پیپلزپارٹی کا مستقبل کیا ہے؟

 پیپلزپارٹی کا مستقبل کیا ہے؟
 پیپلزپارٹی کا مستقبل کیا ہے؟

  

پاکستان پیپلزپارٹی لاہور کے صدر الحاج عزیز الرحمن چن کی قیادت میں پیپلزپارٹی کی طرف سے لاہور پریس کلب کے باہر مہنگائی کے خلاف مظاہرہ کیا گیا، اس میں درجنوں کارکنوں کے علاوہ وسطی پنجاب کے سینئر نائب صدر اور بعض دوسرے عہدیدار بھی شریک ہوئے۔ البتہ خود صدر راجہ پرویز اشرف قومی اسمبلی کے اجلاس کی وجہ سے نہیں آئے اور انہوں نے کارکنوں کو اپنی اس ”سعادت“ سے محروم رکھا، البتہ وہ اس سے دو روز قبل لاہور آئے اور اپنے جنرل سیکرٹری سمیت ایک مختصر وفد کے ساتھ ہمارے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی کی رہائس پر گئے۔ انہوں نے وہاں شامی صاحب کے بڑے بھائی ضیاء الرحمن شامی کی وفات پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی،یہ بھی لازم ہے کہ انہوں نے اس موقع پر سیاسی گفتگو بھی کی ہوگی۔ جس کا ہمیں علم نہیں، بہرحال ہمارے ہی اخبار کے سٹاف رپورٹر کی خبر ہے کہ راجہ پرویز اشرف نے جو سابق وزیراعظم بھی ہیں (ان کو سابق کی حیثیت سے سرکاری پروٹوکول بھی ملتا ہے) اس دورے کا فائدہ اٹھایا اور پنجاب کے دفتر میں چند عہدیداروں سے بات چیت بھی کی اس کا مقطع یہ تھا کہ پیپلزپارٹی کے کارکن عام انتخابات کے لئے تیاری کریں، جو پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بقول اور اب ان (راجہ) کے مطابق جلد ہونے والے ہیں، میں نے ابتدا مہنگائی کے خلاف مظاہرے کی اطلاع سے کی تھی کہ پیپلزپارٹی نے ایسے مظاہرے کراچی اور راولپنڈی میں بھی کئے،جبکہ دوسری اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر سینیٹ، قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے اجلاسوں میں احتجاج بھی کیا اب میں گزارش کروں کہ ان مظاہروں کا ذکر کرنے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ کارکنوں کو نئے انتخابات کی نوید سنائی جا رہی ہے اور مجھے مظاہرین کی تعداد سے عبرت ہو رہی تھی۔ کراچی اور راولپنڈی کے مظاہروں کے حوالے سے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن لاہور والا مظاہرہ پیپلزپارٹی کے شایان شان نہیں تھا اور نہ ہی اس سے کہیں یہ مترشح ہوا کہ یہ جماعت پنجاب (خصوصاً وسطی پنجاب) میں کوئی بڑا معرکہ سرانجام نہیں دے پائے گی، اسی لئے شاید ایک سینئر ترین پارٹی رہنما جو وکیل ہیں، انہوں نے ایک مہربان سے خود ہی سوال کیا کہ راجہ پرویز اشرف کی بطور صدر نامزدگی سے کیا ظاہر ہوتا ہے اور بعد میں خود ہی تشریح بھی کر دی کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے وسطی اور جنوبی پنجاب سے بھی ہاتھ کھڑے کر دیئے اور آئندہ پارٹی کا کوئی چانس نہیں، یہ میں خود سے نہیں کہہ رہا نام بوجوہ نہیں لکھ رہا کہ اب تک ہر دو حضرات (کہنے اور سننے والے) کا یہ مکالمہ پارٹی والوں کے علم میں آ چکا ہوگا۔

میں آج پھر عرض کروں کہ میرے کہے پر کوئی یقین نہیں کرتا اور میرے ساتھیوں سمیت حضرات مجھے پیپلزپارٹی کا کہتے ہیں، میں نے لاکھ کہا کہ ابتدا میں ضرور ذوالفقار علی بھٹو اور پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت کا معترف رہا ہوں۔ ذوالفقار علی بھٹو سے تو محبت بھی کی، تاہم میں کبھی پیپلزپارٹی کارکن نہیں رہا اور نہ ہی ایسا ہم خیال کہ جو یہ کریں اس کی تائید کرتا رہوں، میں آج تنقید کرتے ہوئے بھی یہ مانتا ہوں کہ یہ جماعت اپنے منشور اور پروگرام کے لحاظ سے حقیقی لبرل جماعت تھی اور ایک حد تک اب بھی ہے اگرچہ منشور کا وہ حصہ کہ ”طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں“ اور ”سوشلزم ہماری معیشت ہے“ کب کا آسمان کی وسعت میں گم ہو چکا اور ’مفادات‘ کا غلبہ ہو گیا ہے۔

اب اصل موضوع پر آ جائیں، مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف نے نعرہ دیا ”ووٹ کو عزت دو“ اور یہ ان کی جماعت نے قبول بھی کیا، مجھے اس وقت مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے ہونے والی باتوں اور تبدیلیوں کا ذکر نہیں کرنا میں تو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پیپلزپارٹی کے نوجوان کارکنوں نے ایک تحریک شروع کر دی، اوکاڑہ کے ایک نوجوان نے اس کا نام پیپلزپارٹی بچاؤ تحریک رکھا اور نعرہ لگایا ”کارکنوں کو عزت دو“ ہے نہ دلچسپ، چلو مسلم لیگ (ن) کا عوامی سطح پر تو شاید پنجاب میں مقابلہ نہ کیا جا سکے، لیکن اس نعرے میں جان ہے کہ مجھے اس کے اثرات کا اندازہ سوشل میڈیا سے ہوا کہ اسے پذیرائی ملی ہے اور حامیوں میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، جس کا مطلب یہی ہے کہ جس نوجوان نسل پر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے مستقبل کے لئے انحصار کا عمل شروع کیا، وہ بھی اب پارٹی قائدین سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں اور پیپلزپارٹی کے مظاہرے سے اس کی حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے، یوں بھی محترم راجہ پرویز اشرف کو چار ماہ سے زیادہ ہو گئے،وہ چیف آرگنائزر سے صدر بھی بن گئے اور ان کے پاس صرف یہ الفاظ ہیں کہ کارکن انتخابات کی تیاری کریں، بھائی! محترم کارکن ہوں گے تو تیاری کریں گے یہاں تو وہی چہرے ہیں جو مختلف عہدوں سے چپکے شکر کر رہے ہیں کہ راجہ پرویز اشرف نے اپنا تنظیمی کام کرنے کی بجائے، سابقہ تنظیموں کو ہی بحال رکھا کہ وقت نہیں ہے، اس لئے میں معذرت کے ساتھ عرض گزار ہوں کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں اپنی رہتی سہتی ساکھ بھی ختم کرنے کے درپے ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا ایک سے زیادہ بار پروگرام بنا کہ وہ لاہور میں بیٹھ کر وسطی پنجاب کے دورے کریں گے۔ اس پر اب تک عمل نہیں ہوا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ حالیہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کا نام و نشان نہیں ملتا، حتیٰ کہ جس جنوبی پنجاب کا تفصیلی دورہ کرکے بلاول بھٹو زرداری نے بھٹو اور بے نظیر کے چاہنے والوں کو گھروں سے نکالا۔ اس کے مطابق کنٹونمنٹ انتخابات میں کوئی اثر دکھائی نہیں دیا، اس لئے میں دیانت داری سے عرض کرتا ہوں کہ موجودہ تنظیمی صورت حال میں انتخابی عمل کے دوران وسطی پنجاب تو کجا جنوبی پنجاب سے بھی پارٹی کوئی معرکہ سرانجام نہ دے سکے گی اور اس کا نتیجہ صفر بٹا صفر ہو گا۔

میرے لئے اور معتدل مزاج حضرات کے لئے یہ صدمے کی بات ہے کہ ایک ایسی جماعت جس کے بانی قائد نے عوام کو بولنے اور ظالموں کا سامنا کرنے کی طاقت دی۔ آج اس کا یہ حال ہے کہ اسے احتجاج کے لئے لاہور پریس کلب کے باہر آنا پڑتا ہے۔ میری گزارش یہ ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ توجہ دیں اور پارٹی کو منظم کریں کہ برسراقتدار حکومت کی طرف سے مہنگائی اور بے روزگاری کے سونامی نے موقع پیدا کر دیا ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر خلا تو پُر ہونا ہے۔ مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان ہوگا اور یہ بھی عرض کر دوں کہ سازشی تھیوریوں کا بھی وقت پورا ہو چکا۔اب ان کی بھی گنجائش نہیں کہ آثار کے مطابق ایمپائر واقعی ”غیر جانبدار“ ہو چکا۔

مزید :

رائے -کالم -