’ یکساں احتساب ہوتا تو قوم بین الاقوامی سطح پر بار بار شرمندہ نہ ہوتی‘ پنڈورا پیپرز کے انکشافات سے پہلے ہی سراج الحق بول پڑے

’ یکساں احتساب ہوتا تو قوم بین الاقوامی سطح پر بار بار شرمندہ نہ ہوتی‘ ...
’ یکساں احتساب ہوتا تو قوم بین الاقوامی سطح پر بار بار شرمندہ نہ ہوتی‘ پنڈورا پیپرز کے انکشافات سے پہلے ہی سراج الحق بول پڑے

  

 مردان(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ کرپشن پر سب کا یکساں احتساب ہوتا تو قوم بین الاقوامی سطح پر بار بار شرمندہ نہ ہوتی،ملک ایک قدم آگے،سو قدم پیچھے کے مصداق چل رہا ہے ،تین سال میں ملک بحرانوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، معاشی اور خارجہ پالیسی کے بحران نے پاکستان کو مزید کمزور کر دیا ہے، الیکشن کمیشن اور میڈیا حملوں کی زد میں ہیں،قومی اسمبلی کا مسلسل کورم پورا نہ ہونا حکومت کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے،پاکستان پہلے خود افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرئے اور پھر او آئی سی اجلاس بلا کر تمام ممالک مشترکہ طور پر طالبان کی حکومت تسلیم کریں،امریکا میں پاکستان کے خلاف ووٹ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے،امریکا افغانستان سے معافی مانگے اور انکی حکومت کو تسلیم کرے،نیب نے کچھ افراد کے علاوہ کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی،31اکتوبر کو بے روزگار نوجوانوں کو اسلام آباد میں جمع کریں گے.

فضلاء کانفرنس مفتاح العلوم  مردان میں خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےامیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں نے ملک کو بحرانوں کی آماجگاہ بنا دیا ہے مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن اپنے عروج پر ہے جبکہ مافیاز کو کھلی چھٹی ہے ان کے ہاتھ روکنے والا کوئی بھی نہیں یہی وجہ ہے کہ خطے میں سب سے زیادہ مہنگائی ہمارے ملک میں ہے جس میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے،چوتھے سال میں بھی حکومتی دعوے اور اعلانات میں کوئی صداقت نظر نہیں آئی، ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کی خیالی عمارت زمین بوس ہو چکی ہے،ڈالر ملکی تاریخ کی سب سے بلند سطح پر اور روپیہ پچاس فیصد قدر کم ہونے کے بعد خطے کی سب سے کمزور کرنسی بن چکا ہے ۔

سراج الحق نے کہا کہ چار وزرائے خزانہ،تیرہ معاونین خصوصی برائے وزیر اعظم، چھے چیئرمین ایف بی آر،پانچ فنانس سیکرٹری، دو گورنرسٹیٹ بنک اور بار بار آئی جی پولیس کی تبدیلی تو ہوتی رہی لیکن حالات میں بہتری نہ لائی جا سکی، عوام کی مشکلات،آزمائشیں ٹاپ جبکہ ملک مجموعی طور پر ریورس گئیر میں ہے مہنگائی کے طوفان نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے۔

امیر جماعت نے کہا کہ صرف جماعت اسلامی ہی ملک کو ان بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے، ہمارے ساتھ قابل اور پروفیشنلز کی بڑی ٹیم موجود ہے،عوام اگر اپنی آنے والی نسلوں پر احسان کرنا چاہتی ہیں تو وہ جماعت اسلامی کو ووٹ دیں، ہم اس ملک کو حقیقی معنوں میں ایک فلاحی، اسلامی ریاست بنائیں گے جس میں بے روز گاری، مہنگائی، کرپشن کا خاتمہ ہو گا اور ہمارا ملک بحرانوں سے نکل کر دنیا میں ایک بلند مقام حاصل کر سکے گا۔

ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) احتساب سب کا نعرہ تو لگاتی رہی لیکن حکومت ملنے پر سب سے پہلے وزیر اعظم نے اسی سے یوٹرن لیا اور جن کا احتساب ہونا چائیے تھا وہی مافیا ملک پر قابض ہو گیا،نیب خود ایک قابل احتساب ادارہ بن چکا ہے جس کو صرف سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اگر سب کا بے لاگ اور میرٹ پر احتساب ہوتا تو ملک کی آج دنیا بھر میں اتنی بد نامی نہ ہوتی،ملک میں وسائل کی کمی نہیں ہے، اللہ تعالی نے ہمیں ہر نعمت سے مالامال کیا لیکن کرپٹ ٹولے اور مافیاز نے ملک کو ہمیشہ لوٹا ہے جن کا کوئی احتساب نہیں کر سکا پاناما لیکس میں شامل 436 افراد میں اکثریت پی ٹی آئی کی حکومت میں شامل ہیں، اسی لیے ان کا بھی احتساب نہیں ہوا۔

مزید :

قومی -