نون لیگ میں ناچاقی، نون لیگ کی چالاکی

نون لیگ میں ناچاقی، نون لیگ کی چالاکی
نون لیگ میں ناچاقی، نون لیگ کی چالاکی

  

شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہبازکو لے کرنون لیگ مخالف حلقے خوب دھول اڑانے میں مصروف ہیں۔ اس سے قبل جب نوازشریف وزیر اعظم تھے تو ان کے اور شہباز شریف کے درمیان بھی ایسی ہی ناچاقیوں کی خبریں اڑائی جاتی تھیں۔تب بھی لوگ کہتے تھے اوراب بھی کہتے ہیں کہ اقتدار کی بھوک ہر رشتے اور ہر تعلق کوبھلادیتی ہے، اس سلسلے میں بعض ایک لوگ بادشاہ اورنگ زیب کی مثال بھی دیتے ہیں کہ کس طرح اقتدار کے لئے تب کون کون سے کھیل گئے تھے۔ 

تاہم شہباز شریف کا معاملہ اس لئے مختلف ہے کہ وہ محض اقتدار کی خاطر اپنے بھائی اور بھتیجی کے مخالف نہیں بتائے جاتے بلکہ ان کی ایک خوبی یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ وہ مقتدرہ کو قابل قبول ہیں۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ ان کے مقابلے میں پہلے نواز شریف اور اب مریم نواز عوام میں مقبول ہیں۔ البتہ شہباز شریف کی صرف ایک یہی خوبی نہیں ہے کہ وہ مفاہمت کے حامی ہیں (شکر ہے کہ ابھی ان کی شہرت آصف زرداری کی طرح مفاہمت کے بادشاہ ایسی نہیں ہے) بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہترین منتظم بھی ہیں اور پنجاب میں ان کے کام منہ سے بولتے ہیں۔ اس لئے وہ محض اس لئے شہباز شریف نہیں ہیں کہ وہ نواز شریف کے بھائی اور مریم نواز کے چچا ہیں بلکہ ان گڈ گورننس کے حوالے سے ان کی ایک الگ پہچان ہے جس کی بنا پر سمجھاجاتا ہے کہ اگر انہیں وزیر اعظم بننے کا موقع ملے تو وہ پاکستان میں ترقی کے نئے سوتے کھول سکتے ہیں۔ 

میدان سیاست میں کیونکر عوامی مقبولیت کے بغیر آپ کی کوئی خوبی، خوبی نہیں رہتی جس طرح دفاتر میں افسر کی خوشنودی کے بغیر ماتحت کی کارکردگی کوئی کارکردگی نہیں ہوتی ہے۔ چنانچہ ان دو محاذوں پر کامیابی کا تقاضا کچھ اور ہوتا ہے۔اس سلسلے میں مریم نواز نے بالکل درست کہا ہے کہ قوم میں شعور بیدار کرنا ہی لیڈر کے بیانئے کی جیت ہوتا ہے، نواز شریف نے قوم کو بتادیا ہے کہ عوام کے حقوق کیا ہیں۔ تاہم اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات انہوں نے یہ کہی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ نون لیگ مفاہمت اورمزاحمت کے مخمصے کا شکار ہے، بیانئے پر تنقید اس لئے ہوتی ہے کہ یہ صرف نون لیگ کے پاس ہے، ہمارا یہ بیانیہ اور نظریہ نہیں ہے کہ صوبے کی حکومت بچانے کے لئے مار کھاتے رہیں۔ سب سے بڑھ کر مریم کا یہ بیان کہ نواز شریف اور نون لیگ کی طاقت کا ادراک مخالفین کو تو ہے مگر ہمیں نہیں، نون لیگ میں آج کچھ ایسے لوگ ہیں جو ہم سے اور ہم ان سے ڈرتے ہیں۔ چنانچہ شہباز شریف کا المیہ یہ ہے کہ ان کو ایک کرسی اور میز چاہئے جس پر بیٹھ کر وہ حکم چلا سکیں جبکہ نواز شریف کو عوام چاہئیں جن کو وہ اپنی واسکٹیں بھی اتار کر پہناتے چلے جائیں۔ 

خواجہ آصف جب کہتے ہیں کہ نون لیگ میں جھگڑا کارکنوں کا نہیں بلکہ قیادتوں کا ہے تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ سیاسی جماعتوں کی ورکنگ کو سمجھنے والے اس بات سے خوب آگاہ ہیں کہ ایک سیاسی جماعت میں عہدوں کے حصول کے لئے ہمیشہ تگ و دو رہتی ہے اور کامیاب لیڈر وہ ہوتا ہے جو ان عہدوں کے متمنی کارکنوں میں ایک توازن کو یقینی بنائے رکھتا ہے۔ چنانچہ نون لیگ کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اس کا کارکن اور اس کے ووٹر سپورٹر پورے زور کے ساتھ نواز شریف اور پارٹی کے پیچھے کھڑے ہیں۔ یہی وہ قوت ہے جو نواز شریف کو نواز شریف اور نون لیگ کو نون لیگ بنائے ہوئے ہے۔ ان کے بیچ اگر شہباز شریف کوئی علیحدہ ساز چھیڑتے نظر آتے ہیں تو ان کی مثال بھی ان کارکنوں کی ہے جو عہدوں کی تگ و دو میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی دوڑ میں رہتے ہیں لیکن شہباز شریف جانتے ہیں کہ ان کی عوامی مقبولیت تو اتنی بھی نہیں ہے جتنی عمران خان کی ہے۔ عمران خان تو پھر بتیس تینتیس نشتستیں جیت کر قومی اسمبلی میں آبیٹھے تھے لیکن شہباز شریف اپنے بل بوتے پر تو شائد اپنی نشست بھی نہ نکال سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ بار بار لانچ کئے جانے کے باوجود ان کی مقبولیت کا جہاز رن وے پر ہی پھٹ پھٹ کرنا شروع کردیتا ہے اور پھر پارٹی کی مقبولیت کو سہارا دینے کیلئے نواز شریف کو آگے آنا پڑتا ہے۔ ایسا ہی ایک تجربہ 2013کے انتخابات میں بھی کیا گیا تھا کہ عوامی جلسوں سے خطاب کے لئے شہبازشریف کو آگے کیا گیا تھا اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ لاہور میں سرکلر روڈ پر ہونے والا جلسہ خالی کرسیوں سے سجا ہوا تھا۔ اس کے بعد فیصل آباد میں منعقد ہونے والے جلسے میں دوبارہ سے نواز شریف کو جلوہ افروز ہونا پڑا اور چودھری نثار مائیک پر کہتے ہوئے پائے گئے تھے کہ مخالفین دیکھ لیں کہ نہ صرف جلسہ گاہ کے اندر بلکہ جلسہ گاہ کے باہر بھی لوگ ہی لوگ موجود ہیں۔

نون لیگ کی ایک اور بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کی قیادت کو اچھی طرح ادراک ہے کہ پارٹی کے اندر کون سے ایسے لوگ ہیں جو قیادت سے ڈرتے ہیں اور قیادت ان سے ڈرتی ہے۔ یہ لوگ یقینی طور پر شریف فیملی کے تو نہیں ہو سکتے، کیونکہ شریف فیملی تو ایک دوسرے کے کہنے میں ہے مگر دیگر کچھ ایسے گھس بیٹھئے ہو سکتے ہیں جو بیرونی قوتوں کے زیر اثر پارٹی فیصلوں پر نظر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو 2018کے انتخابات کے موقع پر جیپ والے ہو گئے تھے اور کچھ ایسے ہیں جو اگرچہ شیر کے شکار پر الیکشن لڑتے ہیں مگر ان کے دل جیپ والوں کے ساتھ ہیں۔تاہم چونکہ ایسے لوگ ہر پارٹی میں ہوتے ہیں اس لئے نون لیگ نے اپنی ناچاقی کو چالاکی میں بدل لیا ہے اور سیلاب کے پانی کی طرح زمین کو چیرتی ہوئی آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -