راجن پور: مہمان پرندوں کی نسل کشی  جاری‘ سرعام فروخت متعلقہ محکمے خاموش

 راجن پور: مہمان پرندوں کی نسل کشی  جاری‘ سرعام فروخت متعلقہ محکمے خاموش

  

راجن پور (ڈسٹر کٹ رپورٹر) ”رکھوالی کرنے والے خود لٹیرے بن گئے“،محکمہ شکاریات کے ضلعی آفیسر وانسپکٹرز کی ملی بھگت،علاقہ پچادھ ودیگر علاقوں سے مہمان پر ندوں کی نسل کشی جاری، راجن پورشہر میں 15 (بقیہ نمبر46صفحہ 7پر)

مقاما ت پرسرعام مہمان پرندے ”بٹیر“ کی فروخت جاری، علاقہ پچادھ راجن پور اور روجہان میں مہمان 4 ”چرخ“ پر ندے شکاریوں نے پکڑ کر فروخت کردیئے مبینہ طور پر چاروں پرندے 50 لاکھ روپے میں فروخت ہوئے منجھوٹھہ قوم کے شکاریوں نے نصف رقم محکمہ شکاریات کے بشیر احمدروڑنجہ سکنہ لیہ کودینے کاانکشاف بھی کیا ہے تفصیلات کے مطابق ضلع راجن پور میں تعینات محکمہ شکاریات کے ملازمین کی جانب سے بدترین بدعنو نی اور فرائض سے غفلت برتنے کاانکشاف ہوا ہے سرکاری آفیسرز واہلکاروں نے پرائیویٹ شکاری کیمپ سجا رکھے ہیں روزانہ کی بنیادوں پرہزاروں کی تعداد میں مہمان پرندے بٹیر کاشکار کیا جارہا ہے بٹیر کی فی قیمت فروخت 60 روپے سے 1 سوروپے رکھی گئی ہے پندرہ مقامات پر باقاعدہ کھلے عام پنجرے سڑک پررکھ کر یہ بٹیرے فروخت کئے جارہے ہیں اگر کہیں اس نسل کشی کو ہائی لائیٹ کیا جاتا ہے تو محکمہ فٹا فٹ اسے قانونی اور لائسنسی قرار دے کر اپنے مختص کردہ شکاریوں کو چھڑا لیتا ہے گذشہ روز راجن پوراورروجہان کی پہاڑی پٹی میں منجھوٹھہ قوم کے افراد نے چار مہمان پرندے ”چرخ“ پکڑے جو تقریباً پچاس لاکھ روپے میں فروخت کئے گئے جن کی نصف رقم محکمہ کے آفیسران نے وصول کی عوامی وشہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے محکمہ شکار کی اس لوٹ مار کا نوٹس لینے اور شکار پرعائد پابندی پرعمل درآمد کویقینی بنانے کا مطا لبہ کیا ہے۔

خاموش

مزید :

ملتان صفحہ آخر -