مہنگائی کا نیا طوفان آنے کو تیار

مہنگائی کا نیا طوفان آنے کو تیار

  

یہ ایک ناقابل ِ تردید حقیقت ہے کہ پٹرول کی قیمت کے اثرات براہِ راست اشیائے ضروریہ پر اثر انداز ہوتے ہیں،مہنگائی مزید بڑھتی جا رہی ہے، یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس کا سب سے زیادہ اور براہِ راست اثر متوسط طبقے یا خط ِ غربت کے قریب زندگی گذارنے والوں پر پڑتا ہے۔وجہ جو بھی بیان کی جائے، اور وزرائے کرام کتنے ہی لچھے دار الفاظ استعمال کیوں نہ کریں، پر پی ٹی آئی کی حکومت میں ہر چیز مہنگی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں ساڑھے تین ماہ کے دوران سات بار اضافہ ہوا، حالیہ اضافے کے بعد تو ایسا لگتا ہے کہ اشیائے صرف کی قیمتوں کو پَر لگ گئے ہیں۔ صرف ستمبر کے مہینے میں مہنگائی بڑھ کر نو فیصد ہو گئی ہے۔ صرف آٹا 9.6 اور گندم7.31 فیصد مہنگا ہوا، ایل پی جی مصنوعات میں 7.22فیصد اضافہ ہوا،جس کے بعد سبزیاں، انڈے اور مرغی کے گوشت کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں،بات صرف پٹرول مہنگا ہونے کی نہیں، گیس مزید270فیصد مہنگی کرنے کی تجویز بھی سننے میں آ رہی ہے، بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ اضافے کی تجویز بھی زیر گردش ہے۔ دوسری جانب ڈالر کی بلند پروازکو بھی نہیں روکا جا سکا، پاکستانی روپیہ روزانہ قدرکھو رہا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا دعویٰ ہے کہ پٹرولیم کی قیمتیں اب بھی خطے میں سب سے کم ہیں،اور پاکستان اس حوالے سے17ویں نمبر پر ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حالیہ قیمتوں میں اضافے سے حکومت کو دو ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ وزراء یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان دنیا کے  دس سستے ترین ممالک میں شامل ہے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ وزراء یا حکومتی عہدیدار جب یہ تقابل کرتے ہیں تو انہیں دیگر ممالک کی معیشت کے دیگر اعشاریوں کے ساتھ اپنی معیشت کا مقابلہ کرنا کیوں بھول جاتا ہے، غریب عوام اُن کی اِن تاویلوں کو سننا نہیں چاہتے،انہیں سستا آٹا، گھی، چینی چاہئے تاکہ وہ کم از کم اپنے پیٹ کی آگ بجھا سکیں۔ بچوں کی تعلیم، روزگار اور صحت کے مواقع تو خیر اب خواب ہو کر رہ گئے ہیں۔ مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ایک کڑی شرط رکھ دی ہے کہ حکومت آٹے، دال، گھی کے علاوہ گیس اور بجلی پر بھی سبسڈی ختم کر دے۔دوسری جانب حکومت ان چیزوں پر سبسڈی دینے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ پاکستان کو سستا ترین اور قیمتوں کو خطے میں سب سے کم قرار دینے والے حکومتی عہدیداروں سے سوال ہے کہ کیا کبھی انہوں نے پاکستانیوں کی فی کس آمدنی کا تقابل خطے کے باقی ممالک سے بھی کیا ہے،پاکستان میں بے روزگاری کی شرح ماضی کے مقابلے میں 7فیصد سے اوپر جا چکی ہے، روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، اب اس صورتِ حال میں صرف بیانات سے کام نہیں چلنے والا۔

وزیراعظم عمران خان مہنگائی پر قابو پانے کے حوالے سے گاہے بگاہے بیانات دیتے رہتے ہیں،لیکن عملی طور پر ان کے ان بیانات کے اثرات دیکھنے کو نہیں ملتے،اب تو بات اِس حد تک چلی گئی ہے کہ وہ یوٹیلٹی سٹورز جہاں عام آدمی کو اشیائے خوردونوش نسبتاً کم قیمت پر مل جایا کرتی تھیں، اب وہاں پر بھی مہنگائی نے اپنے پنجے گاڑ لیے ہیں اور قیمتوں میں پے در پے اضافے کے بعد عام آدمی کے لئے آسانی کا یہ باب بھی بند ہوتا نظر آ رہا ہے، مختلف شہروں میں پناہ گاہوں کا قیام اور کوئی بھوکا نہ سوئے پیکیج کے تحت ضرورت مندوں میں خوراک کی فراہمی ایک اچھا قدم سہی۔تاہم عوام کو مچھلی کھلانے سے کہیں بہتر ہے کہ اُنہیں مچھلی پکڑنا سکھایا جائے۔کیا کوئی سفید پوش تقسیم ہوتے کھانے کی قطاروں میں کھڑا ہو کر حکومت کو خراجِ تحسین پیش کر سکتا ہے۔کیا وہ اپنے معصوم بچوں کی انگلی پکڑ کر ان دستر خوانوں تک آ سکتا ہے، جن کا چرچا کیا جا رہا ہے، کرایہ ادا نہ کرنے پر خالی کرائے گئے مکانوں میں رہنے والے کنبے کیا پناہ گاہوں میں سو سکتے ہیں،اب تو بجلی اس سطح پر مہنگی ہو گئی ہے کہ غریب گھروں میں ایک پنکھا چلانا بھی محال ہوتا جا رہا ہے۔ سردیاں آنے والی ہیں اور گیس کی قیمتوں میں پونے تین سو فیصد اضافے کی تجویز ہے۔ اس صورتِ حال میں گھروں کے چولہے کیسے جلیں گے،شنید یہ ہے کہ آنے والے دِنوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں دس تا پندرہ فیصد اضافہ ہو سکتا ہے، حالات ایسے  ہیں کہ غریب تو غریب  متوسط طبقے کو بھی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان سے اب بھی ان کے فین کلب کو آس اور امید ہے،کچھ عرصہ بعد انتخابات کا غلغلہ بلند ہونے والا ہے۔پی ٹی آئی ووٹ لینے عوام میں جائے گی، یقینا وزیراعظم عمران خان کو اس صورتِ حال کا ادراک ہو گا اب بھی وقت ہے حکومت اپنی ترجیحات میں مہنگائی اور غربت کے خاتمے کو سامنے رکھے،ٹیکس کولیکشن کو بہتر بنایا جائے، گراں فروشوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کئے جائیں،من مانی قیمتیں وصول کرنے والوں کو روکا جائے، انتظامی اقدامات کو موثر بنایا جائے، کچھ کر کے دکھایا جائے تو صورتِ حال کسی حد تک قابو میں آ سکتی ہے۔اب بھی وقت ہے ہمارا مشورہ ہے کہ حکومت صورتِ حال کی سنگینی کا احساس کرے،کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر  ہو جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -