حکومت نے قلیل عرصے میں زرعی ترقی کے منصوبے متعارف کرائے‘ حسین جہانیاں 

    حکومت نے قلیل عرصے میں زرعی ترقی کے منصوبے متعارف کرائے‘ حسین جہانیاں 

  

ملتان (سپیشل رپورٹر)موجودہ حکومت زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے کوشاں ہے۔حکومت نے قلیل عرصہ میں زرعی ترقی کے مثالی منصوبے متعارف کروائے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے پیر مہر علی شاہ یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف ہائیڈروپونک ایگریکلچرروات اور یونیورسٹی ریسرچ فارم کونٹ(چکوال) کے دورہ کے موقع پر کیا۔اس موقع پر وائس چانسلرپیر مہر علی شاہ زرعی یونیورسٹی روالپنڈی،(بقیہ نمبر26صفحہ 6پر)

مختلف شعبہ جات کے ڈین،ڈائریکٹرز اور ڈائریکٹر نظامت زرعی اطلاعات پنجاب بھی موجود تھے۔وائس چانسلر ڈاکٹر قمر الزمان نے وزیر زراعت پنجاب کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہائیڈروپونک ٹیکنالوجی کے ذریعے فصلوں کو مٹی کے بغیر صرف پانی میں اگایا جا سکتا ہے اور اس طریقہ کاشتکاری سے فصلوں کی پیداوار روایتی کاشتکاری کی نسبت کئی گنا زیادہ حاصل ہوتی ہے۔ یونیورسٹی ریسرچ فارم کونٹ (چکوال)میں روایتی پھلوں کے علاوہ کیوی،انار،انگور،ایوکاڈوکی کاشت کے ساتھ انٹرکراپنگ کلچر کو بھی فروغ دیا جارہا ہے اور بارانی کپاس و دالوں کے ٹرائل بھی لگائے گئے ہیں تاکہ جدید تحقیق کی روشنی میں ان کی خطہ پوٹھوہار میں پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔اس موقع پروزیر زراعت پنجاب نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ زرعی شعبہ کو بہتر بنانے کے لئے سائنسدانوں، یونیورسٹی کے اساتذہ اور ایکسٹینشن ورکرز کو مربوط کاوشیں کرنا ہوں گی۔ اس وقت جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 20 فیصد ہے جسے 40 فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے ہمیں روایتی کاشتکاری چھوڑ کر ہائی ویلیو کراپس کی کاشت کو اپنانا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطہ پوٹھوار کی زمینی ساخت اور آب و ہوا پھلوں اور سبزیوں کی کاشت کے لئے انتہائی موزوں ہے۔موجودہ حکومت خطہ پوٹھوار کے کاشتکاروں کی خوشحالی کے لئے آبپاشی اور رین واٹر ہارویسٹنگ کے منصوبے متعارف کروا رہی ہے تاکہ خطہ پوٹھوار کو حقیقی فروٹ ویلی بنانے کا خواب پورا کیا جا سکے۔ اس موقع پر پیر مہر علی شاہ زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے وائس چانسلر ڈاکٹر قمر الزمان نے یہ بھی بتایا کہ یونیورسٹی نے قریباً 100 ٹیمیں تشکیل دی ہیں جن میں زراعت کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین موجود ہوں گے جو راولپنڈی ڈویژن کی ہر تحصیل میں جا کر کاشتکاروں کی رہنمائی کریں گے۔ اس کے علاوہ کاشتکاروں کو تیلدار اجناس، دالوں اور سبزیوں کے ترقی دادہ اقسام کا بیج بھی فراہم کیا جائے گا۔ آخر میں کاشتکاروں میں گندم، تیلدار اجناس، دالوں اور سبزیوں کے بیج تقسیم کیے گئے۔ وزیر زراعت پنجاب نے یونیورسٹی کے ریسرچ فارم پر پودا لگایا اور تحقیقی فارم میں لگائے گئے تجربات کا جائزہ لیا جن میں فصلوں کی مخلوط کاشت کے تجربات، بارانی علاقے میں کپاس کاشت کے تجربات، رین واٹر ہارویسٹنگ شامل ہیں۔ وزیر زراعت پنجاب نے پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی میں ہونے والے تحقیقی کام کو سراہا۔قبل ازیں وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی میں ویمن ڈویلپمنٹ سٹڈیز سنٹر کا افتتاح کیا۔ 

حسین جہانیاں 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -