ایف بی آر نے سال کی پہلی سہ ماہی میں  ایک کھرب سے زائد کا ریونیو حاصل کرلیا

 ایف بی آر نے سال کی پہلی سہ ماہی میں  ایک کھرب سے زائد کا ریونیو حاصل کرلیا

  

 ملتان (نیوز رپورٹر)  فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے پہلی مرتبہ رواں سال کی ابتدائی سہ ماہی میں ایک کھرب سے زائد ریونیوحاصل کر لیا۔ سٹیٹ (بقیہ نمبر7صفحہ 6پر)

بینک آف پاکستان کے ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق ایف بی آر نے پہلی سہ ماہی میں 1004 ارب روپے کانیٹ ریونیوحاصل کیا ہیجبکہ مقر رکردہ ہدف 970 ارب روپے تھا اس طرح 34 ارب روپے کا اضافہ حاصل ہوا ہے۔ رواں مالی سال کی  پہلی سہ ماہی میں انکم ٹیکس کی مد میں 358 ارب روپے حاصل ہوئے، سیلز ٹیکس سے حاصل کردہ ریونیو426 ارب، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 56 ارب اور کسٹمز ڈیوٹی 164 ارب رہا۔ایف بی آر نے پہلی مرتبہ سال کی پہلی سہ ماہی میں گراس اور نیٹ ریوینیو  1 کھرب سے زائد  اکھٹا کیا ہے۔ سہ ماہی کا کل گراس ریوینیو 1052 ارب روپے ہے۔ریکارڈ سہ ماہی میں حاصل ہونے والے ریوینیو کے باوجود رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 48 ارب روپے کے ریفنڈز جاری ہوئے ہیں جبکہ پچھلے سال جاری کردہ ریفنڈز 26.5 ارب روپے کے تھے۔ریفنڈز اضافہ کی بدولت معاشی سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے۔کرونا وبا کے باعث معیشت کی سست روی اور حکومت کے فنانس ایکٹ 2020 میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں خاطر خواہ ٹیکس ریلیف دینے کے باوجود ایف بی آر نے قابل تحسین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جو کہ ٹیکس گزاروں کا حکومت کے ریوینیو اقدامات پر اعتماد کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ ایف بی آر نے ریونیومیں بہتری لانے  اور سہولیات کی فراہمی کے لئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان میں سے لارج ٹیکس پیئر آفس ملتان اور کارپوریٹ ٹیکس آفس اسلام آباد کی تشکیل ہیں۔  پاکستان کسٹمز نے ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلقہ مسائل کے حل کے لئے مو ثر اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس اقدام کی بدولت کارگو کی بارڈر مقامات پر نقل و حرکت 30 دن سے کم ہو کر 5 دن ہو گئی ہے۔ وزیر اعظم کے احکامات کے مطابق ٹرانزٹ ٹریڈ سہولتی پورٹل بھی فعال کر دیا گیا ہے۔پاکستان کسٹمز نے تمام قانون نافد کرنے والے اداروں جن میں پولیس، فرنٹیر فورس، رینجرز اور میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے ساتھ اشتراک کو مضبوط بناتے ہوئے سمگل شدہ اشیاء کی نقل و حرکت اور ذخیر ہ کی جگہوں پر آپریشنز تیز کر دیا ہے۔ ان اقدامات کی بدولت ماہ ستمبر میں پاکستان کسٹمز نے ریکارڈ سمگل شدہ اشیاء کی ضبطگیاں کی ہیں۔ ان اشیا ء  میں گٹگا، چھالیہ، خشک دودھ، سگریٹس، ایرانی ڈیزل، ٹائرز، نان ڈیوٹی پیڈ گاڑیاں،  کپٹرا اور سونا جن کی مالیت 6.2 ارب روپیہے، شامل ہیں۔ پچھلے سال ستمبر میں 3.9 ارب روپے کی سمگل شدہ اشیاء کی ضبطگی عمل میں لائی گئی جس میں اس سال 56 فیصد اضافہ ہواہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سمگل شدہ اشیاء جن کی مالیت 14.38 ارب روپے ہے ضبط کی گئی ہیں جبکہ پچھلے سال پہلی سہ ماہی میں 8.4ارب روپے مالیت کی اشیاء ضبط ہوئی تھی۔ایف بی آر تجارتی آسانی کی فراہمی کے لئے آٹومیشن، ای آڈٹ اور طریقہ کار سہل بنانے کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ ایف بی آر کرپشن، ہراسانی اور اختیارات کے غلط استعمال کیتدارک کے لئے سو افسران اور اہلکاروں کو معطل کر چکا ہے۔

ریونیو

مزید :

ملتان صفحہ آخر -