طالبان کا نیا افغانستان

طالبان کا نیا افغانستان

  

آج سے تقریبا چار دہائیوں قبل جب اس وقت کی سپرپاور سویت یونین نے گرم پانیوں کی تلاش میں افغانستان میں قدم رکھا تھا تو ان کو بھی تاریخ کا یہ سبق بھول گیا تھا کہ افغان سرزمین پر قبضہ کرنا کبھی کسی طاقت کے لیے ممکن نہیں رہا۔ سویت یونین کی افغانستان میں ہزیمت میں پاکستان کا اہم کردار تھا اور ہمیں یہ تاریخی حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ اس وقت کی دوسری سپرپاور امریکا افغان مجاہدین کی پشت پناہی کررہی تھی۔سویت یونین کی شکست کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہوگئی تھی اور مجاہدین کے مختلف گروپس اقتدار کی کشمکش میں لگ گئے جس کی وجہ افغان جہاد کے ثمرات زائل ہونے لگے تھے۔ایسے وقت میں قندھار سے ایک نئی تحریک نے سرابھارا اور ملا عمر کی قیادت میں تحریک طالبان افغانستان کا قیام عمل میں آیا۔ طالبان مختلف مدارس کے تعلیم یافتہ وہ طالب علم تھے جو اپنی سرزمین پر ہونے والی خانہ جنگی سے شدید اضطراب کا شکار تھے اور چاہتے تھے کہ افغانستان میں اللہ کے قانون کا نفاذ ہو۔ اپنی نیک نیتی کی وجہ سے انہوں نے جلد افغانستان پر حکومت قائم کر کے امارت اسلامیہ کی بنیاد رکھی۔ملا عمر مجاہد کی قیادت میں بننے والی اس اسلامی حکومت کو دنیا کے بیشر ممالک نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔  پاکستان ان تین ممالک میں شامل تھا جس نے اس وقت کی افغان حکومت کو تسلیم کیا۔پاکستان پر طالبان کو تشکیل دینے کے الزامات بھی لگتے رہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان طالبان کے اہم رہنما پاکستانی مدارس میں زیر تعلیم رہے تھے اورخصوصاً اکوڑہ خٹک میں واقع مولانا سمیع الحق کے مدرسے سے فارغ التحصیل طالبان کی ایک بڑی تعداد تھی۔

9/11 کے بعد افغانستان کی صورت حال میں ایک ڈرامائی موڑ آیا اور امریکا نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں حملوں کا ذمہ دار القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو قرار دیتے ہوئے طالبان حکومت سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ طالبان کا موقف تھا کہ اسامہ ان کا مہمان ہے اور اگر وہ امریکا میں ہونے والے حملوں میں ملوث ہے اس کے ثبوت فراہم کیے جائیں جو امریکا آج تک فراہم نہیں کر سکا۔امریکا نے اسامہ کی افغانستان میں موجودگی کو جواز بناتے ہوئے سویت یونین والی غلطی دوہرائی اور افغان سرزمین پر چڑھ دوڑا۔اس مرتبہ امریکا اکیلا افغانستان میں داخل نہیں ہوا بلکہ 55 دیگر ممالک کی افواج بھی اس کے ساتھ تھی۔طالبان نے کمال حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے تمام اہم علاقے خالی کردیئے اور مضافاتی علاقوں سے ایک طویل جنگ کا آغاز کردیا۔امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے افغان طالبان لوہے کے چنے ثابت ہوئے۔۔۔دنیا کی جدید ٹیکنالوجی اور تمام تر وسائل رکھنے والے ممالک کو افغان طالبان نے تگنی کا ایسا ناچ نچوایا جو ان کو طویل عرصے تک یاد رہے گا۔حامد کرزئی اور اشرف غنی جیسے کٹھ پتلیوں کے ذریعے افغانستان کو کنٹرول کرنے کا امریکی اور اس کے اتحادیوں کا منصوبہ بری ناکام ثابت ہوا اور طالبان نے بہت حکمت عملی کے ساتھ ثابت کردیا کہ آج بھی جنگوں کے لیے ہتھیار سے زیادہ جذبوں کی ضرورت ہے۔۔یہاں یہ بات بلاشک و شبہ کہی جاسکتی ہے کہ افغانستان میں امریکا کو ویت نام سے بھی بدتر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

امریکا نے گذشتہ20سال کے دوران افغانستان میں جاری جنگ میں دو ہزار ارب ڈالر کی رقم خرچ کی، ایک رپورٹ کے مطابق امریکا نے براہ راست 800 ارب ڈالر جبکہ 83 ارب ڈالر افغان آرمی کی تربیت پر خرچ کیے۔ اگر امریکا کی جانب سے اخراجات کا یہ تسلسل سال 2050 تک جاری رہتا تو اخرات 6 ہزار 500 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے تھے جس کے باعث ہر امریکی شہری 20 ہزار ڈالر کا مزید مقروض ہو جاتا۔ امریکی صدر جوبائیڈن کے مطابق امریکا افغانستان میں جنگ کے دوران روزانہ 30کروڑ ڈالر خرچ کر رہا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق جنگ کے باعث 2ہزار 448 امریکی فوجی مارے گئے تقریباً4 ہزار افغان کنٹریکٹرز کو بھی جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اس کے علاوہ 66ہزار افغان ملٹری اور پولیس اہلکار بھی مارے گئے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے ان اخراجات میں امریکی اور افغان فوجیوں کے علاج اور تدفین پر خرچ ہونے والی رقم شامل نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے اب تک افغان جنگ میں خرچ کی گئی رقم بل گیٹ، ایلن میسک اور دیگر 30امریکی امیر ترین افراد کی کل دولت سے بھی زیادہ ہے۔یہ وہ بھیانک صورت حال تھی جس نے امریکا کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کیا ہے۔ افغانستان میں طالبان کی کامیابی کا دوسرا بڑا متاثر ملک بھارت ہے جس نے پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے لیے افغان سرزمین کو اپنا مرکز بنایا ہوا تھا اور وہاں اس نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی تھی۔

کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری رپورٹ کے مطابق بھارت نے بہت کوششیں کی کہ افغانستان میں جنگ جاری رہے۔ افغانستان سے امریکا کے جبری انخلا نے افغانستان میں پاکستان کے کردار کو کم کرنے کے بھارتی خوابوں کو چکنا چورکردیا۔ بادل ناخواستہ اسے قندھار اور دیگر مقامات پرقونصل خانے بندے کرنے پڑے جو پاکستان کے خلاف سازشوں کے اڈے تھے۔۔ معتبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قندھار سے بھاگنے والے زیادہ تر بھارتی حکام کے ساتھ منسلک تھے۔ بھارت افغانستان میں مشکلات پیدا کرنے اور وہاں خانہ جنگی جاری رکھنے کے لیے کئی مخصوص گروپوں کو ہتھیار فراہم کررہا ہے۔چونکہ اسے بین الاقوامی مافیا کی حمایت حاصل تھی اس لیے مسئلہ کشمیر کی طرح امریکہ اور اس کے اتحادی اس طرف توجہ نہیں دیتے تھے۔ لیکن طالبان کے طاقت حاصل کرنے پر بھارت کا یہ انٹیلی جنس نیٹ ورک اب ٹوٹ چکا ہے اور بھارت بھاگتے چور کی لنگوٹی کے مصداق امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے طالبان دشمن قوتوں کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کر رہاہے۔

کوئی مانے یہ نہ مانے لیکن یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ افغانستان امریکی افواج کی واپسی اور بھارت کی پسپائی درحقیقت پاکستان کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔پاکستان نے ہمیشہ سے یہ چاہا تھا کہ طالبان مذاکرات کی میز پر آئیں۔پاکستان کا اصل ہدف افغانستان میں ناپاک بھارتی سرگرمیاں تھیں۔یہاں پاکستانی اداروں کو داد دینی چاہیے کہ وہ ملک کے دفاع اور تحفظ کے لیے ہر وقت چوکنا رہتے ہیں۔جہاں بھارت کو پاکستان کے خلاف ہر وقت سازشوں کے جال بنتا رہتا ہے وہیں ہمارے ادارے ان سازشوں کو ناپاک بنانے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔پاکستان کیلئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغانستان سے امریکہ کے دستبردار ہونے کے بعدبھارت خطے میں اپنا اثرو رسوخ کھو دیتا ہے تو اس قابل نہیں رہے گا کہ آسانی سے بلوچستان کے وسیع و عریض علاقے میں دخل اندازی سکے گا۔

افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت قائم ہوچکی ہے۔ بلاشبہ اس مرتبہ طالبان کا طرز عمل اپنے پچھلے دور سے مختلف ہے۔ ان 20سالوں نے انہیں بہت کچھ سکھادیا ہے۔طالبان کو احساس ہے کہ پرامن افغانستان پورے خطے اور دنیا کے لیے کتنا اہم ہے۔طالبان یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ افغان طالبان کی رہنمائی میں مولانا سمیع الحق کا اہم کردار رہا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -