کچھ غلط ہوا ہے تو میڈیکل بورڈ اور ڈاکٹروں کو کٹہرے میں لایا جائے

    کچھ غلط ہوا ہے تو میڈیکل بورڈ اور ڈاکٹروں کو کٹہرے میں لایا جائے

  

ملک کے ممتاز قانون دان اور لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر طاہر نصراللہ وڑائچ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ نواز شریف میڈیکل کیس میں وزیراعظم عمران خان اور نواز شریف کے علاج معالجہ کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کے موقف ایک دوسرے کے خلاف کیوں ہیں وزیر اعظم اور ان کے وزراء سمیت عدلیہ فرما رہی ہے کہ نوازشریف  دھوکہ دے کر گئے مگر اس کا جواب حکومت کی بجائے  نواز شریف کے علاج معالجہ کے لیے حکومت کی طرف سے  سے تشکیل دیا گیا میڈیکل بورڈکے چیئرمین کا نمائندہ اور سرکاری پروفیسر اورسروسز  ہسپتال کا ایم ایس  دے رہا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں  کہ وزیراعظم اور وزراء کا موقف درست نہیں ہے میڈیکل بورڈ کا موقف درست ہے سرکاری عمارت میں بیٹھ کر میڈیکل بورڈ کے چیئرمین کے نمائندے کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کا موقف درست نہیں ہے بورڈ  کا فیصلہ درست تھا  میڈیکل بورڈ کے چیئرمین کا نمائندہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ حکومت تحقیقات کر لے اگر اس بورڈ نے حکومت کو چیلنج کیا ہے تو تحقیقات ہو جانی چاہیے اگر حکومت ایسا نہیں کراتی تو صاف ظاہر ہے کہ دال میں کالا موجود ہے اگر یہ بات درست ثابت ہوجاتی ہے کہ نوازشریف کو میڈیکل بورڈ نے غلط طریقے سے باہر بھجوانے کی راہ ہموار کی تو ان کے سہولت کاروں کو حکومت سے غداری کرنے کے الزام میں  لٹکا دیا جائے  وہ ایشو آف دا ڈے میں گفتگو کر رہے تھے

  طاہر نصراللہ وڑائچ

مزید :

صفحہ اول -