منشیات برآمدگی کیس،رانا ثناء سمیت دیگر ملزموں پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی 

منشیات برآمدگی کیس،رانا ثناء سمیت دیگر ملزموں پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی 

  

لاہور(نامہ نگار)انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج محمد نعیم شیخ نے 15 کلو منشیات برآمدگی کیس میں ملوث پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ہنمارانا ثنااللہ کے مقدمہ کی سماعت16اکتوبر تک ملتوی کردی،گزشتہ روز بھی رانا ثناء اللہ سمیت دیگر ملزموں پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکی، دوران سماعت راناثناء اللہ کی جانب سے سے منجمد پراپرٹی بحال کرنے کی درخواست دائر کر دی گئی جس پر عدالت نے وکلاء سے آئندہ سماعت پردلائل طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ فیصلے سے قبل کیسے یہ درخواست نمٹا سکتا ہوں،راناثناء اللہ پر15 کلو منشیات برآمد ہونے کا الزام ہے،اے این ایف حکام نے رانا ثناء اللہ کے خلاف چالان عدالت میں جمع کروا رکھا ہے۔دوسری جانب انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں پیشی کے بعد رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن طالبان نے اے پی ایس کے بچوں کو شہید کیا،عمران خان ان کواین آر او دینے کی بات کررہے ہیں،عمران خان اپوزیشن لیڈر سے نہیں مگر مولوی فقیر سے مذاکرات کر سکتے بیں،حکومت کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کر رہی ہے،ہزاروں کی تعداد میں فوجی اور سویلین شہیدہوئے،یہ اپوزیشن کے ساتھ بات کرنا توہین سمجھتا ہے لیکن  شہید کرنے والے طالبان سے این آد او کی بات کرنا چاہتا ہے،وزیر اعظم اپوزیشن سے بات کرنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں،52 روپے والی چینی 115 تک جا پہنچی،ملک میں اخلاقی اور معاشی تباہی کر دی گئی   انہوں نے مزیدکہا کہ انہیں بتایا گیا کہ کس طرح نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے کے لئے اس وقت کے فاضل جج پردباؤ ڈالا گیا،چیئر مین نیب کی پہلے ویڈیو ریلیز کی گئی جب وہ ٹوکرے تلے آ گئے تو اب کہتے ہیں وہ اچھے ہیں ہم ان کایہ انتقام بھی برداشت کر رہے ہیں،اس سلیکٹڈ ٹولے نے سیاسی رواداری ختم کر دی،ڈالر 172 روپے پر بھی رکنے کا نام نہیں لے رہا،گندم اپنے ملک سے زیادہ قیمت سے برآمد کی جارہی ہے،سیاسی، معاشی، اخلاقی تباہی کے بعد قوم کی حمیت کو بھی تباہ کرنے جا رہے ہیں۔

رانا ثناء اللہ 

مزید :

صفحہ اول -