پنڈورا پیپرز ، وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا موقف آگیا، آف شور کمپنیوں والے پاکستانیوں پر بجلیاں گرادیں

پنڈورا پیپرز ، وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا موقف آگیا، آف شور کمپنیوں والے ...
پنڈورا پیپرز ، وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا موقف آگیا، آف شور کمپنیوں والے پاکستانیوں پر بجلیاں گرادیں
سورس: File

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ انہوں نے سلک بینک میں سرماریہ کاری حاصل کرنے کیلئے آف شور کمپنیاں کھولی تھیں، ان کمپنیوں میں کوئی ٹرانزیکشن نہیں ہوئی اور انہیں ایک سال کے عرصے میں ہی بند کردیا گیا۔ اگر مقصد ٹیکس بچانا ہوتا تو کمپنیاں اپنے فیملی ممبرز کے نام پر نہ بنائی جاتیں ، جن لوگوں کے نام پنڈورا پیپرز میں آئے ہیں ، اگر انہوں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ انہوں نے چاروں  آف شور کمپنیاں 2013 سے 2014 کے درمیان اس وقت بنائی تھیں  جب سلک بینک کیلئے سرمایہ کاری جمع کی جا رہی تھی۔ سعودی سرمایہ  کار طارق بن لادن سلک بینک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے تھے جس کیلئے سٹیٹ بینک کے پاس گئے جس نے منظوری دی اس کے بعد چار آف شور کمپنیاں کھولی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ چاروں آف شور کمپنیوں کا نہ تو کوئی اکاؤنٹ کھلا اور نہ ہی کوئی ٹرانزیکشن ہوئی، ایک سال کے اندر یہ کمپنیاں بند ہوگئیں، یہ کمپنیاں اس لیے ہماری فیملی کے نام پر کھولی گئی تھیں کیونکہ سلک بینک ہمارے نام پر تھا۔ 

وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ انہوں نے آف شور کمپنیاں ٹیکس بچانے کیلئے نہیں بنائی تھیں ، وہ پاکستان کے سب سے بڑے ٹیکس دہندگان میں شامل ہیں، اگر انہوں نے ٹیکس بچانا ہوتا تو اپنے یا فیملی کے نام پر کمپنی کھولنے کی بجائے کسی اور نام سے کمپنی کھولتے۔ اگر یہ کمپنیاں ان کی فیملی کے نام پر کھلی ہیں تو ان کے نام پر ہی سرمایہ آنا تھا، چونکہ وہ پاکستان کے ٹیکس دہندہ ہیں اس لیے ان کمپنیوں کے نام پر پیسہ آتا تو انہیں اس پر ٹیکس  بھی ادا کرنا پڑتا لیکن بات وہاں تک نہیں پہنچی اور کمپنیاں بند کر دی گئیں۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ذریعے ان تمام پاکستانیوں کی تحقیقات کریں گے جن کے نام پنڈورا پیپرز میں سامنے آئے ہیں۔ اگر کسی نے کوئی غلط کام کیا ہوگا تو اس کے خلاف نہ صرف کارروائی ہوگی بلکہ کارروائی ہوتی ہوئی نظر بھی آئے گی۔

خیال رہے کہ پنڈورا پیپرز میں مجموعی طور پر 200 سے زائد ممالک کی 29 ہزار سے زائد  آف شور کمپنیوں کی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ پنڈورا پیپرز میں 700 سے زائد  پاکستانیوں کے نام بھی شامل ہیں جن میں موجودہ اور سابق وزرا، سابق جرنیل، بیورو کریٹس اور کاروباری شخصیات شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ پنڈورا پیپرز میں 45 ممالک کے 130 سے زائد ارب پتی افراد کا پردہ بھی فاش کیا گیا ہے۔

آئی سی آئی جے نے دو سال کی محنت کے بعد پنڈورا پیپرز تیار کیے ہیں۔ اس سکینڈل کی تیاری میں 117 ملکوں کے 150 میڈیا اداروں سے وابستہ 600 سے زائد صحافیوں نے حصہ لیا۔  یہ انسانی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی صحافتی تحقیق ہے جو ایک کروڑ 19 لاکھ خفیہ دستاویزت پر مشتمل ہے۔

صحافیوں کی اسی تنظیم نے 2016 میں پاناما پیپرز جاری کیے تھے جس میں 444 پاکستانیوں کے نام شامل تھے۔ انہی کی وجہ سے پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

مزید :

قومی -