پنڈورا لیکس کے معاملے پر وزیراعظم کا  موقف بھی سامنے آگیا

پنڈورا لیکس کے معاملے پر وزیراعظم کا  موقف بھی سامنے آگیا
پنڈورا لیکس کے معاملے پر وزیراعظم کا  موقف بھی سامنے آگیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے پنڈورا لیکس میں شامل افراد کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد کی تحقیقات کرے گی۔اگر اس دوران کوئی غیر قانونی پریکٹس پائی گئی تو ان کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن لیا جائے گا۔ہم پنڈورا لیکس  ​کو خوش آمدید کہتے ہیں،اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کے مطابق سات ٹریلین کی رقم آف شور کمپنیوں میں لگائی گئی ہے۔ اشرافیہ کی غیر قانونی دولت منظرعام پرلانےکوسراہتے ہیں۔ منی لانڈرنگ،ٹیکس چوری کیلئے آف شور کمپنیاں جنت ہیں۔میں نے اپنی بیس سال جدوجہد کے دوران جانا ہے کہ ملک غریب نہیں ہوتے مگر کرپشن کی وجہ سے غریب ہوتے ہیں کیونکہ کرپش کی وجہ سے رقم لوگوں پر خرچ نہیں ہوتی۔جیسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر کی دولت کو لوٹا ایسے ہی حکمرانی کرنے والے لوگ ملکوں کو لوٹ رہے ہیں۔بدقسمتی سے بڑے ممالک اس پریکٹس کو روکنا نہیں چاہتے۔میری دنیا سے اپیل ہے کہ اس چیز سے ایسا ہی نپٹا جائے جیسا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے نپٹا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ پنڈورا پیپرز میں مجموعی طور پر 200 سے زائد ممالک کی 29 ہزار سے زائد  آف شور کمپنیوں کی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ پنڈورا پیپرز میں 700 سے زائد  پاکستانیوں کے نام بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ پنڈورا پیپرز میں 45 ممالک کے 130 سے زائد ارب پتی افراد کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ آئی سی آئی جے نے دو سال کی محنت کے بعد پنڈورا پیپرز تیار کیے ہیں۔ اس سکینڈل کی تیاری میں 117 ملکوں کے 150 میڈیا اداروں سے وابستہ 600 سے زائد صحافیوں نے حصہ لیا۔  یہ انسانی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی صحافتی تحقیق ہے جو ایک کروڑ 19 لاکھ خفیہ دستاویزت پر مشتمل ہے۔

صحافیوں کی اسی تنظیم نے 2016 میں پاناما پیپرز جاری کیے تھے جس میں 444 پاکستانیوں کے نام شامل تھے۔ انہی کی وجہ سے پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -