وزیر اعطم اپوزیشن پر مقدمات،طالبان سے مذاکرات چاہتے ہیں،سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں الیں:اپوزیشن

  وزیر اعطم اپوزیشن پر مقدمات،طالبان سے مذاکرات چاہتے ہیں،سٹیک ہولڈرز کو ...

  

     لاہور(جنرل رپورٹر)مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت کالعدم ٹی ٹی پی کو این آر اور دے رہی ہے، وزیراعظم اپوزیشن پر جھوٹے مقدمات اور طالبان کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں، یہ شہدا ء کے ورثا کا حوصلہ بھی چھین رہے ہیں،افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان پربھی پابندیاں لگانے کاسوچاجارہاہے اور وزیراعظم عمران خان کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی بات کررہے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ معیشت کا حال یہ ہے کہ ڈالر 172 روپے پر بھی نہیں رک رہا، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، ان کے ماضی کے دعوے کہاں گئے،گندم اپنے ملک سے زیادہ قیمت پر درآمد کی جارہی ہے،چینی 115 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم اپوزیشن لیڈر کے ساتھ بات چیت کرنے کو تیار نہیں، اپوزیشن سے بات کرنا توہین سمجھا جاتا ہے، وزیراعظم اپوزیشن پر جھوٹے مقدمات اور طالبان کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں، عمران خان سانحہ اے پی ایس کے ذمہ داروں کو این آر او دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام ہمارا ساتھ دے کر کٹھ پتلی کا خاتمہ کریں،سلیکٹڈ ٹولے نے سیاسی رواداری ختم کر دی۔

رانا ثناء اللہ 

لالہ موسیٰ(این این آئی)طالبان سے مذاکرات سے قبل حکومت کو تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہیے،چیئرمین نیب کے حوالے سے حکومت جو مرضی کرلے بالآخر آئین کے مطابق کرنا پڑے گا۔ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔قمر زمان کائرہ نے طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فوجی،پولیس اہلکار،معصوم بچے شہید ہوئے،میری لیڈر محترمہ بینظیر بھٹو شہید،میرے بھائی توقیر کائرہ سمیت دیگر سارے اس مقدمہ کے سٹیک ہولڈرز ہیں حکومت اگر اپنے طور پر ان معاملات کا حل نکالنا چاہے گی تو غلط فیصلہ کریگی حکومت کو پارلیمان،پارلیمانی قیادت یا نیشنل ایشو پر بنی پارلیمانی کمیٹی کے اندر بحث کرنی چاہیے حکومت اگر خود کو اکیلا عقلمند سمجھتے ہوئے خود ہی کوئی فیصلہ کریگی تو بسے سمجھنا چاہیے کہ یہ حساس مسئلہ ہے اور قوم کے دلوں کے ساتھ جڑا ہے اس پر مشاورت سے لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین نیب کے معاملے پر حکومت جو مرضی کرلے آئین میں جو لکھا وہی کرنا پڑے گا بڑھکیں مارنی ادھر ادھر دوڑنے یا غیر ئینی حرکتیں کرنی ہیں اس کے پارلیمان کے اندر سے ہوا یا عدالتوں کے ذریعے ہوا یا احتجاج سے ہوا حکومت کو ئین کے تحت چلنا پڑیگا حکومت کی نیت درست نہیں۔ شہباز شریف پر کیس ثابت نہیں بلکہ الزام ہے اس طریقے سے چلنا ہو تو جس پر مرضی الزام لگا لو،ایف آئی آر درج کردو شہباز شریف لیڈر آف دی اپوزیشن ہیں حکومت پابند ہے حکومت اگر چیئرمین نیب کو ایکسٹینشن دینا چاہتی ہے تواس کے لیے قانون بنانا پڑے گا، مشاورت کے ذریعے جو چیئرمین بنا وہ آئین کے تحت بنا نہ کہ قانون کے تحت،آرڈیننس کے ذریعے آئین میں تبدیلی نہیں ہوتی،آئین کے تحت چیئرمین نیب کی مدت چار سال ہے اس سے زیادہ نہیں اسے بڑھایا نہی جاسکتا اور آئین کہتا کہ یہ وزیر اعظم و اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے ہوگا آرڈیننس کے ذریعے بھی اگر مدت بڑھانی تو پھر بھی مشاورت کرنی ہے اگر حکومت نے ایسا کچھ کیا تو اسٹرائیک ڈاؤن ہوگا۔

قمر زمان کائرہ

مزید :

صفحہ اول -