خیر کا فیضان ہر حق دار کو خواہ دور کا ہو یا نزدیک کا پہنچنا بہرحال ضروری ہے

خیر کا فیضان ہر حق دار کو خواہ دور کا ہو یا نزدیک کا پہنچنا بہرحال ضروری ہے
خیر کا فیضان ہر حق دار کو خواہ دور کا ہو یا نزدیک کا پہنچنا بہرحال ضروری ہے

  

تحریر: ملک اشفاق

 قسط:32

 جالینوس کی تشرح کے مطابق فن طب کی تعلیم کے3 مراکز تھے۔ ان میں ایک شہر روڈس، دوسرا شہر قنیدس اور تیسرا شہر قوتھا۔ شہر روڈس جہاں طب کی تعلیم ہوتی تھی تیزی سے زلزلوں کی وجہ سے ویران ہوگیا اور اس شہر میں اسقلیبوس کا کوئی وارث نہ تھا۔ شہر قنیدس کا چراغ بھی گل ہوگیا کیونکہ اس شہر میں وارثین بہت کم تعداد میں باقی رہے۔ شہر قو جو بقراط کا مسکن تھا باقی وارثین کی قلت سے یہاں بھی تھوڑے ہی آثار زندہ رہ سکے۔

 بقراط نے فن طب پر نگاہ ڈالی اور دیکھا کہ آل اسقلیبوس کے وارث کم ہوگئے ہیں تو اس نے فن طب کو تمام عالم میں اور تمام انسانوں تک پھیلانے کا فیصلہ کرلیا تاکہ یہ فن فنانہ ہو سکے۔ اس نے کہا خیر کا فیضان ہر حق دار کو خواہ دور کا ہو یا نزدیک کا پہنچنا بہرحال ضروری ہے۔ اس نے اجنبیوں کو اس مہتم بالشان فن کی تعلیم دی اور ان سے ایک عہد لیا جسے خود اس نے اپنے قلم سے تحریر کیا تھا۔ اس نے اطباءطب سے وہ قسمیں بھی لیں جن کا اس عہد نامہ میں تذکرہ ہے اس نے تاکید کی جو شرط ان پر عائد کی گئی ہے اس کی خلاف ورزی نہ کریں گے نیز کسی کو فن کی تعلیم اسی وقت دیں گے جب ان سے بھی یہی عہدے لیں گے۔

ابو الحسن علی بن رضوان فرماتے ہیں:

 بقراط سے پہلے فن طب ایک خزانہ تھا جسے آباءاپنی اولاد کے لیے ذخیرہ کرتے تھے۔ یہ فن صرف ایک ہی خاندان میں محدود رہتا تھا جس کا تعلق اسقلیبوس کے خاندان سے تھا۔ یہ نام اسقلیبوس یا تو کسی فرشتہ کا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو طب کی تعلیم کے لیے معبوث فرمایا تھا یا وہ کوئی الٰہی طاقت بن کر آیا تھا جس نے لوگوں کو طب کی تعلیم دی۔ بہرحال یہ پہلا شخص تھا جس نے فن طب کو سکھایا۔ قدماءکے مطابق پہلے طالب علم نے اپنے آپ کو اس کی جانب منسوب کیا۔ اس زمانے میں معلم کو طالب علم کا باپ کہا جاتا تھا۔

 اس اولین طالب علم سے اسقلیبوس کی جانب منسوب گھرانے کی نسل چلی۔ یونان کے بادشاہ اور سردار اسی گھرانے سے ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے فن طب کی تعلیم دوسروں تک نہیں پہنچنے دی بلکہ انہی کے اندر وہ تعلیم مخصوص تھی۔ وہ صرف اپنے بیٹوں یا پوتوں کو ہی تعلیم دیا کرتے تھے۔ تعلیم کا طریق بالمشافہ تھا۔ کتابوں کے اندر فن طب کو مدون کرنے کا طریقہ نہ تھا۔ اگر کسی مسئلہ کو مدون کرنے کی ضرورت ہوتی تو اسے معمہ کی صورت میں مدون کرتے تاکہ ان کے علاوہ دوسرے نہ سمجھ سکیں۔ باپ بیٹے کو یہ معمہ سمجھا دیا کرتا تھا۔ طب فقط بادشاہوں اور فقیروں میں محدود تھی اس پر وہ کسی قسم کی اجرت نہ لیتے۔ فن طب کی خدمت غیر مشروط طور پر کرکے وہ لوگوں پر احسان کرتے تھے۔ یہی طریق مسلسل باقی رہا حتیٰ کہ اہل فوتین بقراط اور اہل ابدیرا میں ذمقراط پیدا ہوئے۔ یہ دونوں معاصر تھے۔

 ذمقراط نے زہد اختیار کیا اور اپنے شہر کا انتظام ترک کر دیا۔ بقراط نے اپنے گھر والوں کو دیکھا کہ فن طب کے باب میں ان کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور اسے فن طب کے ناپید ہو جانے کا اندیشہ لاحق ہوا چنانچہ اس نے کتابوں کے اندر صحت کے ساتھ اسے مدون کرنے کا ارادہ کر لیا۔ اپنے دونوں صاحب فضل و کمال فرزندوں اور اپنے ایک شاگرد خوبولس کو اس نے فن طب کی تعلیم دی۔ اسے محسوس ہوا کہ فن طب اس اسقلیبوس کے گھر سے نکل کر دوسروں تک منتقل ہو رہا ہے لہٰذا ایک عہد نامہ مرتب کیا جس میں طالبعلموں سے یہ قسم لی کہ وہ ہمیشہ پاک و صاف اور شرافت کے حامل رہیں گے۔

 پھر ایک ضابطہ مرتب کیا جس میں اس نے بتایا کہ فن طب حاصل کرنے کا کردار کیا ہو؟ تب ایک اصلیت مرتب کی جس میں ان تمام امور کی تفصیل پیش کی، جس کی ایک طبیب کو ضرورت ہوتی ہے۔( جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -