کراچی میں فوج بلانے کا مطالبہ؟

کراچی میں فوج بلانے کا مطالبہ؟
کراچی میں فوج بلانے کا مطالبہ؟

  

                                                                                     ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کراچی کے ناگفتہ بہ حالات کا نسخہ ”جمہوری ملک“ میں بیٹھ کر یہ تجویز کیا ہے کہ ملک بھر میں جمہوری اداروں، صوبائی اور وفاقی حکومت، صوبائی اسمبلیاں،قومی اسمبلی، سینیٹ کی موجودگی ....(جو کہ حال ہی ”جمہوری عمل“ کے بعد معرض وجود میں آئی ہیں).... کے باوجود کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا ”نسخہ کیمیا“ تجویز کیا ہے، ان کے نفس ناطقہ فاروق ستار نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ بہت ہو چکی، ہمارا دفاع کریں یا ہمیں اپنے تحفظ کا حق دیں۔

کراچی میں جو قتل عام گزشتہ دس بارہ سال سے جاری ہے،اس پر کون ہے جو پریشان نہ ہو! عروس البلاد جو کبھی بے روزگاروں کو روزی مہیا کرنے والا شہر تھا،جہاں رات کو بھی دن کا سماں تھا، جہاں زندگی مسکراتی اور عوام خوش و خرم اٹھکیلیاںکرتے تھے، اس کو نظر بد کھا گئی۔کوئی دن جاتا ہے، جب اس کی سڑکیں لہو میں نہاتی نہ ہوں،جہاں لاشے نہ گرتے ہوں، جہاں بوری بند نعشیں نہ ملتی ہوں۔ معاشی طور پر کراچی پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے،وہاں کاروبار بند ہورہے ہیں،فیکٹریوں کو جلایا جارہا ہے، بھتہ خوروں نے کراچی کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، ہرشہری اور کاروباری ان ظالم بھتہ خوروں سے تنگ ہے،بھتہ خور کون ہیں؟ ان کی موجد کون سی جماعت ہے اور کتنا بھتہ ماہانہ وصول کیا جاتا ہے، اس کی تصدیق سپریم کورٹ کر چکی ہے۔

الطاف حسین اور ان کی جماعت کے تمام لیڈروں نے بیک زبان کہا ہے کہ سندھ حکومت ناکام ہو چکی ہے۔انہوں نے بجا ارشاد فرمایا ہے ، مگر سوال یہ ہے کہ حکومت کے دو اہم ستون کون سے ہیں؟ وزیراعلیٰ اور گورنر ....گزشتہ تیرہ سال سے عملاً سندھ کی حکومت میں ایم کیو ایم شامل رہی ہے۔پرویز مشرف کا پورا نو سال کا دور اور آصف علی زرداری کے 5سال!سندھ حکومت کا اہم ستون عشرت العباد جن کی گورنری کا دور دنیا بھر میں ریکارڈ مدت 13سال ہے،گزشتہ دنوں صدر کے چناﺅ کے موقع پر ایم کیو ایم کی قیادت مسلم لیگ(ن) کا ساتھ دے کر ان کی گورنری کو آئندہ 5سال کے لئے ”پختہ“ کر چکی ہے۔اگر بقول الطاف بھائی حکومت نام کی کوئی چیز سندھ میں نہیں تو محترم عشرت العباد گورنر کے عہدے سے استعفا دیں، سابقہ استعفوں کی طرح ”اسی تنخواہ“ پر کام کرنے کو وہ تیار ہیں۔قائم علی شاہ بھی گزشتہ چھ سال سے وزیراعلیٰ ہیں۔

الیکشن 11مئی کے بعد چار مرتبہ رحمان ملک کراچی جا کر ایم کیو ایم کی قیادت کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دے چکے ہیں۔ اس تناظر میں ایم کیو ایم نے ریفرنڈم بھی کرایا،جس کا نتیجہ حتمی طور پر الطاف بھائی کے پاس ہے۔حال ہی میں رحمان ملک پھر لندن میں ملاقات کرکے الطاف بھائی کو مکرر حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دے چکے ہیں۔

الطاف بھائی اچھی طرح جانتے ہیں کہ موجودہ حکومت کسی بھی صوبے کو فوج کے حوالے کرنے کا غیر سیاسی فیصلہ نہیں کر سکتی، نظر یہی آتا ہے کہ ایم کیو ایم کی دوربین قیادت نے مسلم لیگ(ن) کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے لئے یہ سیاسی پتہ استعمال کیا ہے۔ جس طرح مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے صدر کے لئے چند ووٹوں کی خاطر سر کے بل چل کر ایم کیو ایم کے چرنوں پر حاضری دی ہے، اس عاجلانہ مطالبے کے مقابلے میں وہ ایم کیو ایم کے ساتھ سندھ میں مخلوط حکومت کو ترجیح دے گی۔اس مطالبے کا اصل محرک یہی ہے کہ سندھ اور مرکز میں ہمیں وزارتیں عطا کی جائیں۔نوازشریف بھی آصف علی زرداری کی طرح اس مہنگے سودے کے لئے ملک کے ”وسیع تر مفاد اورقومی مفاہمت “ کے تحت مجبور ہوں گے۔جب مسلم لیگ(ن) اور ایم کیو ایم کے اتحاد کا عشائیہ ہوگا تو فوج بلانے کا مطالبہ ختم ہوجائے گا۔     ٭

مزید : کالم