نواز شریف کی تقریر پر نشر کرنے پر پابندی، اہل لاہور ملا جلا ردعمل، کچھ نے فیصلہ غلط، کئی ایک نے دوست قرار دے دیا

نواز شریف کی تقریر پر نشر کرنے پر پابندی، اہل لاہور ملا جلا ردعمل، کچھ نے ...

  

 لاہور(افضل افتخار)پیمرا نے قائد مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر نشر کرنے پر پابندی عائد کرکے اچھا فیصلہ نہیں کیا، جمہوری حکومتوں میں ایسا نہیں ہوتا، ہر ایک کو اپنی بات کہنے کا مکمل حق ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف شعبو ں سے تعلق رکھنے والے افرا د نے پیمرا کی جانب سے سابق وزیر اعظم کی لندن سے تقریر نشر کرنے پر پا بند ی کے بعد روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،اس حوالے سے شہریوں ندیم، اشفاق، بابر،سہیل،عامر،عمران، شوکت،زبیر،اسد، منیر، تنویر نے کہا ہم پیمرا کے اس فیصلہ کی مذمت کرتے ہیں دو مرتبہ نواز شریف کی تقریر لندن سے نشر کی گئی اور وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس کی اجازت دی تھی اب پابندی عائد کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا،وہ قوم سے تقریر کے ذریعہ بات چیت کرسکتے ہیں یہ ان کا حق ہے، یہ حکومت کا غلط فیصلہ ہے اس کو واپس لینے کی ضرورت ہے۔نوا ز شریف تین مرتبہ وزیر اعظم رہ چکے ہیں ان پر اس قسم کی پا بند ی نہیں ہونی چاہیے،یہ عوام پرمنحصر ہے کہ وہ ان کی بات سنتے ہیں یا نہیں۔ اس حوالے سے فیصلہ عوام کو کرنا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے شہریو ں منور، عادل، شکیل، عابد، علی بدر،حسن،نواز خان،دلبر، معیز، شرجیل،ہمایوں اور ٹیپو نے کہا کہ یہ درست فیصلہ ہے،پیمرا کو یہ فیصلہ اس وقت کرنا چائیے تھا جب انہوں نے تقریر کی، پاکستان سے باہر بیٹھ کر کسی کو اجازت نہیں کہ وہ کوئی بات کرے، پابندی کا فیصلہ درست ہے، ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔ نواز شریف کو وطن واپس آنا چاہیے او ریہاں پر عوام کے درمیان بیٹھ کر اپنا موقف پیش کرنا چاہیے،اس طرح عوام میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے مستقبل میں اچھے نتائج برآمد نہیں ہوں گے، فیصلہ درست ہے اور اس پر قائم رہنے کی ضر ورت ہے، امید ہے ان پر جب تک وہ لندن میں موجود ہیں مستقل پابندی عائد رہے گی۔ اس حوالے سے زبیدہ،شرمیلہ،آمنہ،میمونہ، طلعت،سمعیہ،سائرہ، بانو،صائمہ،سعد یہ، فروا اور عابد ہ نے کہا ہر ایک کو اپنی بات کہنے کا حق ہے او ر وہ کسی بھی ذریعہ سے بات کرے کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اس پر پابندی عائد کرے،ہمارے خیال میں یہ درست فیصلہ نہیں اور اس فیصلہ سے حکومت کو مستقبل میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے،ہر ایک کو اپنی بات کہنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

سروے

مزید :

صفحہ آخر -