جب تک کوئی اس کی ہتھیلی پر 10 ڈالر کا نوٹ نہیں رکھتا تھا وہ بات نہیں سنتی تھی

جب تک کوئی اس کی ہتھیلی پر 10 ڈالر کا نوٹ نہیں رکھتا تھا وہ بات نہیں سنتی تھی
جب تک کوئی اس کی ہتھیلی پر 10 ڈالر کا نوٹ نہیں رکھتا تھا وہ بات نہیں سنتی تھی

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:34

 اونا اسی دن کام کی تلاش میں نکل گئی۔ رات کو ماریا نے بتایا کہ اسے ایک لڑکی ملی تھی جس کی سہیلی براؤنز میں گوشت لپیٹنے( wrapping) کے شعبے میں کام کرتی تھی اور اونا کے لیے وہاں کام کی جگہ نکال سکتی تھی۔ لیکن وہاں کی فور لیڈی ”تحفے تحائف “مانگتی تھی۔ جب تک کوئی اس کی ہتھیلی پر 10 ڈالر کا نوٹ نہیں رکھتا تھا وہ بات نہیں سنتی تھی۔ اب یہ بات سن کر یورگس کو کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔۔۔ اس نے صرف اتنا پوچھا کہ وہاں کام کی اجرت کیا ہوگی ؟ لہٰذا بات چیت بڑھائی گئی اور انٹر ویو کے بعد اونا نے گھر آکر بتا یا کہ فور لیڈی اس سے مطمئن محسوس ہو ئی تھی اور کہا تھا کہ وہ کوشش کرے گی کہ اونا کو سو¿ر کے گوشت پر چڑھائے جانے والا کپڑا سینے پر لگا دے جس سے وہ ہفتے کے 8 سے 10 ڈالر کما سکے گی۔ ماریا نے اس پر اپنی سہیلی سے مشورہ کیا اور گھر میں سب کی رائے لی گئی۔ سلائی کاکام ایک تہ خانے میں ہوتا تھا اور یورگس نہیں چاہتا تھا کہ اونا کسی تہ خانے میں کام کرے لیکن کام آسان تھا۔ انسان کو سب کچھ تو مرضی کے مطابق ملتا بھی نہیں۔

اس دوران آنٹ الزبیٹا، ننھے سٹینس کو ایک پادری کے پاس لے گئی اور اس کی عمر سے دو سال زیادہ کا سرٹیفیکیٹ بنوا لیا اور بچے کو اپنا روزگار کمانے کے لیے دنیا کے حوالے کر دیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ ڈرہم میں گھی بنانے کی نئی مشین آئی تھی اور جب ٹائم اسٹیشن کے سامنے ایک پولیس والے نے سٹینس اور اس کے سر ٹیفیکیٹ کو دیکھا تو دل ہی دل میں مسکراتے ہوئے اسے اشارے سے کام ملنے والی جگہ کا بتاےا۔ سٹینس ایک لمبے برامد سے ہو تا ہوا سیڑھیاں چڑھ کر ایک ایسے کمرے میں پہنچا جہاں بجلی کے بلب جل رہے تھے۔یہاں ڈبوں میں چکنائی بھرنے والی نئی مشینیں کام کر رہی تھیں۔ یہ گھی بالائی منزل پر بنتا تھا اور اس کمرے میں دھاروں کی شکل میں آتا تھا جس کی بُو توعجیب سی تھی لیکن دیکھنے میں یوں لگتا تھا جیسے دودھیا برف جیسے خوب صورت سانپ لہرا رہے ہوں۔ یہ دھاریں مختلف قسموں اور سائزوں کی تھیں۔ جب ایک خاص مالیت کی مقدار باہر آجاتی تو مشین خود بخود بند ہو جاتی۔ پھر مشین چکر دے کر ڈبے کو ایک اور دھار کے سامنے کر دیتی اور یہ سلسلہ تب تک چلتا جب تک ڈبا پورا بھر نہ جاتا، پھر اسے زور سے دبا کر ہموار کیا جاتا۔ اس کام کی نگرانی اور فی گھنٹا سیکڑوں ڈبوں کی بھرائی کے لیے وہاں دو انسانوں کا ہونا ضروری تھا۔ جن میں سے ایک کو یہ کرنا تھا کہ ہر سیکنڈ کے بعد ڈبے کو اس کی خاص جگہ پر رکھے اور دوسرے کا کام یہ تھا کہ ہر سیکنڈ بعد بھرا ہوا ڈبا وہاں سے اٹھا کر ایک ٹرے میں رکھے۔

جب ننھا سٹینس کچھ دیر حیران ہو کر یہ سب دیکھنے میں محو رہا تو ایک آدمی اس کے پاس آیا اور پوچھا کہ وہ کیا چاہتا ہے ؟ جس پر سٹینس نے جواب دیا ” نوکری “۔ پھر اس آدمی نے پوچھا ” عمر کتنی ہے ؟“ اور سٹینس نے جواب دیا ” 16 سال۔“ سال میں ایک دو بار ریاستی انسپکٹر پیکنگ پلانٹس کے معائنے کے لیے آتا تھا اور کام کرنے والے بچوں سے ان کی عمر پوچھتا تھا، اس لیے مالکان قانون کی پاس داری کا دھیان رکھتے تھے۔ باس نے ننھے لڑکے سے کا غذ لے کر اس پر نظر ڈالی پھر یہ کاغذ دفتر کی فائل میں لگانے کےلئے دے کر اسے کام سمجھانے لگا کہ کیسے گھی کا ڈبا اس کی جگہ پر رکھنا ہے۔ یوں سٹینس اپنے کام پر لگ گیا۔ شاید دنیا میں اس کا یہی مقدر تھا کہ وہ فرش کے 1فٹ ٹکڑے میںصبح 7 سے دوپہر 12 بجے تک اور پھر ساڑھے بارہ بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک اپنی جگہ سے ہلے اور بے دھیان ہوئے بغیر گھی کے ڈبے رکھتے ہوئے اپنی زندگی کے دن پورے کرتا رہے۔ گرمیوں میں چربی کی بُو سے اس کا دل متلانے لگتا تو سردیوں میںٹھنڈے تہ خانے میں گھی کے ڈبے اٹھاتے ہوئے اس کی انگلیاں جم جاتی تھیں۔ آدھا سال تو وہ صبح مونھ اندھیرے کام پر جاتا اور شام کو مونھ اندھیرے واپس لوٹتا۔ اسے یہ بھی بھول جاتا کہ سورج ہوتا کیسا ہے۔ اس مشقت کے بعد ہفتے کے آخر پر وہ اپنے گھر والوں کو 5سینٹ فی گھنٹا کے حساب سے 3 ڈالر کما کر دیتا۔یہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں روزگار کمانے والے لاکھوں بچوں کے مقابلے میںمناسب آمدن تھی۔

چوں کہ ابھی وہ جوان تھے اور امید اتنی جلدی نہیں مرتی اس لیے اونا اور یورگس دوبارہ حساب کتاب میں لگ گئے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ سٹینس کی اجرت سود کی رقم سے زیادہ ہے، جس سے ان کی بچت اتنی ہی رہے گی جتنی پہلے تھی۔2باتیںتھیں، ایک توبچہ کام سے اور پیسے کمانے کے خیال سے خوش تھا، دوسرے ان دونوں کو ایک دوسرے سے پیار بھی بہت تھا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -