طالبان پر بات،کشمیر پر خاموشی دہرا معیار،امریکی عوام افغانستان کی صورتحال سے مکمل بے خبر،واشنگٹن کو ماننا ہوگا ہر بات کا ذمہ دار پاکستان نہیں:وزیر اعطم

طالبان پر بات،کشمیر پر خاموشی دہرا معیار،امریکی عوام افغانستان کی صورتحال ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے پاک چین تعلقات مزید مضبوط ہونگے، امریکی عوام افغانستان کی صورتحال سے مکمل بے خبر ہیں، نا ئن الیون سے ہمارا کوئی لینا دینا تھا،نہ ہی اس میں کوئی پاکستانی شامل تھا،القاعدہ افغانستان میں تھی،اسوقت پاکستان میں کوئی مسلح طالبان نہیں تھا،دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 35لاکھ لوگ بے گھر ہوئے، علاقے کو خطرناک جگہ قرار دیا گیا، ہماری معیشت کو 150ارب ڈالر کا نقصان ہوا، یہ سب امریکہ کا اتحادی بننے کی وجہ سے ہوا،ہماری قربانیوں کو سرا ہنے کے بجائے اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے ہمیں قربانی کا بکرا بناکر پیش کیا جا رہا ہے، جو انتہائی تکلیف دہ عمل ہے، امریکہ کو سوچنا ہو گا ہر بات کاذمہ دار پاکستان نہیں ہو سکتا،ہم امن کیلئے بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، افراتفری پھیلنے سے سب سے زیادہ نقصان افغان عوام کا ہو گا، مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں، انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھار ت اور مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالے مظالم کو اجاگر کرنا چاہیے،کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے فورم اور ہر بین الاقوامی فورم پر اٹھانے کی ضرورت ہے، لوگ طالبان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بات کرتے ہیں لیکن جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے انہیں نظر نہیں آتا، امتیازی رویہ نہ اختیار کریں، 9لاکھ بھارتی افواج نے 80لاکھ کشمیریوں کو ایک طرح کی اوپن جیل میں رکھاہوا ہے،جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے ہمیں اس پر بات کرنا ہو گی،ہفتہ کو ترک ٹی وی کو دئے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اگلے سال 95فیصد سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے آئیں گے، اسلئے افغان مسئلے کا حل تلاش کرنا ہو گا، جلد یا بدیرہمیں افغان عوام کا سوچنا ہو گا، ایسا نہ ہوا تو افغان آبادی کیلئے بحران گہرے سے گہرا ہوتا جائیگا۔ پاکستان اور افغانستان کے تاریخی قریبی تعلقات ہیں، افغانستان نے کبھی بیرونی طاقتوں کو قبول نہیں کیا، سرحد کے دونو ں طرف پشتون آباد ہیں، پشتون لوگوں میں مذہبی اور قومیت کی سطح پر گہرا تعلق ہے،ہو سکتا ہے پشتون قبائل آپس میں لڑ رہے ہوں مگر جب غیر ملکی آتے ہیں تو سب متحد ہو جاتے ہیں، کسی پشتون کو قتل کر دیا جائے تو پشتون بدلہ لیتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا جنرل کیانی نے سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کو واضح کہا تھا افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں اگر آپ افغانستان سے نکلیں گے تو افغان فوج ہتھیار ڈال دے گی اور پاکستان پر اس کے اثرات پڑیں گے۔میں نے بھی افغانستان کے جنگی حل کی مخالفت کی تھی، یہ مضحکہ خیز ہے کہ امریکی پالیسیوں پر تنقید کی جائے تو ہم امریکہ کے مخالف گردانے جاتے ہیں۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں جب ہم امریکہ کے اتحادی بنے تو طالبان نے ہمیں امریکہ کا ساتھی تصور کیا اور ہم پر حملے شروع کر دیئے، پاکستانی عوام پر ڈرون حملے اور بم دھماکے کئے گئے،ملک میں مسلح افراد کا اضافہ ہوا۔ امریکہ کو سوچنا ہو گا ہر بات کاذمہ دار پاکستان نہیں ہو سکتا، جدید اسلحہ سے لیس تین لاکھ افغان فوج نے ہتھیار ڈال دیئے، یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہوا،میں نے 2008میں امریکی تھنک ٹینک سے خطاب کیا،سینیٹر جان کیری اور جوبائیڈن سے ملاقات کی انہیں سمجھانے کی کوشش کی مجھے اس وقت احساس ہوا کہ انہیں افغانستان کے حالات کی خبر ہی نہیں،امریکی عوام افغانستان کی صورتحال سے مکمل بے خبر تھی، امریکی سمجھتے تھے کہ افغانستان میں جمہوریت ہے، عورتوں کو حقوق دیئے جا رہے ہیں، اچانک طالبان آنے سے ان کو شدید دھچکا لگا۔ امریکی صدر جارج بش کا رویہ سامراج کا عکاس تھا،نائن الیون کے بعد انہوں نے حیران کن بیانات دیئے کہ آپ ہماری پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتے تو آپ ہمارے مخالف ہیں۔ عمران خان نے کہا افغانستان کی صورتحال کا کوئی اور ذمہ دار ہو سکتا ہے سیاسی حیثیت سے کہتا ہوں سیاسی حل ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، ہم نے بلوچ عسکری پسندوں سے بھی بات کی اور سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا میرا مشاہدہ ہے کہ جن لوگوں سے آپ کا اتحاد ہو آپ ان کی انسانی حقوق کی زیادتیوں سے قطع نظر ہو جاتے ہیں اور آپ کی توجہ مخالف بلاک پر ہوتی ہے جب کوئی دوسرا انسانی حقوق کی زیادتیوں کا تذکرہ کرتے تو آپ کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ ہم نے امریکہ اور سوویت یونین میں سرد جنگ دیکھی اس وقت دنیا دو کیمپوں میں تقسیم ہو گئی تھی، خواہش ہے دوبارہ ایسا نہ ہو، تقسیم کی بجائے مل کر بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے،ہم نے فروری 2020سے اب تک چینی وزیراعظم  سے تین بار بات کی، میرا خیال ہے صدر شی جن پنگ کورونا وباء کی وجہ سے خود کو محدود کرلیا ہے، انہوں نے پاکستان کا دورہ کرنا تھا ان دنوں وہ چین سے باہر بھی نہیں گئے،آنیوالے دنوں میں صدر شی سے بات ہو گی،ہمارا چین سے بہت مضبوط تعلق ہے،70سالہ یہ تعلق مزید مضبوط ہو گا، یہ دوستی نشیب و فراز کے باوجود ہر آزمائش پر پورا اتری،سی پیک منصوبہ درست سمت میں جا رہا ہے، بدقسمتی سے کورونا وباء نے دنیا بھر کیلئے رکاوٹیں پیدا کیں، اس سے رابطے متاثر ہوئے، کورونا وباء نے پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کیا، چیزوں کی قیمتیں بڑھیں، ترقی یافتہ ممالک بھی اس سے متاثر ہوئے، پاکستان میں مہنگائی درآمد ہونیوالی اشیاء کیوجہ سے ہے، پچھلے پانچ ماہ میں خوردنی تیل کی قیمت میں 80فیصد اضافہ ہوا، ہمیں گندم باہر سے برآمد کرنا پڑی جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا، یہ مہنگائی عارضی ہے، راستے کھلنے سے اشیاء کی قیمتیں معمول پر آ جائیں گی۔ پاکستان میں اپوز یشن اپنی مفاد کی جنگ لڑ رہی ہے، یہ مختلف لوگوں کا مجموعہ ہے، ان کی رائے تقسیم ہے، ان کیخلاف کرپشن کے بڑے الزامات ہیں، پاکستان کی دوبڑی جماعتیں دراصل فیملی لمیٹڈ کمپنیاں ہیں، ان دونوں خاندانوں نے ملک کو لوٹا، اسی وجہ سے ملک ابتری کا شکار ہے، اس ملک نے کورونا وباء سے بہتری طریقے سے مقابلہ کیا، لوگوں کو معاشی بحران سے بچایا، اپوزیشن کا کام ہے کہ مسائل سامنے لانا لیکن اپوزیشن سیاست کر رہی ہے۔

وزیراعظم

مزید :

صفحہ اول -