پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹرز کو بھی شکنجے میں جکڑ لیا، نئے معاہدے میں میڈیا کے حوالے سے کیا پابندیاں عائد کی گئی ہیں؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹرز کو بھی شکنجے میں جکڑ لیا، نئے معاہدے میں میڈیا کے ...
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹرز کو بھی شکنجے میں جکڑ لیا، نئے معاہدے میں میڈیا کے حوالے سے کیا پابندیاں عائد کی گئی ہیں؟ تفصیلات سامنے آ گئیں
سورس: Creative commons licenses

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ڈومیسٹک کرکٹرز کو کنٹریکٹ کے شکنجے میں جکڑتے ہوئے ان کی زبانوں پرمضبوط تالے لگا دئیے ہیں کیونکہ معاہدے کے تحت کھلاڑی آفیشل پریس کانفرنس کے علاوہ کوئی بیان نہیں دے سکیں گے۔ 

تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹرز کو معاہدے کی دستاویز سونپ دی جسے پڑھ کر وہ دستخط کریں گے، اس میں میڈیا اور سوشل میڈیا کے حوالے سے سخت پالیسی بنائی گئی ہے اور کھلاڑی آفیشل پریس کانفرنس کے سواکوئی بیان نہیں دے سکیں گے۔ ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس کی پیشگی منظوری اجازت کے بغیر انہیں کسی ٹورنامنٹ کے دوران اخبارات اور میگزینز کیلئے کالمز لکھنے یا انٹرویوز دینے کی اجازت نہیں ہو گی، وہ ریڈیو یا ٹی وی کے کسی پروگرام میں بھی شریک نہیں ہو سکیں گے، کرکٹرز بورڈ کی سوشل میڈیاپالیسی پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔

ٹیم منیجر یا ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس کی ہدایت پر کھلاڑی کو پریس کانفرنس، ایوارڈ تقریب میں شرکت کرنا جبکہ منظور شدہ میڈیا کو انٹرویوز بھی دینا ہوں گے، کرکٹر کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا، سوشل ویب سائٹ، ویب لاگز، بلاگز یا کہیں اور وہ تنقید یا اختلاف نہیں کرے گا، اسے بورڈ، اس کے آفیشلز، ملازمین، سپانسرز، ٹیم، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی)، اس کے آفیسرز، سپانسرز،میچ آفیشلز کے خلاف طنزیہ یا اختلافی ریمارکس کی بھی اجازت نہ ہو گی، وہ کسی جاری یا آنے والے ٹورنامنٹ، کرکٹ میچ، میچ میں کسی کھلاڑی، سپورٹ سٹاف، میچ آفیشل، سلیکشن کمیٹی کے بارے میں واقعے پر بیان بازی نہیں کر سکے گا۔

پی سی بی کے پروگرامز، سابق انٹرنیشنل کرکٹرز، سابق منتظمین، گراﺅنڈ سٹاف وغیرہ کے بارے میں کوئی نقصان دہ بیان نہیں دے گا، اسے حساس، فرقہ ورانہ، نسل پرستی یا سیاسی موضوع پر تبصرے کی بھی اجازت نہ ہوگی۔ تمام انٹرویوز ٹیم منیجر یا ٹیم میڈیا منیجر کی وساطت سے دئیے جائیں گے، اگر دونوں دستیاب نہ ہوں تو انٹرویوز کی درخواست جائزے اور منظوری کیلئے پی سی بی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے پاس جائے گی، تمام پریس کانفرنسز، اخباری، ریڈیو، ٹی وی انٹرویوز، سوشل میڈیا انٹرویوز یا پوسٹ سپرٹ آف کرکٹ، ایونٹ، پی سی بی اور آئی سی سی ممبرز کو پروموٹ کرنے کیلئے دئیے جائیں گے۔

کرکٹر کو اپنا پرائیویٹ یوٹیوب چینل یا کسی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کوئی چینل چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ وہ ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس یا پی سی بی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر کسی نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطور اینکر، ایکسپرٹ یا مہمان منسلک نہیں ہو سکے گا، کھلاڑیوں کو بیگو لائیو یا ایسی دیگر ایپس کے استعمال سے سختی سے روکا گیا ہے، اگر اسے ایسے پلیٹ فارمز سے کوئی درخواست ملے تو مشورے کیلئے لازمی طور پر ٹیم منیجر یا پی سی بی ڈیجیٹل ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کرنا ہو گا۔ کرکٹر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم اکاﺅنٹ کو چلانے کا خود ہی ذمہ دار ہوگا، اسے کھیل، پی سی بی اور ایونٹ کی ساکھ متاثر کرنے والی کوئی پوسٹ کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔

مزید :

کھیل -