صدر ڈویژن پولیس نے پی ٹی سی ایل ملازم کے اندھے قتل کا سراغ لگا لیا

صدر ڈویژن پولیس نے پی ٹی سی ایل ملازم کے اندھے قتل کا سراغ لگا لیا

  

پشاور (کرائم رپورٹر) بڈھ بیر پولیس نے پی ٹی سی ایل ملازم کے اندھے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا، گرفتار ملزمان میں دو مرکزی ملزمان سمیت ڈیڈ باڈی کو ٹھکانے لگانے میں مدد دینے والے چار سہولت کار بھی شامل ہیں، مرکزی ملزمان میں ایک خاتون بھی شامل ہے جس نے چار روز قبل اپنے شوہر کے ساتھ مل کر مقتول کو قتل کرنے کے بعد اپنے بھتیجے اور اس کے دوستوں کے ساتھ مل کر ڈیڈ باڈی کو ٹھکانے لگائی تھی، مرکزی ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران واقعہ کو غیرت کے نام پر قتل کا شاخسانہ قرار دیا ہے جن سے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے تفصیلات کے مطابق تھانہ بڈھ بیر پولیس کو 28 ستمبر کو بدوران گشت جانے خوڑ سے ایک لاش ملی تھی جس کی شناخت مسکین شاہ ولد اختر شاہ ساکن کگہ ولہ کے نام سے ہوئی جس کو نامعلوم ملزمان نے قتل کیا تھا، واقعہ سے متعلق مقتول کے بیٹے حسین شاہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کیا گیا صدر ڈویژن پولیس نے واردات کو چیلنج سمجھتے ہوئے جدید سائنسی خطوط پر استوار تفتیش کا آغاز کیا جس کے دوران ایس ایچ او تھانہ بڈھ بیر تحسین اللہ نے متعدد مشتبہ اور جرائم پیشہ افراد سمیت مقتول کے ساتھ قریبی روابط رکھنے والے افراد کو شامل تفتیش کرتے ہوئے ان کی کڑی نگرانی شروع کی، اسی طرح مقتول کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سمیت موبائل فون کی بھی ٹیکنیکل انالائسز کی گئی جس کے دوران مشکوک اکاؤنٹس اور فون نمبرات کی بھی نگرانی اور جانچ پڑتال شروع کی گئی جو شک گزرنے پر دیگر متعدد افراد سمیت مقتول کے خاندان کے ساتھ تعلق رکھنے والی خاتون مسماۃ (گ) زوجہ عنایت الرحمن ساکنہ شیخ محمدی کو بھی شامل تفتیش کیا گیا، جس کے بار بار بدلتے بیانات اور قول و فعل میں تضاد پر اس کو مزید انٹاروگیٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس نے وومن پولیس اسٹیشن میں سرسری انٹاروگیشن کے دوران اپنے شوہر عنایت الرحمٰن کے ساتھ مل کر مقتول مسکین شاہ کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کا انکشاف کرتے ہوئے لاش ٹھکانے لگانے میں مدد دینے والے سہولت کاروں کے نام بھی اگل دیئے، ملزمہ کے مطابق اس کا گزشتہ چار سال سے مقتول کے ساتھ تعلق تھا جو اب تعلق ختم کرنے کے باجود مقتول بار بار اسے تنگ کر رہا تھا جس سے تنگ آ کر ملزمہ نے شوہر کے ساتھ مل کر مقتول کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، ملزمہ کی شناخت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے شریک مرکزی ملزم عنایت الرحمن جبکہ چار سہولت کاروں اسفند یار، یٰسین، نگار اور عادل کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جنہوں نے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے جن سے مزید تفتیش جاری ہے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -