سب کو ہنسانے والا  عمر شریف پرستاروں کو رُلا گیا!

سب کو ہنسانے والا  عمر شریف پرستاروں کو رُلا گیا!

  

پاکستان کے بین الاقوامی شہرت کے حامل فنکار عمر شریف طویل علالت کے بعد66برس کی عمر میں جرمنی میں انتقال کر گئے انہیں علاج کی غرض سے28ستمبر کو پاکستان سے براستہ جرمنی امریکہ منتقل کیا گیاتھا، مگرجرمنی میں عارضی قیام کے دوران ہی ان کی طبیعت مزید بگڑی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ مرحوم عمر شریف عارضہ قلب سمیت متعدد بیماریوں میں مبتلا تھے۔عمر شریف کا اصل نام محمد عمر تھا اور وہ 1955ء میں پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئے۔ شوکی خان، مستانہ، ببو برال، سکندر صنم، لیاقت سولجر اور دیگر بہت سارے سٹیج کے فنکارہمیں دکھائی دیتے ہیں جن کی خدمات کا دائرہ وسیع ہے، مگر جب وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے پاس ترکے میں صرف کسمپرسی اور بے سرو سامانی تھی۔ اس اعتبار سے عمر شریف خوش قسمت رہے کہ جن کو زندگی کے آخری دنوں میں بے پناہ توجہ ملی اور ان کو علاج کی غرض سے بیرون ملک بھی لے جایا گیا، وگرنہ اکثر فنکاروں کی زندگی کا اختتام دُکھ بھرا ہوا ہے کہ جو ساری زندگی مسکراہٹوں کے سفیر رہے، لیکن ان کو زندگی کے آخری دنوں میں بنیادی سہولتیں بھی میسر نہ آئیں۔پاکستانی فلمی صنعت سے منور ظریف، رنگیلا، ننھا، لہری جیسے فنکاروں نے مزاح گوئی کی روایت کو مضبوط کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی طرح ٹیلی وژن کی سکرین پر معین اختر، جمشید انصاری، اطہر شاہ خان جیدی، دردانہ بٹ اور دیگر نے جس طرح کی کامیڈی کے لئے فضا بنائی اس نے بھی اس روایت کو پاکستان میں مزید مضبوط کیا، مگر یہ نابغہ روزگار لوگ بہت خاموشی سے پس منظر میں چلے گئے۔عمر شریف کے حصے بے پناہ توجہ اور چاہت آئی، وہ ایک ایسے فنکار تھے، جن کا سٹیج کی دنیا سے فلم کے پردے تک، مزاح کے میڈیم میں خدمات کا اعتراف کیا گیا اور وہ بھی اپنے روحانی استاد منور ظریف کی طرح اپنے دور کے دنیائے کامیڈی کے شہنشاہ کہلائے۔ عمر شریف کی سالی عنبرین نے بتایا کہ امریکہ کے سفر کے دوران ہی راستے میں ان کی طبیعت خراب ہوئی، جس وجہ سے انھیں جرمنی میں روک لیا گیا۔عمر شریف گزشتہ چار دن سے جرمنی میں زیر علاج تھے۔ انھیں نمونیا اور بخار تھا۔عنبرین کے مطابق انھیں ان کی بہن زرین نے بتایا تھا کہ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ جیسے طبیعت بہتر ہوگی تو وہ امریکہ کے لئے روانہ ہوں گے، لیکن بہتری نہیں آئی اور وہ ہفتے کی صبح انتقال کر گئے۔ عمرشریف چار سال کے تھے جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور ان کے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔وہ کراچی میں جس علاقے میں رہائش پذیر رہے وہاں قریب قوالوں کے بھی گھر تھے۔ بچپن اور لڑکپن میں ان کی دوستی ان قوالوں کے بچوں سے رہی اور جب ہوش سنبھالا تو اپنے محلے کے مختلف کرداروں سمیت مشہور فلمی اداکاروں کی بول چال اور انداز کی نقالی کرنے لگے۔یہی وجہ تھی کہ عمر شریف کی بذلہ سنجی، جملے بازی اور لطیفہ گوئی پورے علاقے میں مشہور ہو گئی تھی۔

 سکول کے بعد عمر شریف جب گلی محلے میں نکلتے تو ان کے ارد گرد لڑکوں کا ہجوم ہوتا اور وہ انھیں ہنسانے میں مصروف ہو جاتے۔ عمر شریف نے پہلی رات ہی کرشمہ کر دکھایا تھا۔ عمر شریف نے 70 سے زائد ڈراموں کے سکرپٹ لکھے جن کے مصنف، ہدایتکار اور اداکار وہ خود تھے اور ان ڈراموں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے۔’بہروپیا‘ وہ کھیل تھا، جس میں عمر شریف کا ٹیلنٹ کھل کر سامنے آیا اور پھر ’بڈھا گھر پہ ہے‘ اور ’بکرا قسطوں پہ‘ نے انھیں پاکستان کیساتھ ساتھ انڈیا میں بھی وہ مقبولیت عطا کی کہ عمر شریف برصغیر کے پسندیدہ مزاحیہ فنکار بن گئے۔ڈرامہ بکرا قسطوں پہ کی مقبولیت اس قدر تھی کہ عمر شریف نے اس کے پانچ پارٹ بنائے۔ عمر شریف نے پہلی بار سٹیج ڈرامے ریکارڈ کرنے کا رواج بھی ڈالا۔ ’یس سر عید، نو سر عید‘ عمر شریف کا پہلا ڈرامہ تھا، جس کی ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی تھی۔ سٹیج ڈراموں کی ویڈیو ریکارڈنگ نے انہیں برصغیر سمیت دنیا بھر میں اردو اور پنجابی بولنے والوں کا پسندیدہ کامیڈین بنا دیا تھا۔عمر شریف صرف 14سال کی عمر میں تھیٹر سے بطور اداکار وابستہ ہوئے۔ان کے سٹیج اداکار بننے کا قصہ بھی بہت دلچسپ ہے۔کراچی کے آدم جی ہال میں جاری سٹیج ڈرامے کے ایک گجراتی اداکار کو اپنے عزیزکی وفات پر ڈرامہ چھوڑ کر جانا پڑا تو شو سے دو گھنٹے قبل عمرشریف کو بلایا گیا اور میک اپ روم میں کاغذات کا پلندہ ہاتھ میں یہ کہہ کر تھما دیا گیا کہ تمہیں جوتشی بننا ہے۔عمر شریف کو اس ڈرامے کے لئے تین بار انٹری دینا تھی۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے متعدد فنکار بتاتے ہیں کہ پہلی ہی انٹری پر ہی عمرشریف نے اپنی پرفارمنس سے حاضرین کے دل جیت لئے اور جب وہ سٹیج سے ہٹے تو دیر تک تالیاں بجتی رہیں۔ 14 سال کے عمر شریف کو اس ڈرامے میں بہترین کارکردگی دکھانے پر شو کے آخری دن پانچ ہزار روپے، 70 سی سی موٹرسائیکل اور پورے سال کا پٹرول انعام میں دیا گیا تھا،اور پھر انھوں نے اس میدان میں اداکاری کے علاوہ بطور مصنف اور ہدایتکار بھی اپنے فن کا لوہا منوایا۔عمر شریف لڑکپن سے ہی برصغیر کے بے مثال مزاحیہ اداکار منور ظریف کے دیوانے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ منور ظریف میرے روحانی استاد ہیں۔ کریئر کی ابتدا میں عمرشریف نے اپنا نام عمر ظریف بھی رکھا لیکن 70ء کی دہائی میں مصری اداکار عمر شریف کی فلم ”لارنس آف عریبیہ“کی نمائش ہوئی تو جواں سال محمد عمر، عمر شریف بن گئے۔

چند ماہ قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں منور ظریف سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان جیسا آدمی اور فنکار میں نے نہیں دیکھا، نہ مجھے کوئی ان جتنا اچھا لگا۔ہمارے ملک کے آرٹسٹ بڑے اعلیٰ ہیں، لیکن سچ کہتا ہوں منورظریف دنیا میں دوسرا پیدا نہیں ہوا۔عمر شریف نے پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز پر بھی شوز کیے، جو سپرہٹ رہے عمر شریف بتایا کرتے تھے کہ ان کی بدنصیبی رہی کہ وہ زندگی میں منور ظریف سے ملاقات نہ کر سکے۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ کراچی کے ایک ہوٹل میں منور ظریف سے ملاقات کرنے اپنے دوست صحافی پرویز مظہر کے ساتھ گئے تھے، لیکن منور صاحب کی مصروفیات کے باعث ملاقات نہ ہو سکی۔عمر شریف کی منور ظریف سے عقیدت کا یہ عالم تھا کہ ایک بار کراچی سے لاہور آئے تو داتا گنج بخش ؒکے مزار پر حاضری دینے کے بعد سیدھے ٹیگور پارک میں منور ظریف کے گھر گئے اور گھر کی دیواریں چومتے رہے۔90ء کی دہائی میں عمر شریف کراچی سے لاہور منتقل بھی ہوئے، جہاں انہوں نے اچھرہ میں شمع سنیما کو لاہور تھیٹر میں بدل دیا۔ مذکورہ تھیٹر میں عمر شریف نے کئی یادگار ڈارمے کئے۔400 سے زائد گیٹ اپ، کردار اور لب ولہجہ سٹیج ڈراموں کے ساتھ ساتھ عمر شریف نے مسٹر420، مسٹر چارلی اور چاند بابو جیسی فلمیں بھی پروڈیوس کیں۔ مسٹر 420 کے لئے انہیں دو نیشنل اور چار نگار ایوارڈز بھی ملے، جو پاکستان میں ایک ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جن فلموں میں کام کیا ان میں حساب، کندن، بہروپیا، پیدا گیر، خاندان اور لاٹ صاحب شامل ہیں۔عمر شریف نے پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز پر بھی شوز کیے اور ایسے ہی ایک شو ’عمر شریف ورسز عمر شریف‘ میں وہ 400 سے زیادہ بہروپوں میں نظر آئے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ اس شو کے لئے عمر شریف کے ساتھ کام کرنے والے میک اپ آرٹسٹ عمران نواب کا کہنا ہے کہ ’میں نے اور میرے والد نواب علی نے عمر شریف صاحب کو 400 سے زائد گیٹ اپ دیے اور انھوں نے اتنے ہی کردار اور لب و لہجے اختیار کیے۔”عمر شریف ورسز عمر شریف“ میں وہ 400 سے زیادہ بہروپوں میں نظر آئے جو کہ ایک ریکارڈ ہے سینئر کامیڈین خالد عباس ڈار ہوں یا سہیل احمد یا پھر ان کے ساتھ کام کرنے والے حنیف راجہ، شہزاد رضا سب ہی ان کی ٹائمنگ اور فی البدی جملے بازی کے مداح تھے۔عمر شریف کی یہی ٹائمنگ اور جملے بازی تھی جس نے انہیں برصغیر کے مزاحیہ فنکاروں میں ممتاز کیے رکھا۔ بالی ووڈ کے نامور مزاحیہ اداکار جاوید جعفری کا کہنا ہے کہ وہ لڑکپن سے عمر شریف کے دیوانے تھے اور انہیں ان کے ڈراموں کا ہر جملہ اور ہر حرکت ازبر ہے۔ 

جانی لیور کا کہنا ہے کہ پاکستان اس لحاظ سے خوش نصیب ہے کہ وہاں معین اختر اور عمر شریف جیسے کامیڈی سٹارز پیدا ہوئے۔ عمر شریف نے تین شادیاں کی تھیں۔ نجی ٹی وی پر ندا یاسر کے شو میں انھوں نے بتایا تھا کہ ان کی پہلی بیوی ان کی پڑوسن تھیں، ان کا گھر میں آنا جانا تھا اور وہ ان کی والدہ کا خیال رکھتی تھیں اس لئے انھوں نے ان سے شادی کی۔ عمر شریف کی دوسری شادی اداکارہ شکیلہ قریشی سے ہوئی اور زیادہ نہیں چل سکی، جس کے بعد تیسری شادی انہوں نے سٹیج اداکارہ زرین غزل سے کی۔ان کی تیسری بیوی زرین ہی ان کے ساتھ بیرون ملک علاج کے لئے ان کے ساتھ تھیں، جبکہ دونوں میں پراپرٹی کے معاملے پر ایک کیس سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا، جہاں عمر شریف نے درخواست کی تھی کہ ان کی یادداشت کمزور ہے اور ان کی اہلیہ نے ان سے گفٹ ڈیڈ پر دستخط کراو لئے تھے اور وہ 11 کروڑ روپے مالیت کا فلیٹ فروخت کرنا چاہتی تھیں تاہم اس فیصلے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔عمر شریف کی زندگی میں ایک بڑا صدمہ ان کی نوجوان بیٹی حرا شریف کی موت کا بھی تھا، جن کی غیر قانونی پیوند کاری کے دوران ہلاکت ہو گئی تھی، ان کے بیٹے نے ایف آئی اے کو ایک درخواست دی تھی کہ لاہور کے ایک ڈاکٹر نے ان سے 34 لاکھ روپے لئے تھے اس کے بعد کشمیر منتقل کیا گیا جہاں آپریشن کے بعد حرا کی حالت بگڑ گئی اور اس کا انتقال ہو گیا، وہ بیٹی کا ذکر کرتے رنجیدہ ہو جاتے تھے۔چند ماہ قبل سوشل میڈیا پر ایک تصویر نے عمر شریف کے مداحوں کو افسردہ کر دیا تھا۔ اس تصویر میں وہ ویل چیئر پر بیٹھے تھے، جبکہ ان کی شیو بڑھی ہوئی تھی۔یہ تصویر سامنے آنے کے بعد حکومت سندھ اور وفاقی حکومت نے ان کا علاج کروانے کا اعلان کیا اور اس سلسلے میں حکومت سندھ نے چار کروڑ روپے بھی جاری کئے، جس کے بعد انہیں کراچی سے خصوصی ایئر ایمبولینس کے ذریعے امریکہ منتقل کیا جا رہا تھا جہاں ان کے دوست ان کا علاج کروانے کے کی یقین دہانی کروا چکے تھے۔پاکستان اور انڈیا کے نامور فنکار مانتے ہیں کہ ہیں کہ ’آدھا لافٹر عمر شریف کا لب و لہجہ تھا‘۔ان فنکاروں کا کہنا ہے کہ عمر شریف کا مشاہدہ زبردست تھا اور سٹیج پر کھڑے ہوتے تو بات سے بات یوں ادا ہوتی جیسے آسمان سے بارش ہو رہی ہو۔عمر شریف نے بگ بی کو اتنا ہنسایا کہ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے عمر شریف پاکستان کے شاید واحد مزاحیہ فنکار ہیں جن کے پرستار پوری دنیا میں موجود ہیں۔ امیتابھ بچن ہو، شاہ رخ خان یا بولی وڈ کے بڑے بڑے نام سب ان کے مداح تھے۔ ایک مرتبہ عمر شریف ممبئی گئے تو اداکارہ فرح اور تبو روزانہ گھر سے کھانے پکا کر اس ہوٹل لاتی رہیں،جہاں عمر شریف قیام پذیر تھے۔ فرح نے بتایا تھا کہ جب وہ ڈپریشن کا شکار ہوئیں تو ان کے سسر نے عمر شریف کے مزاحیہ ڈرامے دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں دیکھو۔ فرح کے مطابق عمر شریف کے ڈرامے دیکھ کر وہ اتنا ہنستی تھیں کہ ان کا ڈپریشن دور ہو گیا۔

دبئی میں ہونے والے زی سنی ایوارڈز میں راقم الحروف کو عمر شریف کے ساتھ شرکت کرنے کا موقع ملا۔یہ وہی تقریب تھی جس میں بالی ووڈ کے بڑے بڑے ناموں نے عمر شریف کا جادو دیکھا تھا۔تقریب میں عمر شریف سٹیج پر آئے تو انھوں نے امیتابھ بچن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آج پہلی بار میں نے امیتابھ بچن صاحب کو زندہ دیکھا ہے یعنی لائیو (براہ راست) دیکھا ہے۔‘ عمر شریف نے گفتگو کا آغاز کیا تو امیتابھ بچن سنجیدگی سے سننے لگے، لیکن چند ہی لمحوں بعد ہنستے ہنستے اور پھر قہقہے لگاتے امیتابھ بچن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔اسی تقریب میں یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ انڈین کامیڈینز عمر شریف سے متاثر ہی نہیں، بلکہ انہیں اپنا گرو مانتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کامیڈین اداکار عمرشریف کے انتقال پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے، انہوں نے کہا کہ عمر شریف بیشمار صلاحیتوں کے مالک تھے، فن کے شعبے میں عمرشریف کی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے لیجنڈری کامیڈین اداکار کی وفات پر تعزیتی بیان میں گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمر شریف بیشمار صلاحیتوں کے مالک تھے، عمر شریف فنون لطیفہ میں منفرد مقام رکھتے تھے۔انہوں نے کہا کہ فن کے شعبے میں عمرشریف کی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو نے بھی لیجنڈ کامیڈین کے ینتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات سینئر اداکار قوی خان، مسعود اختر، جاوید شیخ،سید نور،جاوید شیخ،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی، مدیحہ شاہ،صائمہ نور، میگھا،ماہ نور،یار محمد شمسی صابری، سہراب افگن، عذرا آفتاب، عینی طاہرہ، عائشہ جاوید، میاں راشد فرزند، سدرہ نور،نادیہ علی،شین، سائرہ نسیم،صباء کاظمی، سٹار میکر جرار رضوی، آغا حیدر، دردانہ رحمان، ظفر عباس کھچی، عینی خان، ڈیشی خان، عمران ساحل، نادیہ علی،عثمان غوری،زاہد ملک، غلام جیلانی گام،عارف بٹ،سٹار میکر جرار رضوی، میڈم سنگیتا،ملک طارق،مجید ارائیں،طالب حسین، قیصر ثنا ء اللہ خان،مایا سونو خان،عباس باجوہ، مختار چن،آشا چودھری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو،ارشدچودھری،چنگیز اعوان،حسن مراد، شاہد ظہور،حسن ملک،سعیدسہکی،آغا قیصر عباس، عتیق الرحمن،اشعر اصغر،آغا عباس، صائمہ نور،خالد معین بٹ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک، صومیہ خان،حمیرا چنا،اچھی خان، شبنم چودھری، محمد سلیم بزمی، سفیان، انوسنٹ اشفاق، فیاض علی خاں، اسلم پھلروان، اکرم اداس،عرفان کھوسٹ،مسعود بٹ، شاہد رانا،ماہم کمال،آشف چودھری، روینہ خان،حمیرا،عروج،عینی رباب، سوانہ راجپوت، پروڈیوسر شوکت چنگیزی، ظفر عباس کھچی،ڈی او پی راشد عباس، ڈاکٹر صوفیہ ملک، قیصر لطیف،پرویز کلیم، روبی انعم،اظہر بٹ، ذویا قاضی،،شہزاد چندا، ندا چودھری، مہک نور، دیا جٹ،نگار چودھری،ماہم کمال اور نجیبہ بی جی،  شبیر جان، نعمان اعجازنے عمر شریف کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ایسے فنکارروز روز پیدا نہیں ہوتے عمر شریف جیسے لوگ صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا ء فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء کرے۔ پاکستان کے معروف کامیڈین اور اداکار عمر شریف آج قضائے الٰہی سے انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال پر صدر مملکت، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، ان کے ساتھی فنکاروں، اداکاروں اور سرحد پار سے بھی کئی فنکاروں نے افسوس کا اظہار کیا۔ عمر شریف کے انتقال پر بھارتی کامیڈین جونی لیور نے بھی گہرے دُکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ عمر شریف نے ڈراموں کو نیا درجہ دیا، عمر شریف نمبر ایک ادکار تھے، جونی لیور اپنا کام کرتاہے، لیکن عمر شریف کا کام بالکل الگ تھا، ان کے جیسیلوگ ہزاروں سال میں پیدا ہوتے ہیں۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے جونی لیور کا کہنا تھا کہ 1990ء میں عمر شریف کوئی فلم لکھنے بھارت آئے تھے، ہم گھنٹوں بیٹھ کر باتیں کرتے تھے، عمر شریف بہت حاضر جواب تھے ان کا کام ہی کچھ اور تھا، وبا سے دو سال پہلے ہم امریکہ میں شو کرنا چاہتے تھے، میری 4 سے 5 ماہ پہلے بھی عمر شریف سے بات ہوئی تھی۔ جونی لیور نے مزید کہا کہ ہم سیکھنے کی کوشش کرتے تھے کہ وہ بے ساختہ جملے کیسے کہہ جاتے ہیں، عمر شریف سے پوچھا تو بولے بس ہو جاتا ہے۔واضح رہے کہ عمر شریف نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی بہت مقبول رہے۔ قبل ازیں بھارتی کامیڈین کپل شرما نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا ”الوداع لیجنڈ، خدا آپ کی روح کو سکون دے“۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -