احسن اقبال کا وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ ، غریدہ فاروقی نے ایسے سوالات اٹھا دیئے کہ ن لیگی قیادت حیران رہ جائے

 احسن اقبال کا وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ ، غریدہ فاروقی نے ایسے سوالات ...
 احسن اقبال کا وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ ، غریدہ فاروقی نے ایسے سوالات اٹھا دیئے کہ ن لیگی قیادت حیران رہ جائے

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے پنڈورا پیپرز میں مبینہ طور پر وزیراعظم عمران خان کی آفشور کمپنیاں سامنے آنے کی خبروں پر استعفے کا مطالبہ کیا تو معروف صحافی اور اینکر پرسن غریدہ فاروقی بھی خاموش نہ رہیں اور سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ احسن اقبال کا بیان سیاسی ہے اسے سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں ،ابھی تو پیپرز سامنے نہیں آئے اور نہ ہی کسی دستاویزات میں یہ ثابت ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان یا ان کے کسی فرنٹ مین کے نام پر آفشور کمپنی ہے تو پھر اپوزیشن کے الزامات اور حکومتی وزراء کی تردیدیں سمجھ سے بالا تر ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے غریدہ فاروقی نے کہاکہ پنڈورا باکس پر بات کرنا ابھی قبل اَز وقت ہے،جہاں تک احسن اقبال کا وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ ہے وہ وہ ایک سیاسی بیان ہےاور سیاست دانوں کا کام ہی یہی ہے کہ وہ سیاسی بیان دیں گے ،جس طرح گذشتہ روز نجی ٹی وی چینل اے آر وائے پر ایک خبر چلائی گئی یا چلوائی گئی اور اس میں ساری تفصیلات بتائی گئیں جبکہ ابھی تک پنڈورا پیپرز سامنے آئے ہی نہیں، اس میں ہمیں پتا ہی نہیں کہ وزیراعظم عمران خان کا نام ہے یا نہیں ؟ابھی تک پیپرز تو سامنے نہیں آئے،انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس(آئی سی آئی جے)نے پیپرز جاری تو نہیں کئے ،پاکستان میں جن صحافیوں عمر چیمہ اور فخر درانی نے اس تحقیقات میں کام کیا ہے ،اُن میں سے بھی کسی نے بات نہیں کی کہ وزیراعظم عمران خان کا نام ہے یا نہیں ؟تو پھر اتنی بڑی خبر کسی چینل پر کیسے چل گئی ؟یہ خبر کہاں سے آئی کہ وزیراعظم عمران خان کی دو آفشور کمپنیاں ہیں ؟فرید الدین کون ہے اور یہ بندہ کہاں سے نکل آیا ؟اس کا وزیراعظم  عمران خان سے کیا رشتہ ہے اور زمان پارک میں ایک ہی نمبر کے گھر کتنے ہیں؟کوئی دستاویزات تو سامنے لے کر آئے نا ایسے ہی ملک کے وزیراعظم پر الزامات لگا رہے ہیں اور خبریں چلا رہے ہیں تو پھر یہ تو بڑی غلط قسم کی صحافت ہےاور یہ بڑے غلط قسم کی سیاست ہے کہ خبر سامنے آئی نہیں اور اپوزیشن الزامات لگا رہی ہے اور حکومتی وزراء اس کی تردید کر رہے ہیں۔

غریدہ فاروقی نے کہا کہ یہ بھی بڑی غلط قسم کی بات ہے کہ ابھی الزام لگا نہیں اور نہ ہی ثابت ہوا ہے اور آپ ملک کے وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں ،اس لئے میں نے کہا کہ سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کا کام ہے کہ وہ اس طرح کے بیانات دیتے رہتے ہیں ،ان بیانات کو اس وقت تک سنجیدہ نہیں لینا چاہئے جب تک یہ پیپرز سامنے نہیں آ جاتے ،جب تک کہ کھل کے سامنے نہیں آ جاتا کہ ان پیپرز میں  وزیر اعظم کا نام ہے کہ نہیں ؟آفشور کمپنیاں ان کے نام پر ہیں یا نہیں ہیں ؟کوئی فرنٹ مین ہے یا نہیں ہے؟فرید الدین کا نام ہے یا نہیں ہے؟یہ سب بہت اہم سوالات ہیں لیکن جس قسم کا ایک سیاسی ماحول بن گیا ہے وہ بڑا عجیب ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -