حقیقی جمہوریت کے رستے میں اصل رکاوٹ

حقیقی جمہوریت کے رستے میں اصل رکاوٹ
حقیقی جمہوریت کے رستے میں اصل رکاوٹ

  

ڈینئیل مائلسٹین ایک کامیاب بزنس مین ہیں۔وہ گولڈ سٹا ر فیملی آف کمپنیز کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔کامیباب بزنس مین کے ساتھ ساتھ وہ ایک موٹیویشنل بھی ہیں۔ میں ان کی ریسرچ سے بہت متاثر ہوں اور ان کے اکثر لیکچر پڑھتا رہتا ہوں۔انہوں نے انسان کی کامیابی کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کا بڑا گہرا مشاہدہ کیا ہے وہ کہتے ہیں  انسان اس وقت تک اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکتا جب تک وہ ادنیٰ خواہشات ترق نہیں کرتا۔ بڑے مقصد کے راستے میں دولت، اقتدار اور شہرت کی  ادنیٰ خواہشات رکاوٹیں بن کر  اسے ناکامی سے دوچار کرتی ہیں  اور وہ اپنے گول سے دور ہوتا چلا جاتاہے۔انسان میں اگر یہ تینوں خواہشات نہ پائی جاتی ہوں تو پھرکامیابی کا راستہ کھل جاتا ہے اور گول حاصل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی ہر رکاوٹ ریت کی دیوار ثابت ہو کرخود بخود گر جاتی ہے  لیکن اگر وہ ان خواہشات کو ساتھ لے کر چلتا ہے تو پھر راستہ بدلنے پر مجبور ہوگا اس کے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ کم ہوتا جائے گا اور مزید آگے بڑھنے کی  توانائی نہیں رہے گی سفر رک جائے گا اور وہ ناکام ٹھہرے گا۔

ڈینئیل کا مشاہدہ پڑھیں تو یہ انتہائی عملی معلوم ہوتا ہے۔آپ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو دیکھ لیں میاں نوازشریف، عمران خان،آصٖف زرداری اور مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر راہنما  ان سب کی تقریریں سنیں تو یہ دکھی دل کے ساتھ کہتے ہیں کہ اس ملک میں حقیقی جمہوریت بحال ہونی چاہئے جس میں اسٹیبلشمنٹ کی بالکل مداخلت نہ ہو،پارلیمنٹ خود مختارہو،سیاستدانوں پر جھوٹے مقدمات  بنا کر ان کی کردار کشی نہ کی جائے،حکومت عوام کی مرضی سے منتخب ہو، محکمہ زراعت جیتنے والے امیدواروں کو کسی ایک سیاسی پارٹی میں شامل کرکے طاقت کا توازن تبدیل نہ کرسکے،نیب کا کردار مخالف سیاسی جماعتوں تک محدود نہ ہو اور یہاں تمام فیصلے عوامی نمائندے مل کر کریں۔اس کے لئے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے میثاق جمہوریت بھی کیا لیکن حقیقی جمہوریت کا خواب پورا نہ ہوا اور آج بھی اپوزیشن جماعتیں حقیقی جمہوریت کا مطالبہ کر رہی ہیں لیکن ہنوز دلی دواست۔ 

موجودہ سیاسی قیادت کو دیکھا جائے تو  قائدین ساٹھ ستر سال کی عمر گزار چکے اور ان قائدین کا تین چار عشروں کا سیاسی کیرئیر بھی ہے  اگر ان تجربہ کار سیاستدانوں کی کارکردگی دیکھی جائے تو یہ اپنے گول حقیقی جمہوریت  کے حصول میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں اور مستقبل قریب میں بھی اس کی کوئی امید نظر نہیں آتی،  ایسا کیوں ہے؟  ایسا اس لئے ہے کہ ان سب کا  حقیقی جمہوریت کاگول تو بہت  عظیم  ہے لیکن یہ سب دولت، اقتدار اور شہرت کی ادنیٰ ترین خواہشات کے اسیر ہو کر اپنے گول تک پہنچنے میں مسلسل ناکام ہو رہے ہیں۔یہ سب حقیقی جمہوریت کے حصول کی تقریریں تو کرتے ہیں لیکن وزیراعظم کی کرسی کے لئے پچھلے دروازے سے آنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔یہ عوام کی حکومت اور عوامی مینڈیٹ سے جیتنے کا درس دیتے ہیں لیکن محکمہ زراعت کی دمبی سٹی سے جمہوریت کے کھیتوں کو اجاڑنے سے بھی گریز نہیں کرتے،یہ اداروں کی مداخلت کا گلا کرتے نظرآتے ہیں مگر اداروں کی اقتدار میٹرو میں سوار ہونے کے لئے لائن میں لگے  نظر آتے ہیں۔یہ اپنی کردار کشی پر رنجیدہ ہوتے ہیں پر جہاں انہیں جمہوری اصول نبھاکر اعلٰی کردار کا نمونہ بننا ہوتا ہے یہ وہاں اپنے کردار کو دھڑم سے زمین بوس کر دیتے ہیں اور اس پر اقتدار کی خاک ڈال کر رسوا ہونے کو اعزاز سمجھتے ہیں۔ایک دوسرے پر سلیکٹڈ کا الزام لگاتے ہیں اور خود سلیکٹ ہونے کے لئے اپنی خدمات بڑھ چڑھ کر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔

ہمارے سیاستدانوں کا حقیقی جمہوریت کا گول بہت عظیم ہے۔عوا م کی بھی شدید خواہش ہے کہ یہاں حقیقی جمہوریت نظر آئے لیکن ہمارے سیاسی قائدین کی ادنیٰ خواہشات حقیقی جمہوریت کی منزل سے کوسوں دور ہیں۔یقین جانیں جس دن ہمارے سیاسی قائدین نے عہد کر لیا اور انہوں نے اپنی ادنیٰ ترین خواہشات کو ترک کر دیا حقیقی جمہوریت کا گول اچیو کر لیں گے۔اس دن انہیں مکمل اقتدار اور پورا اختیار مل جائے گا۔جس دن انہوں نے جمہوریت کی قیمت ادا کر دی اس دن جمہوریت ان کے سامنے ایک طاقت بن کر کھڑی  ہوگی جہاں انہیں کوئی ڈکٹیشن نہیں دے گا اور یہ سارے فیصلے  پارلیمنٹ میں کرنے کا حق حاصل کر لیں گے۔ خواہشات جب کمزوری بن جائیں تو پھر مضبوط سے مضبوط انسان کمزور کردار کے ساتھ ڈٹ کر اپنا موقف بیان نہیں کر سکتا اور اس کا بیان بناوٹی رنگ کے ساتھ اپنا اثر کھو جاتا ہے۔اعلیٰ مقصد کو ادنیٰ خواہشات کے ساتھ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ہمار ے سیاسی قائدین نے اگر حقیقی جمہوریت کا گول اچیو کرنا ہے تو پھر اقتدار کے حصول کے لئے چور دروازوں،محکمہ زراعت کے فصلی بٹیروں اور ایک پارٹی کی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے جتھوں اور لانگ مارچوں کا راستہ چھوڑنا ہوگا۔حریف کو گرانے کے لئے جب تیسرے فریق کی مدد حاصل کی جائے تو پھرتیسرا فریق آپ کو بھی کسی وقت گرا سکتا ہے کیونکہ وہ آپ کی کمزوریوں سے واقف ہوتاہے۔

ہماری سیاسی جماعتوں کے سامنے منزل بالکل واضح ہے۔۔۔حقیقی جمہوریت۔۔۔لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ان کی اپنی کھڑی کی ہوئی ہیں۔اقتدار، کاروبار  اور پروٹوکول۔۔ان رکاوٹوں کو ختم کر دیں حقیقی جمہوریت پانے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی لیکن اگر آپ لوگ ان رکاوٹوں کے ساتھ حقیقی جمہوریت کا خواب دیکھتے ہیں تو یہ دیوانے کا خواب تو ہوسکتا ہے لیکن اس خواب کو تعبیر ملنا ممکن نہیں اور اسی طرح کی جمہوری لیبل لگی حکومتیں چلتی رہیں گی جس میں کبھی کوئی کسی کو گرانے کے لئے کالا کوٹ پہن لے گا، کوئی لانگ مارچ کرے گا  اور کوئی ڈنڈا فورس لے کر چڑھائی کرتا دکھائی دے گا، ایک دوسرے کے گندے کپڑے شاہراہوں پر دھلیں گے، گالم گلوچ چلتی رہے گی،جھوٹے سچے مقدمات بنتے اور تمام فیصلے پارلیمنٹ سے بالا بالا ہوتے رہیں گے۔ عوام یہ تماشہ دیکھ دیکھ کر لا تعلق ہوتے جائیں گے اور آپ لوگوں کی حقیقی جمہوریت کی تقریروں اور دکھی خطابات پر لوگ کان دھرنے کی بجائے اسے ایک نو ٹنکی اور ڈرامہ بازی سمجھیں گے۔حقیقی جمہوریت کسی ادارے نے پلیٹ میں سجا کر سیاستدانوں کو پیش نہیں کرنی یہ سیاستدانوں نے خود حاصل کرنی ہے لیکن اس کے لئے سیاستدانوں کو اپنے اندر کے خود غرض انسان کو خیرباد کہنا ہوگا جو ادنیٰ خواہشات کا اسیر ہوکر انہیں اعلیٰ گول سے دور کئے ہوئے ہے۔

مزید :

رائے -کالم -