تھکن بہت ہوگئی پیٹ بھرا ہوا تھا،بستر پر گرا نیند نے آ لیا اور فرعونوں کی وادیوں میں ملکاؤں اور شہزادیوں کے جلو میں گھومتا حسیں خوابوں میں گم ہوگیا

Oct 03, 2024 | 10:11 PM

مصنف: محمد سعید جاوید
قسط:19
نیل کنارے
باہر نکل کر کچھ دیر تک دریائے نیل کے کنارے بنے ہوئے پارک کی گھاس پر بیٹھا تجسس بھری نظروں سے اس خوبصورت دریا کو دیکھتا رہا جس نے نا جانے کتنی صدیوں کی تاریخ اپنے اندر سمو رکھی تھی اور اب قسط قسط اسے منکشف کر رہا تھا۔ اس میں ہر طرف چھوٹی بڑی بادبانی کشتیاں اٹھکیلیاں کرتی پھر رہی تھیں۔ کچھ بڑی لانچیں بھی مسافروں کو لئے قاہرہ شہر کے خوبصورت مناظر دکھاتی پھر رہی تھیں یا پھر ان کو دریا کے اس پار اتار آتی تھیں۔
ابھی کچھ ہی دیر پہلے یہاں سے ایک بڑا سا بجرہ (Cruiser)بھی گزرا تھا جس کے عرشے پر سیاحوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا اور ان کے لیے محفل ناؤ نوش کا سامان ایک ترتیب سے رکھا جا رہا تھا۔ سرِشام ہی اس نے اپنے مسافروں کو کشتی گھاٹ سے اٹھا کر دور کہیں دریا کے کسی خاموش سے گوشے میں جا کر لنگرانداز ہو جانا تھا اور پھر وہاں انہوں نے پوری یکسوئی کے ساتھ شب بیداری کرنا تھی اور عیش و عشرت کا جشن برپا کرنا تھا۔ جس میں مغربی رقص کے علاوہ مصر کا مشہور اور روایتی بیلے اور کیبرے ڈانس کا اہتمام بھی ہوتا تھا۔
قریبی پل کے نیچے کچھ منچلے تیراک ڈبکیاں لگاتے پھر رہے تھے اور سیاحوں کو اشارے سے نیچے پانی میں سکے پھینکنے کے اشارے کرتے۔ جیسے ہی کوئی سکہ پانی میں گرتا وہ تیزی سے غوطہ لگاتے اور چند لمحوں میں اسے باہر نکال کر پھینکنے والے کو دکھا کر کمر میں بندھی ہوئی چمڑے کی چھوٹی سی پوٹلی میں ڈال لیتے۔یہ کوئی ایسا متاثر کن منظر نہیں تھا، کیونکہ ایسا تو کراچی میں بھی ہوتا تھا،جہاں منوڑے کے جزیرے کے پاس ایک پل پر آوارہ سے لڑکے اسی طرح سمندر کی تہہ سے پھینکے گئے سکے نکال لاتے تھے جس کو دیکھ کر وہاں موجود لوگ بڑے حیران ہوا کرتے تھے۔
دریائے نیل کو دنیا کا سب سے بڑا دریا مانا جاتا ہے جس کی لمبائی تقریباً 7 ہزار کلو میٹر ہے اور بعض مقامات پر تو اس کی چوڑائی 3 کلو میٹر تک جا پہنچتی ہے۔ یہ افریقہ کے 7 ممالک میں سے گزرتا ہوا پڑوسی ملک سوڈان سے مصر میں داخل ہوتا ہے اور وہاں سے اسوان، الأقصر اور قاہرہ میں سے ہوتا ہوا اسکندریہ کے قریب بحیرہ روم میں گر جاتا ہے۔
دریائے نیل نہ صرف علاقے کی مرکزی،معاشی اور معاشرتی شریان ہے بلکہ اس لق و دق علاقے میں زندگی کی اکلوتی رمق بھی ہے۔ مصر میں یہ دریا جہاں جہاں سے گزرتا ہے، بس اس کے اردگرد ہی کوئی تیس چالیس کلو میٹر کے علاقے میں زراعت ہوتی ہے، باقی حد نظر تک صحرائی یا پہاڑی سلسلے پھیلے ہوئے ہیں۔ مصر کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے اگر نیچے دیکھیں تو یہ دریا اور اس سے ملحقہ علاقے میں ہریالی، بھورے صحرا کی ریت میں ایک بڑے سانپ کی مانند بل کھاتی ہوئی چلی جاتی ہے اور یہ ایک بڑا ہی دلکش اور حسین نظارہ ہوتا ہے، جو دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتا ہے۔
قاہرہ بھی ان دوسرے شہروں کی طرح، جہاں سے دریا گزرتے ہیں، دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ جن کو آپس میں ملانے کے لئے دریا پر بہت سارے پل بنے ہوئے ہیں جن پر ہر وقت گاڑیوں اور لوگوں کی آمدو رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
دریا کے ساتھ ساتھ دونوں کناروں پر خوبصورت عمارتیں، وسیع و عریض ہوٹل، ریستوران، تفریح گاہیں اور بڑے بڑے شاپنگ مال بنے ہوئے ہیں۔ شام کو تو اس گزرگاہ پر بڑی رونق ہوتی ہے اور لوگ تفریح گاہوں اور چائے خانوں میں پہروں بیٹھے اس عظیم دریا کی گنگناتی ہوئی روانی اور اس کے پانی سے ٹکرا کر آتی ہوئی ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرتے ہیں۔
میں بھی اِسی شاہراہ  قصر نیل پر ٹہلتا ہوا اپنے ہوٹل کے کمرے تک پہنچ گیا۔ تھکن بہت ہوگئی تھی اور پیٹ بھی بھرا ہوا تھا۔بستر پر گرا اور نیند نے آ لیا اور میں فرعونوں کی وادیوں میں ان کی ملکاؤں اور شہزادیوں کے جلو میں گھومتا ہوا حسیں خوابوں میں گم ہوگیا۔(جاری ہے) 
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں 

مزیدخبریں