بلوچستان کا مسئلہ اور اس کا حل

بلوچستان کا مسئلہ اور اس کا حل

                                                                                        جنابِ من ! تمام اہلِ دانش اس بات پر انگشت بدنداں ہیں کہ ہمارے صوبے بلوچستان ، جس کی آبادی لاہور شہر کی آبادی کے نصف کے برابر ہے ، جس کے کل ووٹروں کی تعداد تینتیس لاکھ چھتیس ہزار چھ سو انسٹھ (33,36,659)ہے۔ آج کل دہشت گردوں کا تختہ مشق بنا ہوا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے لگتا ہے کہ بے بس ہوچکے ہیں ۔ درحقیقت بلوچستان کے مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا کہ آج کل بلوچستان میں شدت پسندی میں جو اضافہ ہوا ہے ۔ دوسری طرف لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجیوں کی بلا اشتعال فائرنگ کے باوجود میاں محمد نوازشریف کی امن کی خواہش میں شدت آئی ہے اور ان دونوں اطراف کی شدت پسندی کی مماثلت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کی حکومت نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گوادر پورٹ کو چین کے حوالے کرکے اور دوسری طرف ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا معاہدہ کرکے عالمی طاقتوں کو سیخ پا کردیا ہے ۔یہ طاقتیں لگتا ہے کہ پاکستان کو اس طرح کے حالات پیدا کرکے سبق دینا چاہتی ہیں ۔ ان حالات میں ہمیں سفارتی طور پر انتہائی مستعدی اور بیدار مغزی کا مظاہرہ کرنا اور پوری تندہی سے بھارتی جارحیت کو پوری دنیا میں بے نقاب کرنا ہوگا ۔

 بلوچستان میں جو بھی شواہد بیرونی طاقتوں کے ملوث ہونے کے ہمارے پاس موجود ہیں، ان کو ببانگ دہل عالمی برادری کے سامنے پیش کرنا ہوگا ، اس لئے کہ جوبھی بیرونی عناصر ہمارے ہاں کے شعلوں کو ہوا دے رہے ہیں، ان کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرنا وقت کی نا گزیر ضرورت ہے ۔ اگر ہم نے اس ضمن میں تعجیل سے کام نہ لیا اور تغافل شعاری کا مظاہرہ کیا تو خاکم بدہن یہ ممکن ہے کہ ہمیں کسی بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ بہر حال اس ضمن میں راقم کے خیال میں بلوچستان میں مزید فوجی چھاﺅنیوں کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے ۔پرویز مشرف نے مزید تین چھاﺅ نیوں کے قیام کا اعلان کیا تھا،جن پر عمل نہ ہو سکا،مگر حالات کے تناظر میں اس وقت یہ ضروری ہے کہ مزید چھاﺅنیاں وہا ں قائم کی جائیں کہ اس سے بلوچستان سے دہشت گردی کا قلع قمع ہوجائے گا ، اگر ان چھاﺅنیوں کی تعمیر میں ہمارے بلوچ بھائیوں کے کچھ خدشات ہیں تو ان کو سیاسی سطح پر دور کیا جائے ۔

یہ حقیقت ہے کہ پرویز مشرف حکومت کے دور میں بعض ایسے فیصلے کئے گئے، جن کے نتیجے میں بلوچ عوام کے اندر پاکستانی فوج کے لئے نفرت کے جذبات پیدا ہوئے جو ابھی تک ختم ہونے کا نام نہیںلے رہے.... اس لئے اب بلوچ عوام کو اعتماد میں لینا ہوگا اور ان کو یہ باور کرانا ہوگا کہ ان فوجی چھاﺅنیوں کے قیام کا مقصد صرف ان کی حفاظت ہے اور یہ کام ہماری سیاسی قیادت احسن طریقے سے سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس تناظر میں راقم ....(جو خود ایک بلوچ قبیلے کی معزز شاخ مندرانی سے تعلق رکھتا ہے ).... بلوچستان کے غیور عوم اور سرداروں سے سوال کرتا ہے کہ ہم بلوچوں کے تو خون میںیہ بات شامل ہے کہ ہمارے گھر میں خواہ کوئی دشمن بھی آ جائے اور اس کی جان کو خطرہ ہو تو اس کو بچانے کے لئے اپنا سر بھی کٹا دینے میں فخر محسوس کرتے ہیں، مگر یہ کیا ستم ظریفی ہے کہ پنجاب کے نہتے لوگوں کو جب وہ غریب محنت مزدوری کی غرض سے بلوچستان آئیں تو ان کو انتہائی بے رحمی سے قتل کردیا جائے۔ یقینا یہ ان چند مٹھی بھر تنگ نظر شرپسند عناصر کی کارروائیاں ہیں، جنہوں نے وہ طوفان برپا کررکھا ہے، جو نہ تو بلوچ روایات سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہے۔

بعض بلوچ عمائدین کا یہ نقطہ نظر بھی اہلِ دانش کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ غیرمقامی افراد پر گوادر میں اراضی کی خریداری پر پابندی عائد کی جائے اور یہ ان کا کتنا ہی بعید از عقل نظریہ ہے کہ گوادر پورٹ کا مقصد بلوچ قوم کو ریڈانڈین بنانا ہے، وغیرہ۔ اس ضمن میں وفاقی اور صوبائی حکومت کا فرض ہے کہ بلوچ عوام کے اندر سے احساس محرومی کو ختم کریں ۔ اس سلسلے میں انصاف کی فراہمی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری جس طرح حالات کو دیکھتے ہوئے اقدامات کررہے ہیں۔ وہ انتہائی لائق صد تحسین ہےں کہ گمشدہ افراد کے معا ملے پر ان کا ایکشن میں آنا وقت کی اشد ضرورت اور بلوچ عوام کے دل کی آواز تھی ۔ دوسری طرف وفاقی حکومت بھی خصوصی دلچسپی لے رہی ہے ۔ مسلم لیگ(ن)نے بلوچستان کی حکومت قوم پرست جماعت کے سپرد کرکے جو نئی جمہوری روایت قائم کی ہے وہ تعریف کے قابل ہے اور تمام اہلِ دانش اس کی تعریف کررہے ہیں کہ اس سے علیحدگی پسندوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور اس لئے انہوں نے مایوس ہوکر طالبان طرز اختیار کرلیا ہے۔

پہلے وہ بلوچ عوام کو وفاق اور پنجاب کے خلاف بھڑکاتے تھے ،مگر اب چونکہ حکومت بھی قوم پرست جماعت کے ہاتھ میں ہے اور عقلی طور پر ان کے پاس وفاق اور پنجاب کے خلاف کوئی دلیل نہیں رہی، اس لئے اب بلوچ عوام کے اندر وفاق اور پنجاب کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوئے تو شرپسندوں نے بلوچستان میں موجود اقلیتی کمیونٹی ہزارہ اور غریب مزدور پنجابیوں وغیرہ پر حملے شروع کردیئے ، پھر پولیس کے خلاف بھی کارروائیاں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے شروع کردیں ، بہر حال اس تناظر میں یہ بھی سیکیورٹی ادارو ں کے مدِ نظر رہنا چاہئے کہ بلوچستان میں کان کنی کے شعبے میں ایک بہت بڑی تعداد افغان لوگوں کی موجود ہے، جو کہ میگنا سائیٹ ، جپسم ، کرومائیٹ اور کوئلہ وغیرہ نکال رہے ہیں ، ان کی ابھی تک رجسٹریشن کا بھی کوئی نظام موجود نہیں ہے، بہر حال ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں موجود ہر شخص کو قومی دھارے کے اندر شامل کیا جائے اور غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افراد کو ملک سے نکال دیا جائے ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچ عوام کی ذہنی پسماندگی کو دور کیا جائے اور ایسا تعلیم اور روز گار کی دستیابی سے ممکن ہے۔    ٭

مزید : کالم