نیشنل سیکیورٹی کونسل بمقابلہ کابینہ کمیٹی برائے قومی سلامتی

نیشنل سیکیورٹی کونسل بمقابلہ کابینہ کمیٹی برائے قومی سلامتی

                                                            ایک تاثر سا پیدا ہوگیا ہے کہ پاکستان بار بار کی فوجی مداخلتوں کی وجہ سے سیکیورٹی سٹیٹ میں بدل چُکا ہے جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان اس لئے ایک سیکیورٹی سٹیٹ کے طور پر قائم رہا اور اب تک ہے کیونکہ اسے مختلف انداز کے عدم تحفظ سے دوچار رہنا پڑا۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ کی خواہشات اور امید کے برعکس کہ برطانوی حکومت آل انڈیا کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے مابین آئینی معاملہ طے پانے کے بعد دو نئی ریاستیں بھارت اور پاکستان پُرامن اور دوست ہمسایوں کے طور پر رہیں گی جو ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں گی ، لیکن ان کی یہ خواہش تاریخ کا حصہ بن گئی اور اس کا جواب اس کے برعکس ملا اور دونوں ملکوں کے قیام کے ایک سال کے اندر اندر جموں و کشمیر کے مسئلے پرجنگ چھڑ گئی۔ دونوں ملکوں میں مسلح تصادم کئی بار ہوتے ہوتے رہ گیا، لیکن باہمی کشیدگی برقرار ہے۔ ایک ایسی ریاست جو ایک جنگجو، مضبوط اور طاقتور ہمسایہ ملک کی جانب سے اس طرح کے خطرے سے دوچار ہو۔ وہ سیکیورٹی سٹیٹ بن کر ہی رہے گی اور اپنی قومی سا لمیت اور اپنی بقا کے بارے میں خبردار اور چوکنا رہے گی۔

پاکستان کی جیو پولیٹیکل اہمیت نے عدم تحفظ کا ایک نیا نمونہ تشکیل دے دیا ہے حالانکہ یہ خصوصیت اس کے لئے ایک اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے امریکہ اور سابق سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کا دور گزرنے کے عرصے نے خطہ پرمنفی اثرات مرتب کئے۔ حالیہ دو مثالیں اس نکتہ کی وضاحت کر سکتی ہیں۔

1979 ءمیں سابق سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا۔ اس میں پاکستان نے کوئی کردار ادا نہ کیا۔ اس حملے سے ایک زبردست سوچ نے جنم لیا۔ وہ یہ تھی کہ اس وقت کی سپر طاقت سوویت یونین کا گرم پانیوں تک پہنچنے کا منصوبہ ہے اور جلد یا بدیر پاکستان کی سرحد عبور کر کے اس ملک میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس سوچ نے اس کے عدم تحفظ کے احساس کو نئی جہت دی اور اس نے بالآخر امریکہ کی افغانستان میں پراکسی جنگ میں پاکستان کو گھسیٹا تاکہ افغانستان سے قابض فوجوں کو باہر نکالا جاسکے۔ اس دور میں سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے قریبی تعلقات کو سب اچھی طرح جانتے ہیں اور سیاسی تجزیہ نگاروں کے پاس اس کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔

اسی طرح2001ءمیں نائن الیون کے واقعہ نے امریکہ کے صدر کو دہشت گردی کے خلاف جہاد کے اعلان پر مجبور کیا۔ اس کے بعد القاعدہ کے خلاف ایک طویل اور پیچیدہ تلاش نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک میں بھی شروع کر دی گئی حالانکہ پاکستان کا نائن الیون کے واقعہ میں کوئی ہاتھ نہیں تھا اور یہ حملہ مشرق وسطیٰ کے نوجوان عسکریت پسندوں نے کیا تھا۔ اس وقت کی حکومت کو ملک کی جیوپولیٹیکل صورت حال کی وجہ سے اس قسم کے پیغام کا سامنا کرنا پڑا۔ کیا آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ان کے ساتھ ہیں؟.... اس طویل اور نہ ختم ہونے والی جنگ میں پاکستان نے طالبان کی جہاد میں حمایت کرنے کی اپنی سابقہ پالیسی کو تبدیل کیا (طالبان جہاد کی پالیسی پر اب بھی گامزن تھے) حکمت عملی میں تبدیلی کی صورت حال نے پاکستان میں دہشت گردی کی شکل میں عدم تحفظ کے نئے مسئلہ کو جنم دیا جس کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا۔

اس مسئلہ کے آغاز سے جو تاریخی عمل شروع ہوا اب بھی اس نے عدم تحفظ کی کئی اشکال پیدا کی ہیں۔ اس لئے پاکستان اس کی حکومت اور عوام کو اس مخصوص صورت حال کو تسلیم کرنا اور ایک سیکیورٹی سٹیٹ کی حیثیت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

قومی سلامتی ،جس کی ماضی میں صرف فوجی مفہوم میں تشریح کی جاتی رہی ہے۔ اب اس میں سویلین اجزاءشامل کر کے اس کا مفہوم تبدیل ہوگیا ہے حالیہ تناظر میں قومی سلامتی کو درپیش خطرہ کی نوعیت غیر روایتی ماخذوں سے آتی ہے۔ انتہا پسندی، دہشت گردی، فرقہ وارانہ اور نسلی کشیدگی، پاکستان مخالف پراپیگنڈہ ، کمزور معیشت حتیٰ کہ توانائی بحران قومی سلامتی کے خدوخال متعین کرتے ہیں۔ قومی سلامتی کی پالیسی کو تشکیل کرتے وقت اور اس پر بحث کرتے وقت نئی نوعیت کے ان خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

علاوہ ازیں برسوںکے سفر کے ساتھ حکومتی نظم و نسق کو بدنظمی سے چلانے اور پاکستان کی مسلح افواج کی مہم جوئی کی وجہ سے فوج اور سویلین حکومت میں توازن فوج کی طرف ہوگیا ہے جس کی اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ قومی مسائل اوران کے علاج کے معاملے پر سویلین اور فوجی قیادت ایک ہی صفحے پر رہیں۔

کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے 22 اگست2013ءکو کمیٹی کی تشکیل نو کا فیصلہ کیا ہے اس کو کابینہ کمیٹی برائے قومی سلامتی کا نیا نام دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو ایکٹ آف پارلیمینٹ کے تحت مناسب قومی سلامتی کونسل کی تشکیل کی تجویز کے استرداد کا مفہوم دیا گیا ہے۔ میری سوچ مختلف ہے اور امید کرتا ہوں کہ یہ حتمی نہیں ہے۔ یہ مناسب ہوگا کہ پاکستان میں موجود قومی سلامتی کے ایشو سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کا سروے کیا جائے۔

(1) کابینہ کمیٹی برائے دفاع جسے اب کابینہ کمیٹی برائے قومی سلامتی کا نام دیا گیا ہے۔

(2) پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی جو صرف پارلیمان کے ارکان پر مشتمل ہے۔

(3) وزارت داخلہ کے ماتحت بے نام ادارہ (Unnamed cell) جس کا کام متعدد انٹیلی جنس ایجنسیوں میں اشتراک عمل پیدا کرناہے۔

انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) اور سول انٹیلی جنس (آئی بی)

قومی سلامتی کے پیچیدہ مسئلہ سے ان عارضی اقدامات کے ذریعے ہی نمٹا نہیں جا سکتا نہ ہی قسطوں میں کئے گئے اقدامات اس مسئلہ کو حل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح مختلف حصوں میں بٹے ہوئے اداروں کے ذریعے بھی اس مسئلہ سے عہدا برانہیں ہوا جاسکتا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ فوجی حکمرانوں نے آئینی طریقہ کار کے تحت قومی سلامتی کونسل قائم کرنے کی کوشش کی اور جس کا مقصد مسلح افواج کو برتری دینا تھا اس کونسل کا سربراہ صدر تھا جو فوجی عہدے پر برقرار تھا۔ مسلح افواج کے 4 سربراہ این ایس سی میں شامل تھے۔ بعد میں آنے والی جمہوری حکومت نے۔ آئینی ترمیم کر کے اس ادارے کو ختم کر دیا۔

ایک سینیٹر نے جنرل مشرف کی تشکیل کردہ این ایس سی پر تنقید کی اور کہا کہ وزیراعظم اور دوسرے وزراءکیا حاصل کر سکیں گے جب یونیفارم میں 4 چیتے ان کے ساتھ بیٹھے ہوں گے۔ ایک دوسرے سینیٹر نے اس صورت حال کو یوں بیان کیا۔ ایک شخص نے ایک کاشتکار سے پوچھا اگر جنگل میں تمہاری شیر سے ملاقات ہو جائے تو تم کیا کرو گے؟ کاشت کار نے کہا تب میں کیا کر سکتا ہوں۔ یہ تو شیر پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرتا ہے“۔ بالآخر این ایس سی کو ختم کر دیا گیا۔

 اب یہ وقت آگیا ہے کہ اس امر کا تجزیہ کیا جائے کہ نیو کلیائی اور غیر نیوکلیائی ریاستیں جنہیں قومی سلامتی کے ایشوز کا سامنا ہے۔ وہ کس طرح ان مسائل سے عہدبرآ ہوئی ہیں۔

 امریکہ جیسے ملک نے یہ سبق سیکھا کہ عبوری اور عارضی اقدامات اطمینان بخش نتائج نہیں دیتے۔ ہنری کسنجر، ہیلری کلنٹن اور کنڈولیزا رائس جیسی ممتاز شخصیات نے صدر کے قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ برطانوی حکومت نے جس طرح اپنے آپ کو درپیش دباو¿ کے جوابات میں اشتراک عمل پیدا کرنے کے لئے این ایس سی قائم کی اور خارجی، دفاعی، داخلی، توانائی، قومی ترقی اور قومی سلامتی میں کردار ادا کرنے والے حکومت کے تمام محکموں کی اعلیٰ ترین سطح پر حوصلہ افزائی کی گئی۔ یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہوگا کہ بعد ازاں چارٹر آف کونسل میں ترمیم کی گئی تاکہ ماحولیاتی تبدیل کو بھی قومی سلامتی کے ایشو میں شامل کیا جائے۔

روس، فرانس، چین اور بھارت نے متعلقہ قوانین کے ذریعے این ایس سی قائم کی۔ ان جوہری ریاستوں کے علاوہ ایران ، ترکی، برازیل اور ملائشیا جیسی غیر جوہری ریاستوں نے بھی اپنی این ایس سی قائم کی ہیں۔

مختلف ممالک کی این ایس سی کے سروے کرنے کے بعد این ایس سی کا عام ڈھانچہ ایک کونسل اور ایک کابینہ کمیٹی کے درمیان فرق کو واضح کرے گا۔

(1)این ایس سی ایک مسلسل اور کارپوریٹ ادارہ ہے جبکہ کابینہ کمیٹی اتنی دیر قائم رہتی ہے جتنی دیر کابینہ اپنا وجود برقرار رکھتی ہے۔

(2) این ایس سی پارلیمینٹ کے قانون کے ذریعے تشکیل دی جاتی ہے جو پارلیمینٹ کو اختیار دیتی ہے جبکہ کمیٹی انتظامیہ کے عمل کے ذریعے قائم کی جاتی ہے جو وقتاً فوقتاً اس کا ڈھانچہ تبدیل کرنے کےلئے اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کر سکتی ہے۔

(3) این ایس سی قومی سلامتی کے ایشوز کے خدشات کا مطالعہ کرنے، تجزیہ کرنے اور رپورٹ کرنے کے لئے 3 مدارج میں کام کرتی ہے۔ سب سے نچلے درجہ پر یہ تھنک ٹینک کی حیثیت رکھتی ہے جو محکمہ خارجہ کے ریٹائرڈ افسروں، سابق سفیروں، ریسرچ سکالرز اور دانشوروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کمیٹی کا کام تجزیاتی رپورٹیں تیار کر کے انہیں اگلے درجے پر پہنچانا ہے جو فوج اور بیورو کریسی کے متعلقہ افسروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جو باقاعدہ مشاورتی اجلاس منعقد کرتے ہیں۔ یہ یونٹ کسی خاص مسئلہ کو سمجھ کر اس کے مفہوم کو بیان کرنے کے لئے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو طلب کر سکتا ہے اور دوسرے گروپ کی مطالعاتی رپورٹوں کی بنیاد پر تیسرے درجے پر چوٹی کے فوجی نمائندے اور سویلین نمائندے ایڈوائزر کے ساتھ پالیسی کی تشکیل کرتے ہیں جس کا کام روزانہ قومی سلامتی سے متعلقہ کسی بھی معاملے میں پیدا ہونے والے نئے مسائل یا پالیسی میں تبدیلی سے چیف ایگزیکٹو کو آگاہ کرنا ہوتا ہے۔

ظاہر ہے چیف ایگزیکٹو اور کابینہ کمیٹی کو کسی ایسے ڈھانچے کی طرف سے مناسب معلومات اور اطلاعات پہنچنے کا فائدہ حاصل نہیں جو تسلسل رکھتا ہو۔

آخر میں این ایس سی ایک سیکرٹریٹ کے ذریعے کام کرتی ہے جو ریکارڈکی نگرانی کرتا ، انہیں برقرار رکھتا ہے اور اس طرح اپنا تسلسل برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرتا ہے۔

نوٹ: نئی سی سی این ایس کا ڈھانچہ 4 چتیوں کی شکل میں سامنے آتا ہے جو فوجی عہدے پر فائز ہوتے ہیں۔ وزراءکے آمنے سامنے ہوتے ہیں اور جو انہیں کابینہ وزراءکا درجہ عطا کرتا ہے) اس حقیقت سے بھی واقف ہونے کی ضرورت ہے کہ قومی سلامتی کا نمونہ مستقل طور اور سہولت سے تبدیل ہو جاتا ہے۔ مختلف عارضی تنظیمیں قابل عمل اور مو¿ثر حل تک پہنچنے کی بجائے اس صورت حال کو خراب کر سکتی ہیں۔

سویلین اور مسلح افواج کے درمیان موزوں تعلقات کے تناظر میں اپنے قارئین اور لیڈروں کو سٹیفن پی کوہن کے اس مشورے پر توجہ دینے کے لئے کہتا ہوں، جنہوں نے اپنی کتاب ”پاکستان کا مستقبل“ میں یہ سفارشات پیش کی ہیں۔

”میں پاکستان میں ان بہت سے لوگوں کے ساتھ متفق نہیں ہوں جن کا خیال ہے کہ سول ملٹری واقعات کو منضبط کرنے کے لئے یہ غلط ہے کہ فوج کو باہر رکھنے کے لئے قومی سلامتی کونسل (این ایس سی) جیسے ادارے سے کام لیا جائے۔ این ایس سی انتظامات کئے جائیں اور جو پالیسی میں اشتراک عمل کے سروسز مسائل کو حل کرے گا۔

 آخر میں میرے پاس یہ تنبیہہ ہے کہ کابینہ کی دفاعی کمیٹی این ایس سی کے مسئلے کا فیصلہ کرنے کے لئے اتنی مناسب نہیں تھی کیونکہ جس کمیٹی کو نیا نام دیا گیا ،اس میں پہلی کمیٹی کے ارکان شامل ہیں۔ اس طرح وہ پرانا تسلسل برقرار رہتا ہے۔ میں جنرل جہانگیر کرامت کے نیول اکیڈمی میں خطاب پر میاں نواز شریف کے منفی ردعمل سے آگاہ ہوں جس میں انہوں نے ایس ایس سی کی تشکیل کی تجویز پیش کی تھی اور جب انہیں وزیراعظم کے غصے کی وجہ سے استعفا دینا پڑا تھا، لیکن یہ ماضی بعید کا قصہ ہے(1998ئ) اور اس وقت کے ماحول میں اسے چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے ریاست کے امور میں مداخلت سے تعبیر کیا جاسکتا تھا۔ قوم کے لیڈر اپنے ماضی کے یرغمالی نہیں بنے رہتے اور اب نواز شریف ایک معتبر الیکشن میں منتخب ہوئے ہیں، ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ برق رفتاری سے آگے بڑھیں۔ ماضی کو فراموش کرتے ہوئے موجودہ صورت حال میں مستقبل کے متعلق احتیاط کرتے ہوئے برق رفتاری سے پیش رفت کریں گے۔ اب جبکہ سی سی این ایس نے سی سی ڈی کی جگہ لی ہے۔ موجودہ حکومت کو این ایس سی کے مستقل ڈھانچہ کے لئے کام کرنے پرتوجہ دینی چاہئے جو جوہری پاکستان کی فوری ضرورت ہے۔    ٭

مزید : کالم