تحقیقات مکمل ایک اور تہلکہ خیز عالمی سکینڈل”پنڈورا پیپرز“منظر عام پر آنے کو تیار

تحقیقات مکمل ایک اور تہلکہ خیز عالمی سکینڈل”پنڈورا پیپرز“منظر عام پر آنے ...

  

     اسلام آباد(این این آئی)دنیا میں ہلچل مچانیوالے پانامہ پیپرز کی طرز پر ایک اور عالمی سکینڈل منظر عام پر آنیوالا ہے۔پاناما پیپرز کی طرز پر دنیا کی نامور اور بڑی شخصیات کے مالی امور کے حوالے سے ایک بہت بڑی بین الاقوامی تحقیق مکمل ہوگئی۔بین الاقوامی تحقیق ”پنڈورا پیپرز“ ایک کروڑ 19 لاکھ فائلوں پر مشتمل ہیں،جسے آج بروز اتوار کی رات کو  آئی سی آئی جے کی جانب سے شائع کئے جانے کا قوی امکان ہے۔نامور شخصیات کے مالی امور کی بین الاقوامی تحقیق میں دوپاکستانی صحافیوں سمیت دنیا بھر کے 600 سے زائد رپورٹر ز جبکہ 117 ملکوں کے 150 میڈیا اداروں نے حصہ لیا،اعداد و شمار جمع اور تعاون کرنے کے حساب سے”پنڈورا پیپرز“ پاناما پیپرز سے زیادہ بڑے ہیں، دنیا کی صحافتی تاریخ میں کسی تحقیق پر کام کرنیوالی یہ سب سے بڑی صحافتی ٹیم ہے،یہ  عالمی تحقیقات جو 2016 کے پاناما پیپرزکوبھی پیچھے چھوڑدیگی، پنڈورا پیپرز میں کئی پاکستانی شخصیات کی مالی تفصیلات بھی شا مل ہیں۔واضح رہے سپریم کورٹ نے شریف خاندان کیخلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ اس وقت کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا تھا۔بڑے پیمانے پر خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر کے چوٹی کے امیر اور طاقتور افراد اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں۔ یہ دستاویزات پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے افشا ہوئیں اور ان کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔فائل سے معلوم چلتا ہے کہ کس طرح موساک فونسیکا کے گاہکوں نے کیسے منی لانڈرنگ کی، پابندیوں سے بچے اور ٹیکس چوری کی۔ ایک کیس میں اس لا کمپنی نے ایک امریکی لکھ پتی کو جعلی مالکی حقوق کے دستاویزات دیے تاکہ حکام سے دولت چھپا سکے۔ یہ بین الاقوامی ریگلولیشن کی خلاف ورزی ہے جو منی لانڈرنگ کو روکنے اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے ہے۔ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات جرمن اخبار سودیوچے زیتنگ نے حاصل کیے، جس نے انھیں تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیا۔یہ کنسورشیم76 ملکوں کے 109 میڈیا آرگنائزیشنز کے صحافیوں پر مبنی ہے۔ اس میں برطانوی اخبار گارڈیئن بھی شامل ہے اور ان دستاویزات کا تجزیہ کرنے میں ایک سال سے زیادہ لگا۔بی بی سی کو دستاویزات کو لیک کرنے کے ذرائع کی شناخت کا علم نہیں ہے۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی لیکس ہیں جس کے مقابلے میں وکی لیکس بھی چھوٹے ہیں۔ پاناما لیکس میں دو لاکھ 14 ہزار افراد، کمپنیوں، ٹرسٹ اور فانڈیشن کی تفصیلات ہیں۔ان دستاویزات میں 1977 سے لے کر 2015 دسمبر تک کی معلومات موجو ہیں۔ ان دستاویزات کا بڑا حصہ ای میلز پر مشتمل ہے لیکن معاہدوں اور پاسپورٹس کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

عالمی سکینڈل

مزید :

صفحہ اول -