ظہر سے عصر تک :سلیم کے ساتھ (3)

ظہر سے عصر تک :سلیم کے ساتھ (3)

  

اب چھوڑو،تم اپنے لاہور کے قصے۔تم نے وہ خط نہیں دیکھے جو میرے نام آتے رہے۔کب کے جاننے والوں نے کیا کیا نہیں کہا؟تو گالیاں کھا کے بے مزہ ہوگئے؟اب تم ذرا جانے دو اِن لوگوں کو جن کو گالی دینے کا سلیقہ بھی نہیں۔ ابھی ابھی لاہور ہی میں مذہب کا نام لے کر ایک نیاگروہ نکلا ہے جس نے عسکری پر ایک تازہ مہم کا آغاز کیا ہے اور تم اُن کا بھی جواب لکھنے بیٹھ گئے۔تمہارے کرنے کے ہزاروں کام ہیں جن میں سے کوئی بھی اتنے وقت میں ہوجاتا تو بہتر ہوتا۔ یہ تو بتاﺅ کون لوگ ہیں وہ اور کیوں ایسا کررہے ہیں؟

 اِن حضرات نے ایک مرحوم مفسر قرآن کو اپنا امام بنا رکھا ہے اور عسکری صاحب کا قصوراتنا ہے کہ شمس الرحمن فاروقی کے نام خطوط میں اُنہوں نے ایک دو جگہ اِس امام کے عقائد پر ایک شنیدہ بات لکھ دی ہے۔اب وہ غلط ہے تو بھائی اِس کی مدلل تردید کرو۔عسکری کے نقد ادب سے لے کر اُن کے افکار کے بارے میں سوقیانہ لہجے کے ساتھ ساتھ لکھ کر تو آپ کے امام کا نام روشن نہیں ہوسکتا نہ اُن کے عقائد درست ہوسکتے ہیں۔

اچھا یہاں ایک اور صاحب ہیں جنہیں تم جانتے ہو، اُنہوں نے میرے متعلق کیا لکھ دیا اخبارں میں؟ کراچی بلکہ کہیں کے اخبار بھی میں تو بس کبھی کبھی جھانک کر دیکھ لیتا ہوں۔مَیں نے نہیں پڑھا۔فرماتے ہیں کہ”نئی نظم او رپورا آدمی“ اصل میں عسکری صاحب کا لکھا ہوا مضمون تھا جسے سلیم احمد نے اپنے نام سے چھاپ دیا۔سجان اﷲ! اور اِس کے باوجود عسکری صاحب سے الگ ہونے کے بعد اُنہیں برسوں تک بولنے نہیں دیا حتیٰ کہ بیچارے اِسی غم میں فوت ہوگئے۔اب ایسوں کو کیا جواب دیا جائے؟اور کہاں تک اِن کے بارے میں سنجیدگی سے گفتگو کی جائے۔

اتنے میں سگریٹ کی ڈبیا کی طرف ہاتھ بڑھا تو خالی تھی۔بیٹی کو آواز دی کہ اور سگریٹ لے کے آئے۔وہ بیچاری لے تو آئی، مگر اِس فہمائش کے ساتھ کہ امی کہتی ہیں کہ سگریٹ ذرا کم پئیں۔پوچھا کہ میری طرح تمہیں بھی منع ہے؟ ہاں اور تمہاری طرح مَیں بھی باز نہیں رہ سکتا اور دونوں بیٹھے رہے تو دیکھو دو ڈبیاں خالی ہوگئیں۔میرے والی تو دس بارہ سگریٹ ہوں گے اور تمہارے؟

 یادنہیں، مگر چلنے سے پہلے ایک بات بتاﺅ۔ایک دوست کی تجویز ہے کہ یہاں بھی عسکری پر مقالات کا ایک نیا مجموعہ ترتیب دیا جائے۔شخصیت اور فکر وفن،ہر چیز کے بارے میں جس سے عسکری کو دلچسپی تھی۔ایک خاکہ سا بنایا ہے اور تمہارے نام کے آگے لکھا ہے ۔عسکری اور حکمت ِ ایمانیاں۔ کیا چاہتے ہو؟بس یہی کہ عسکری صاحب نے جو ایک جگہ سنائی کا شعر استعمال کیا ہے؟

چند خوانی حکمتِ یونانیاں

حکمتِ ایمانیاں را ہم بخواں

اِس کی ذرا وضاحت ہوجائے۔

ارے ہاں، سنائی توجب یہ کہا تھا تو نہ مولوی اشرف علی تھانوی تھے،نہ شاہ ولی اﷲ، نہ مجدد صاحب، بلکہ شاید مولانا روم اور ابن عربی بھی بعد میں ہوئے ہیں تو پھر سنائی کون سی حکمت ہم سے پڑھوانا چاہتے تھے؟قرآن وحدیث؟نہیں، اِسے تو حکمت ِایمانی کہیے۔ حکمت ِایمانیاں تو وہ ہوں گی جسے اہل ایمان تے حکمتِ ایمانی کی بنیاد پر اپنی فہم وبصیرت سے تعمیر کیا۔وہ کون سی حکمت ہے؟مَیں سمجھ گیا ،نہیں بھائی!اب ہم قرآن وحدیث کا نام لے سکتے ہیں اور بعد میں تو مولوی اشرف علی تھانوی ؒبلکہ اِس سے آگے مولانا مودودیؒ تک بھی جاسکتے ہیں، مگر اہل ایمان نے جو حکمت بنائی تھی اُسے ہم نے مسمار کردیا۔اِسی لئے اب کچھ سمجھ میں نہیں آتا،تمہاری سمجھ میں کچھ آتا ہے تو خود ہی لکھو۔

مَیں تو تم جانتے ہو ادب کی سرحد سے باہر قدم رکھتے ہوئے سو بار ہچکچاتا ہوں۔اﷲ تمہیں زندگی دے اور صحت یاب ہوجاﺅ تو سوچنا۔شاید کوئی راستہ نکلے۔

اُس نے سوچنے کا وعدہ کیا۔ مگر پھر اُسے دو دن سے زیادہ مہلت نہ مل سکی اور یہ تجویز بھی بہت سی تجویزوں کے ساتھ خاک ہوکر رہ گئی۔اگلے دن مَیں گجرات پہنچ کر اپنے بزرگ کی رسم قل میں شریک ہوا ور اُس کے بعد لاہور پہنچا تو معلوم ہوا،سلیم کا سورج غروب ہوگیا۔انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔

ظہر سے عصر تک کے درمیان اور بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوئی تھیں۔اُن میں سے ایک اب یاد آئی ہے۔پوچھا کہ ہمارے دوست شہزاد احمد جو لاہور سے کراچی منتقل ہوچکے ہیں،کبھی ملے تو سلیم نے کہا ....ایسے ہی سرسری ملاقات ہوئی تھی اور کہتے تھے آﺅں گا، مگر سوچتے ہوں گے یہ سلیم اور سمندر پاس ہی تو ہیں کسی دن ہو آئیں گے۔مگر اب کوئی کراچی جائے تو اُسے شدت سے محسوس ہوگا کہ وہاں اب کوئی سمندر باقی نہیں رہا،سب بخارات بن کے اُڑ چکا جو خدا جانے کب بارانِ رحمت کی صورت میں نازل ہو۔پشاور پہنچ کر دورُباعیاں لکھیں، جن کے آخری مصرعوں سے ہجری اور عیسوی تقویم کے حساب سے سلیم کا سالِ رحلت برآمد ہوتا ہے۔

آخر ہوئی گرداب کی گرداش خاموش

دریائے زندگی کی شورش خاموش

اب بحث وگفتگو کا در بند ہوا

سید نے کہا:صاحب دانش خاموش

1403ھ 

جب بستہ ہوا ہے بابِ اسلام صحیح

وہ دیکھ رہا تھا خوابِ اسلام صحیح

ذی عقل سلیم وصاحب ذوقِ سلیم

تھا مظہرِ انقلاب اسلام صحیح

1983ء

 اور سلام ہو اُس پر جس نے ہدایت کی راہ اختیار کی۔(ختم شد)      ٭

مزید :

کالم -