موٹرسائیکل چوری، ذہنی معذور نوجوان گرفتار، پولیس کاوحشیانہ تشدد

موٹرسائیکل چوری، ذہنی معذور نوجوان گرفتار، پولیس کاوحشیانہ تشدد

  

وہاڑی(بیورورپورٹ،نمائندہ خصوصی) پولیس تھانہ دانیوال کا انوکھا کارنامہ ذہنی معذور نوجوان کو موٹر سائیکل چوری کے الزام میں گرفتار کرلیا 13 روز تک مسلسل تشدد کا نشانہ بناتے رہے حالت غیر ہونے پر ہسپتال پھینک کر رفو چکر ہوگئے متاثرین کا حکام بالا سے انصاف کا مطالبہ نواحی علاقہ نو گیارہ ڈبلیو بی کی رہائشی بیوہ خاتون امینہ بی بی،یاسر علی اور کرن شہزادی(بقیہ نمبر23صفحہ6پر)

 نے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں تھانہ دانیوال پولیس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا نوجوان بیٹا مقصود جو کہ پیدائشی طور پر ذہنی معذور اور روانی سے بولنے سے بھی قاصر ہے کو دو ہفتے قبل تھانہ دانیوال کے تفتیشی جواد نے 24 ڈبلیو بی سے موٹر سائیکل چوری کے الزام میں گرفتار کرلیا تین دن تک تھانہ دانیوال کے اوپر کمروں میں قید کرکے ڈنڈوں اور جوتوں سے تشدد کرتے رہے ہم نے  معززین علاقہ کے ہمراہ  اس وقت کے ایس ایچ او حبدار حسین کو یقین دہانی کروائی کہ میرا بیٹا دماغی طور پر بیمار ہے اور اسے موٹر سائیکل چلانی بھی نہیں آتی جس پر انہوں نے ہم سے بیٹے کی رہائی کے عوض تین لاکھ روپے طلب کئے کہ مدعیوں کو دے کر صلح کروا دوں گا  میں بیوہ خاتون اتنے پیسوں کا بندوبست نہ کرسکی تو تفتیشی جواد لطیف نے ہمیں دھمکیاں دینی شروع کردیں کہ تمہارے بیٹے کو پولیس مقابلہ میں پار لگا دوں گا پولیس مسلسل 13 دن تک میرے معذور بیٹے کو جسمانی تشدد کا نشانہ بناتی رہی گزشتہ رات بھی دوران تشدد مقصود بے ہوش ہوگیا تو پولیس اسے ڈالہ میں ڈال کر ہسپتال پھینک گئی پولیس نے میرے بیٹے کے ساتھ سخت زیادتی کی ہے میری ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب،آر پی او ملتان اور ڈی پی او وہاڑی سے اپیل ہے کہ ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے اور میرے بیٹے کو انصاف دیا جائے۔

تشدد

مزید :

ملتان صفحہ آخر -