مرکزی ہسپتالوں میں سوبائی حکومت کی مداخلت سے مسائل جنم لے رہے ہیں:ڈاکٹر مرتضیٰ مغل

مرکزی ہسپتالوں میں سوبائی حکومت کی مداخلت سے مسائل جنم لے رہے ہیں:ڈاکٹر ...

  

     کراچی(این این آئی)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ سندھ حکومت مرکزی محکموں میں بے جا مداخلت کر رہی ہے جس سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ صوبائی حکومت سے اپنے محکمے اور ہسپتال تو چلائے نہیں جا رہے ہیں اور مگر وفاق کے ماتحت کراچی میں قائم تین ہسپتالوں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیززاور نیشنل ایشٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں سازشوں کا بازار گرم کر دیا گیا ہے جس سے یہ ادارے تباہ ہو رہے ہیں اور سینکڑوں ڈاکٹروں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد 2011 میں یہ ہسپتال صوبائی حکومت کے حوالے کر دئیے گئے جس کے بعد ان کے سیاسی رسہ کشی بد انتظامی اور اقربا پروری سے حالات خراب ہونا شروع ہو گئے  جس پر گزشتہ سال وفاقی حکومت نے ان کا جزوی کنٹرول سنبھال کیا مگر یہ عمل پایہ تکمیل کو نہ پہنچایا جا سکا۔ پاکستان کے سب سے بڑے اور پرانے جناح ہسپتال میں بیس فیصد کوٹہ سندھ کا ہے جبکہ باقی اسی فیصد بلوچستان سابقہ فاٹا پاٹا اور گلگت بلتستان کا ہے جسے ختم کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں جس سے ماحول متاثر ہو رہا ہے اور ہسپتال کی ساکھ تباہ ہو رہی ہے۔جناح ہسپتال میں ٹیچنگ فیکلٹی دس سال سے ایڈہاک بنیادوں پر چلائی جا رہی ہے جبکہ چالیس سے زیادہ اہم آسامیوں کو بھی دس سال سے خالی رکھا گیا ہے۔گریڈ اٹھارہ کے پسندیدہ میڈیکل افسران کو گریڈ بیس کے پروفیسرز کا چارج دے کر ادارے اور طلباء کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔اکسٹھ میڈیکل افسران جن میں سے پینتیس پوسٹ گریجویٹ ہیں گزشتہ دس سال سے ترقی سے محروم رکھے گئے ہیں تاکہ وہ استعفیٰ دے دیں اور صوبائی حکومت پسند افراد کو انکی جگہ کھپایا جا سکے۔انھوں نے کہا کہ حکومت کو چائیے کہ مزید تاخیر کے بجائے ان ہسپتالوں کو فوری طور پر مکمل تحویل میں لے کرتمام خالی آسامیاں پر کرے اور اصلاح احوال کرے ورنہ ڈاکٹر اور طبی عملہ مزید بددل اور ہو گا اور یہ ہسپتال بھی لاڑکانہ کے ہسپتالوں جیسے بن جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ کراچی کے دو وفاقی ہسپتالوں کا بجٹ بڑھانے کے بجائے انکے بجٹ میں ا یک ارب تریسٹھ کروڑ کی کٹوتی حیران کن اوراہلیان کراچی سے زیادتی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -