتے ہوئے بولا۔

اس کو سمجھانا فصول تھا۔میں آگے بڑھنے لگی کہ اس نے پھر آواز لگائی۔ باجی دے جاؤ خدا تمہیں بہت دے گا۔

 کہا نا معاف کرو میں نے بڑھتے بڑھتے رک کر جواب دیا۔

جا خدا تجھے برباد کر دے،تیرے بچے مر جائیں،تو اجڑ جائے۔وہ بددعاؤں پہ اتر آیا۔

پیشہ ور بھکاریوں کا یہی کام ہے نہ دو تو بددعائیں دیتے ہیں۔میں نے ایک قدم اور اٹھایا۔

ہماری بددعا تو سیدھا عرش تک جاتی ہے، دیکھنا لگ جائے گی، اس وارنے میرے قدم جکڑ لئے، میں پیچھے واپس مڑی۔غصے یا خوف کی بجائے مجھے اس پر رحم آیا،جس کو اپنی پیشہ وارانہ بددعاؤں پہ تو یقین تھا کہ وہ لگ جائیں گی، لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ بلاوجہ کی بددعائیں کبھی نہیں لگتیں۔

تم کیا سمجھتے ہو میں تمہاری بددعا سے ڈر جاؤں گی۔تو ایسا کچھ نہیں ہے۔دُعا بلاوجہ لگ سکتی ہے، لیکن بددعا لگنے کے لئے وجہ ہونا ضروری ہے۔سو مجھے تمہاری کوئی بددعا نہیں لگ سکتی۔

ایسے کاموں سے تمہیں شرم نہیں آتی کہ لوگ مانگنے پر دھتکارتے ہیں،بے عزت کرتے ہیں، کوئی تم پر آوازیں کستا ہے۔کوئی خیرات کے نام پر چند سکے تمہاری جھولی میں ڈال دیتا ہے تو کوئی چھونے کا معاوضہ دیتا ہے۔شرم کاہے کی پیٹ بھی تو بھرنا ہے۔اب گھر بیٹھے تو کوئی نہیں دے گا۔ٹھیک ہے گھر بیٹھے کوئی نہیں دیتا لیکن اس کے علاوہ بھی تو بہت سے کام ہیں۔ہنر سیکھو،کسی کے گھر میں جھاڑو پونچا کر لو،کسی ہوٹل میں لگ جاؤ،کوئی ایسے کام ہیں جن کے لئے کسی مہارت کی بھی ضرورت نہیں۔

کہنا بہت آسان ہے۔ہم جیسوں کو کام پہ کوئی نہیں رکھتا۔اچھا تو تم دے دو کام۔  

میرے گھر پہلے سے ملازم موجود ہیں،اور مزید کی ضرورت نہیں۔

جس سے کام مانگیں وہ یہی جواب دیتا ہے۔

اگر میں تمہارے لئے کام تلاش کروں تو کیا کر لو گے،میں نے کچھ سوچتے ہوئے اس سے پوچھا۔ ہمیں تو کبھی ملا نہیں کام تم ڈھونڈ دو تو میں کر لوں گی۔ اس کے انداز میں لاپرواہی تھی۔میں نے اس کو اپنے گھر کا ایڈریس دیا کہ کچھ دنوں تک آکر پتہ کر لے۔ احتیاطا اس کے گھر کا ایڈریس بھی لے لیا۔

میں اس کے لئے کام ڈھونڈتی رہی۔اپنی دوستوں جاننے والوں جن کو ملازم کی ضرورت ہو سکتی  تھی سے کہا،لیکن ہر کسی نے سن کر قہقہہ لگایا۔لوجی ہم اب کھسروں کو ملازم رکھیں گے۔پھر بھی میں اس کے لئے کام کی سفارشیں کرتی رہی لیکن کسی نے بھی اس کو ملازم رکھنے کی حامی نہ بھری۔میرے گھریلو ملازم بہت پرانے اور ضرورت مند افراد تھے میں ان کو ہٹا نہیں سکتی تھی۔ میری پڑوسن کی ملازمہ کام چھوڑ کر چلی گئی تو میرے ذہن میں ایک بار پھر شہزادی کانام آیا۔

میں نے انہیں شہزادی کے بارے بتایا۔ پہلے تو وہ تھوڑا ہچکچائی، لیکن مجبوری کے تحت حامی بھر لی۔کہ وہ دفتر اور گھر کے بیچ گھن چکر بنی ہوئی تھی۔

شہزادی کو بتایا تو وہ حیران ہوئی لیکن خوش تھی۔اس کی آنکھیں خوشی سے بھیگ گئیں۔وہ بار بار میرا شکر اداکر رہی تھی۔ کہنے لگی باجی کس کا جی کرتا ہے ذلت سہنے کو،لیکن یہ ذلت تو ہمارے مقدرمیں لکھ دی گئی ہے۔

چلو اب خوش ہو جاؤ۔میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکی۔کہ جان گئی تھی ان کے لئے کام ڈھونڈنا واقعی مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ میں اس کو لے کر اپنی پڑوسن کے گھر پہنچی۔پڑوسن اور اس کا میاں اسے دیکھ کر خوش تو نہیں ہوئے، لیکن مجبوری کی وجہ سے اسے رکھ لیا۔پڑوسن کے میاں نے اسے واضح کہہ دیا تھا کہ وہ اپنے گھر اور بچوں کو کسی کھسرے کے سپرد نہیں کر سکتے۔

شہزادی کے کام سے میری پڑوسن مطمئن تھی،لیکن اس کا شوہر خفا رہتاتھا، اور اپنی ناگواری کا برملا اظہار کرتا تھا۔ ایک دن شہزادی نے آکر بتایا کہ وہ کام چھوڑ آئی ہے۔میں نے وجہ نہ پوچھی کہ جانتی تھی کہ پڑوسن کا شوہر اس کو نہیں رکھنا چاہتا تھا۔خوامخواہ غصہ کرتا تھا۔

کوئی بات نہیں،میرے ایک جاننے والے کی کافی شاپ ہے میں تمہیں اس پہ لگوا دیتی ہوں۔وہ تمہیں رکھنے پہ راضی تھے، لیکن تب تم کو ملازمت مل چکی تھی۔ میں اسے کافی شاپ پہ چھوڑ آئی۔یہ شہر کی مشہور کافی شاپ تھی یہاں کچھ اور لڑکے بھی شاپ کا مخصوص یونیفارم پہنے کام کرتے تھے۔شہزادی کو بھی یونیفارم دیا گیا اور کام سمجھا دیا گیا۔اس بات کو کچھ ماہ گذر گئے۔میں اس قصے کو قریبا بھول گئی کہ ایک دن بازار میں میری نظر شہزادی پہ پڑی۔اس کی آنکھوں پہ جامنی شیڈ لگی تھی اور ہونٹوں پر گہری لال لپ اسٹک۔ وہی مخصوص انداز مانگنے کا اور وہی سب کچھ۔ مجھے اس کو دیکھ کر بہت غصہ آیا۔

تم آگئے اپنی اوقات پہ۔کتنی محنت سے کام ڈھونڈا تھا میں نے،لوگوں کی منتیں ترلے کیئے کہ تمہیں کام پہ رکھ لیں، لیکن تم جیسوں کو اس سب کاچسکا لگا ہوتا ہے،بنا محنت پیسہ چاہئے ہوتا ہے تم کیوں کرو کام۔شرم سے ڈوب مرنا چاہئے۔تم جیسوں کو عزت راس ہی نہیں۔ میں نے اس کو مانگتے دیکھا تو اس کو خوب سنائیں۔جب خوب بول چکنے کے بعد آگے بڑھنے لگی تو اس نے میرا بازو پکڑ لیا۔اپنی سنالی اب میری بھی سنتی جاؤ۔

ٹھیک کہا تم نے ہم جیسوں کو عزت راس نہیں تبھی تو تم جیسے عزت داروں کے مرد ہماری عزت ختم کرنے پہنچتے ہیں۔ باجی تم نے کام ڈھونڈا تیری مہربانی، لیکن اس سے بھی بڑی مہربانی یہ ہوتی اگر تم کام نہ ڈھونڈتی،کم از کم تیری نظر میں عزت داروں کا بھرم رہ جاتا۔جاننا چاہو گی تیری پڑوسن کے گھر سے کام کیوں چھوڑ کے آئی تھی کہ اس کا عزت دار شوہر جس کو میرے وجود سے نفرت تھی مجھے نوچ ڈالنے کو بیتاب رہتا تھا ایک دن اس کی بیوی جب گھر نہیں تھی تو اس نے مجھ پر ہاتھ صاف کر ناچاہا تھا۔اس کی بیوی اپنے گھر اور بچوں کو میرے بھروسے پہ چھوڑ کے گئی تھی میں کیسے اس کا بھروسہ توڑ دیتی۔اس لئے چھوڑ آئی تھی کام،اور جس کافی شاپ کے مالک نے احسان جتا کر مجھے رکھا تھا اس نے مجھے کافی کے آرڈر بھگتانے کے لئے نہیں، بلکہ اپنی آمدن بڑھانے کے لئے رکھا تھا،اس کی اپنی نیت بھی خراب تھی۔ اسی لئے دو ہفتوں بعد ہی کام چھوڑ آئی تھی کہ جس عزت کو بچانے اورعزت کی روٹی کے لئے محنت کر رہی ہوں وہ عزت نہیں ملنی تو کیا فائدہ۔جب ذلت ہی اپنا مقدرٹھہری، تو پھر عزت سے کام کرنے والوں کے لئے میں نے جگہ چھوڑ دی۔

مزید :

رائے -کالم -