’فیصل واؤڈا ایک طرح سے لاقانونیت کی علامت بنے ہوئے ہیں‘صحافی عمر چیمہ پی ٹی آئی رہنما کے خلاف کھل کر بول پڑے

’فیصل واؤڈا ایک طرح سے لاقانونیت کی علامت بنے ہوئے ہیں‘صحافی عمر چیمہ پی ...
’فیصل واؤڈا ایک طرح سے لاقانونیت کی علامت بنے ہوئے ہیں‘صحافی عمر چیمہ پی ٹی آئی رہنما کے خلاف کھل کر بول پڑے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس  (آئی سی آئی جے) نے پنڈورا پیپرز جاری کردیے ہیں جن میں 700 پاکستانیوں کے نام شامل ہیں،آف شور کمپنیاں رکھنے والے پاکستانیوں میں موجودہ اور سابق وزرا، سابق فوجی جرنیل ، کاروباری شخصیات اور ان کے رشتہ دار شامل ہیں، آئی سی آئی جےکی تحقیقات  میں شامل پاکستان کےمعروف صحافی عمر چیمہ نے پنڈورا باکس کی فہرست میں موجود حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فیصل واؤڈا کے بارے میں ایسا انکشاف کردیا ہے کہ جان کر ہر کوئی دنگ رہ جائے۔

تفصیلات نجی ٹی وی ’جیو نیوز‘کی ٹرانسمیشن میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئےعمر چیمہ کا کہنا تھا کہ یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں احتساب بڑا سلیکٹڈ قسم کا ہوتا ہے اور اپنے مخالفین کو نشانہ بنایا جاتا ہے ،ہمارے ہاں ہونے والے احتساب کا مقصد احتساب کرنا نہیں ہوتا بلکہ مخالفین کو راستے سے ہٹانا ہوتا ہے،پنڈورا پیپرز میں جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان میں خسرو بختیار اور ان کی فیملی پر نیب نے خود سوال اٹھائے ہوئےہیں ،ان کے اثاثوں کے بارے میں نیب نے کافی تفصیل سے کام بھی کیا ہوا ہے لیکن پھر کیس کا کوئی پتا نہیں لیکن دوسری طرف کچھ کیسوں میں تو بنیادی لیول پر لوگوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑی بدقسمتی کی بات اور اس ملک کا المیہ ہے کہ فیصل واؤڈا ایک طرح سے لاقانونیت کی علامت بنے ہوئے ہیں، ان  کی دوہری شہریت کا معاملہ تھا ،الیکشن کمیشن نے بھی کوئی خاص ایکشن نہیں لیا ،عدالت میں بھی معاملہ چلتا رہا اور پھر ہم نے دیکھا کہ وہ قومی اسمبلی سے استعفا دے کر سینیٹر بن گئے،خان صاحب جو اینٹی کرپشن کے بہت بڑے چیمپئن ہیں ،اُنہیں اپنے ارد گرد موجود لوگوں کے بارے میں اتنی زیادہ فکر نہیں رہی جتنی اپوزیشن کی فکر ہے، اپوزیشن میں سے کوئی بھی بات کرتا ہے تو تحقیقات شروع ہو جاتی ہیں لیکن فیصل واؤڈا تو ابھی تک دندناتے پھر رہے ہیں ،فخر درانی نے جب فیصل واوڈا کو سوالات بھیجے تو فیصل واؤڈا نے آفشورکمپنی کے حوالے سے تو  کوئی جواب نہیں دیا  لیکن جتنی رعونت اور تحقیر آمیز انداز میں اُنہوں نےاُس میسج کا جو جواب دیا میں اس کو ٹی وی پر دہرا بھی نہیں سکتا ،یہ المیہ ہے کہ اُنہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ اُن کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہو سکتا ۔

مزید :

قومی -