سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی انگریز فوج کی توپوں نے شیر سنگھ کی فوج پر آگ برسانا شروع کردی

سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی انگریز فوج کی توپوں نے شیر سنگھ کی فوج پر آگ برسانا ...
سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی انگریز فوج کی توپوں نے شیر سنگھ کی فوج پر آگ برسانا شروع کردی

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:62 

گجرات کی شکست:

21 فروری 1848ءکا دن پنجاب کی تاریخ میں ایک افسوناک دن ہے اس روز شیر سنگھ چناب کو عبور کرکے لاہور کی طرف روانہ ہوا۔ گجرات کے نزدیک لارڈ گف اور جنرل وہش کی کیل کانٹے سے لیس فوج نے اس کی راہ روک لی۔ شیر سنگھ کے پاس گولہ بارود نہ ہونے کے برابر تھا جبکہ انگریز فوج کے پاس وافر مقدار میں گولہ بارود موجود تھا۔

سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی انگریز فوج کی توپوں نے شیر سنگھ کی فوج پر آگ برسانا شروع کردی۔ دشمن کی گولہ باری اس قدر شدید تھی کہ پنجابی توپیں تباہ ہوگئیں۔ شام ہونے تک لڑائی کا فیصلہ ہوگیا۔ حملہ آور جیت گئے اور پنجابی فوج کو شکست ہوگئی۔ اس لڑائی میں پہلی مرتبہ پنجابی اور افغان اپنے مشترکہ دشمن سے خلاف نبرد آزما ہوئے۔ امیر دوست محمد کا بیٹا اکرم خان ڈیڑھ ہزار گھوڑ سواروں سمیت شیر سنگھ کے دوش بدوش انگریزوں کے خلاف داد شجاعت دیتا رہا لیکن اس مشترکہ فوج کو انگریزوں کے مقابلے میں اس لیے شکست کا منہ دیکھنا پڑا کہ وہ اس جنگ کےلئے پہلے سے تیار نہیں تھے۔

 رنجیت سنگھ کی دوسری موت:

2 ہفتوں تک شیر سنگھ پنجاب میں مارا مارا پھرتا رہا۔ نہ اس کے پاس ہتھیار تھے اور نہ ہی فوج، ماسوائے چند جانثاروں کے۔ آخر مایوسی کے عالم میں اس نے 14 مارچ1848ءکو ضلع راولپنڈی میں مانکیاوالہ کے مقام پر انگریز جنرل گلبرٹ کے سامنے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا اور اپنی تلوار نیام سے نکال کر انگریز افسر کے حوالے کر دی۔ اس کے ساتھیوں نے بھی اس کی تقلید میں ہتھیار ڈال دیئے۔ ایک بوڑھے سکھ سردار نے غمناک آنکھوں سے اپنی تلوار کو بوسہ دے کر گلبرٹ کے قدموں میں رکھتے ہوئے گلوگیر آواز میں کہا”رنجیت سنگھ اصل میں آج مرا ہے۔“

 حکومت پنجاب کا ڈراپ سین:

 اس دکھ بھرے ڈرامے کا آخری منظر لاہور کے شاہی قلعہ میں اس جگہ انجام دیا گیا جسے مشہور مصنف کنہیا لال ”تخت گاہ“ کے نام سے یاد کرتا ہے۔ گورنر جنرل کا نمائندہ اور حکومت ہند کا خارجہ سیکرٹری سرہنری ایلیٹ برطانوی حکومت کے نمائندے کی حیثیت سے پنجاب کی خود مختار ی کے خاتمے کا اعلان کرنے آیا۔ اسے اپنی اہمیت کا احساس تھا۔ وہ انگریز افسروں کی معیت میں رعونت و تکبر کا مجسمہ بنا قلعہ میں داخل ہوا اوراس اونچی کرسی پر بیٹھ گیا جو اس کے لیے لائی گئی تھی۔ 

 اس ڈرامے کا دوسرا کردار مہاراجہ دلیپ سنگھ تھا جس کی عمر اس وقت 8 برس تھی۔ اسے مہاراجہ والی پگڑی اور شاہی لباس پہنا کر باپ کے تخت پر آخری مرتبہ بیٹھنے کے لیے لایا گیا۔ نو عمر ہونے کے باوجود اس کے چہرے سے حزن و ملال نمایاں تھا۔ یہ ڈرامہ 29 مارچ 1849 کو سٹیج کیا گیا۔ یہ دن پنجاب کی آزادی کے خاتمے اور انگریزوں کے اقتدار کا دن تھا۔ اس دن کے بعد پنجاب کو برطانوی سلطنت کا ایک حصہ اور پنجابیوں کو ان کا غلام بننا تھا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -