’چین کی طرح بھارت بھی سرحد پر فوجیو ں کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے ‘ بھارتی آرمی چیف کا اہم ترین بیان سامنے آگیا ،دونوں ملکوں میں ایک بار پھر جھڑپوں کا خطرہ 

’چین کی طرح بھارت بھی سرحد پر فوجیو ں کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے ‘ بھارتی ...
’چین کی طرح بھارت بھی سرحد پر فوجیو ں کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے ‘ بھارتی آرمی چیف کا اہم ترین بیان سامنے آگیا ،دونوں ملکوں میں ایک بار پھر جھڑپوں کا خطرہ 

  

نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکونڈنروا نے کہا کہ چین بڑی تعداد میں متنازع سرحد پر فوجی دستے بھیج رہا ہے جس نے نئی دہلی کو بھی اسی طرح کی تعیناتی پر اکسایا اور انہوں نے اس صورتحال کو باعث تشویش قرار دیا۔

جنرل منوج م±کونڈ نروانے نے لداخ میں صحافیوں کو بتایا کہ ساڑھے 3 ہزار کلو میٹر طویل سرحد پر چینی فوجی موجود ہیں اور حال ہی میں ان میں بڑی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو باعث تشویش ہے۔جنرل منوج نروانے کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کی جانب سے جواباً سرحد پر تعینات فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

بھارتی اخبار 'ٹائمز آف انڈیا' نے جنرل منوج نروانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی جدید ہتھیار نصب کر چکے ہیں، ہم مضبوط ہیں اور ہر طرح حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔جون میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد سے بھارت اور چین کے درمیان اعلیٰ سطح کی فوجی بات چیت جاری ہے اور بھارتی جنرل منوج نروانے کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے ایک اور اجلاس متوقع ہے۔بھارتی جنرل کا بیان چینی دفتر خارجہ کے ترجمان ہوا چونینگ کے الزام کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارتی سپاہی غیر قانونی طور پر سرحد پار کر کے چین میں داخل ہوئے جس پر نئی دہلی کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔

 دونوں جوہری صلاحیت سے لیس پڑوسیوں کے درمیان مہلک سرحدی جھڑپوں کا آغاز گزشتہ برس جون میں تبت کے قریب بھارتی خطے لداخ میں واقع تزویراتی اہمیت کی حامل دریائے گلوان کی وادی میں ہوا تھا۔تصادم کے بعد دنیا کی دو گنجان آباد اقوام نے بلند ترین ہمالیہ خطے میں کئی ہزار اضافی فوجی دستے تعینات کردیے تھے۔

مزید :

بین الاقوامی -