شوکت ترین کی جانب سے نان فائلر،انڈر فائلر کی اسطلاحات کا جائزہ لینے کی یقین دہانی

  شوکت ترین کی جانب سے نان فائلر،انڈر فائلر کی اسطلاحات کا جائزہ لینے کی ...

  

    کراچی(اکنامک رپورٹر)وفاقی وزیر خزانہ و محصولات شوکت ترین نے کراچی چیمبر کی جانب سے ٹیکس قوانین (تیسری ترمیم) آرڈیننس 2021 کے ذریعے ترمیم پر اظہارِتشویش کے جواب میں یقین دہانی کرائی ہے کہ وزارت خزانہ اس معاملے کا جائزہ لے گی اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے نان فائلر اور انڈر فائلر کی اصطلاحات کا جائزہ لیا جائے گاجبکہ اس دوران کسی کو دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایف بی آر براہ راست کارروائی نہیں کرے گا۔ایف بی آر چیمبرز کے ساتھ متعلقہ ڈیٹا شیئر کرے گا اور اسے اپنی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کرے گا۔حکومت آرٹی فیشل انٹیلی جنس کی مدد لینے کا ارادہ رکھتی ہے اور تیسرے فریق کے ذریعے تشخیص کی جائے گی نیز ٹیکس نادہندگان کو واجبات ادا کرنے کے لئے 90 دن کا مناسب وقت فراہم کیا جائے گا۔یہ باتیں انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(کے سی سی آئی) کے وفد سے ملاقات کے موقع پر اجلاس کے دوران کہی۔وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر، وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ّریونیو (ایف بی آر) اشفاق احمد، وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے دیگر سینئر حکام بھی اجلاس میں شریک تھے جبکہ کے سی سی آئی کے وفد کی قیادت چیئرمین بزنس مین گروپ وسابق صدر کے سی سی آئی زبیر موتی والا نے کی۔ وفد میں وائس چیئر مین بی ایم جی ہارون فاروقی اور جاوید بلوانی، جنرل سیکریٹری اے کیو خلیل اور صدر کے سی سی آئی محمد ادریس شامل تھے۔ چیئرمین بی ایم جی زبیر موتی والا کی جانب سے سندھ کی برآمدی صنعتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کاحوالہ دیتے ہوئے وزارت خزانہ اور وزارت توانائی  نے سندھ کی برآمدی صنعتوں کو 6.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر آر ایل این جی فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔ اس سلسلے میں وزارت خزانہ سبسڈی کی منظوری دے گی اور متعلقہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جائے گا۔حماد اظہر نے کہا کہ وزارت توانائی موسم سرما میں گیس بحران پر کے سی سی آئی کے خدشات پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اجلاس بھی بلائے گی تاکہ وہ سردیوں کے موسم میں ایس ایس جی سی ایل کی صنعتوں، صارفین کو گیس کی آسانی سے فراہمی کے طریقے اور ذرائع تلاش کر سکیں۔ ایم ڈی ایس ایس جی سی کو بھی ہدایت کی جائے گی کہ وہ اس سلسلے میں کے سی سی آئی کے ساتھ اجلاس بلائیں۔اس موقع پر وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد نے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے کاٹن یارن کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کرنے کے مطالبے پر غور کر نے کی یقین دہانی کروائی۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کے سی سی آئی کی جانب سے ایس آر او333(I) مورخہ02-05-2011 کے تحت کاٹن یارن کے تاجروں، بروکرز پر رعایتی شرح کو 0.1 فیصد سے 0.01 فیصد تک کم کرنے کی تجویز پر ویلیو ایڈڈ برآمدات کے وسیع تر مفاد میں غور کیا جائے گا۔رزاق داؤد نے کے سی سی آئی کی جانب سے گودام، کولڈ چین، کولڈ اسٹوریج کو انڈسٹری کا درجہ دینے کی تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے کا جائزہ لے گی۔انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ لوکل ٹیکسز اور لیویز (ڈی ایل ٹی ایل) پر ڈرا بیک اسی شرح کے ساتھ جاری رہے گا یا حکومت ڈرا بیک کی شرح بڑھا سکتی ہے جبکہ پرانے انکم ٹیکس کلیمز بھی جلد از جلد واپس کردیئے جائیں گے۔چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو ڈاکٹر اشفاق احمد نے اس موقع پر یقین دلایا کہ حکومت  شناختی کارڈ کی شرط اور 3 فیصد ٹیکس سے متعلق معاملے کا جائزہ لے گی جو کہ کے سی سی آئی کی رائے کے مطابق لازمی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اختیاری ہونا چاہیے کیونکہ غیر رجسٹرڈ افراد کو مال کی فروخت پر 3 فیصد ٹیکس پہلے ہی جمع کرایا جا رہا ہے اس لیے شناختی کارڈ مانگنے کا جواز نہیں بنتا۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ اگلے ہفتے بذریعہ زوم وہ اجلاس منعقد کریں گے تاکہ مختلف ٹیکس مسائل کی پیش قدمی کے حوالے سے گفت و شنید کی جاسکے۔درآمدی کنٹینر یا کنسائمنٹ کے اندر انوائس اور پیکنگ لسٹ ڈالنے کی شرط کی وجہ سے درپیش مسائل کے جواب میں قانون سازوں نے کے سی سی آئی کی تجویز پر نظر ثانی کی یقین دہانی کر وائی جس کے مطابق بینک کو صرف دستاویز ملنے چاہیے۔جب انوائس اور پیکنگ کی فہرست دستاویزات کے ساتھ منسلک ہو اور کسٹم کو انوائس اور پیکنگ لسٹ مہیا کرنے کے بعد سامان ریلیزکیا جائے۔اجلاس میں یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ حکومت سیریل نمبر 4 کے تحت شق میں ترمیم کے لیے کے سی سی آئی کی تجاویز پر غور کرے گی جس میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں ایک نیا سیکشن 114B کا اندراج کیا گیا ہے جس کے تحت ایف بی آر کو صوابدیدی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں کہ وہ موبائل فون، سمز، بجلی اور گیس کا کنکشن منقطع کرنے کے عمومی احکامات جاری کرے۔اے ٹی ایل پر ظاہر نہ ہونے والے افراد کو ریٹرن داخل کرنے پر مجبور کرنے سے متعلق کراچی چیمبر نے تجویز دی کہ ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے شق میں ترمیم کرتے ہوئے اے ٹی ایل پر ظاہر نہ ہونے والے افراد کی اصطلاح کو غیر رجسٹرڈ افراد سے تبدیل کیا جائے۔کے سی سی آئی کے وفد نے حماد اظہر، رزاق داؤد اور دیگر کے ساتھ اجلاس کے انعقاد اور اپنے وعدے کو پورا کرنے پر وزیر خزانہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تاجروصنعتکار برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے شوکت ترین کے ذمہ دارانہ طرزعمل اور سنجیدگی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ وزیر خزانہ نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ وہ ہر 3 ماہ بعد کے سی سی آئی کا دورہ کریں گے جبکہ چیئرمین ایف بی آر بھی ماہانہ بنیادوں پر چیمبر کا دورہ کریں گے۔

مزید :

صفحہ اول -