پکارا کرے کوئی

پکارا کرے کوئی
 پکارا کرے کوئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

                                                                کراچی یوں تو گزشتہ تیس سال سے خراب خبروں کا آئینہ بنا ہوا ہے اور رگڑ رہا ہے ۔ آج کل دوبارہ کراچی کے حالات کو سنوارنے کی بحث چھڑ گئی ہے۔ کراچی سے سب سے بڑی نمائندگی رکھنے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے فوج طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ متحدہ قومی موومنٹ کا اصرار ہے کہ کراچی کو پرُ امن بنانے کے لئے فوج کو ذمہ داری سونپی جائے۔ متحدہ کے اس مطالبے کی کئی سیاسی جماعتوں نے مشروط اور غیر مشروط حمایت کی ہے۔ سندھ میں حکومت پیپلز پارٹی کی ہے ۔ پیپلز پارٹی کو اس تجویز سے نہ صرف اتفاق نہیں، بلکہ اسے یہ تجویز ناگوار بھی گزری ہے۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت سمجھتی ہے کہ پولیس اور رینجرز ہی حالات کو درست کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ وفاقی حکومت مسلم لیگ (ن) کی ہے جو پیپلز پارٹی کی سیاسی حریف ہے ۔ متحدہ، صدارتی انتخاب میں مسلم لیگی امیدوار کو ووٹ دے کر لیگی حلقوں میں نرم گوشہ پیدا کر چکی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ پیپلز پارٹی کی ہر طور پر مدد کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور وزیر اعلیٰ سندھ کو کراچی کے حالات درست کرنے کے لئے کئے جانے والے کسی آپریشن کا کیپٹن بنانے کا اعلان بھی کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ بھی کراچی میں بد امنی کے سلسلے میں از خود نوٹس کی سماعت کر رہی ہے۔ بہت سارے تبصرے عدالت عظمیٰ کے معزز جج صاحبان کر رہے ہیں، عام سطح پر بھی تبصرے کئے جارہے ہیں، سیاسی عناصر ایک دوسرے کی جانب الزامات در الزامات اچھال رہے ہیں۔

 غرض تما م وہ عناصر جو کراچی میں کسی نہ کسی صورت میں دلچسپی رکھتے ہیں ، بین الاقوامی اصطلاح کی زبان میں اپنے آپ کو ”اسٹیک ہولڈر “ گردانتے ہیں.... ( مملکت اور شہروں کے معاملات کے سلسلے میں اسٹیک ہولڈر کی اصطلاح لغو ہے ۔ آکسفورڈ انگلش اردو ڈکشنر ی کے مطابق وہ فریق جس کے پاس شرط بدنے والے اپنی اپنی رقم امانتاً رکھوادیں ، کوئی شخص جو کسی کاروبار یا معاملے میں گہری دلچسپی رکھتا ہو) ، کراچی کا رونا رورہے ہیں۔ کراچی واقعی رونے کا مقام بن گیا ہے۔ کراچی میں سب کچھ مہنگا ہے سوائے زندگی کے۔ موت ارزاں ترین شے قرار پائی ہے۔ حکومتیں 1985ء سے آرہی ہیں، جا رہی ہیں، تبدیل ہورہی ہیں، لیکن کراچی کا اونٹ ہے کہ کسی کروٹ بیٹھتا ہی نہیں ہے۔ امن ، احساس تحفظ، قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اعلیٰ حکام پولیس و رینجرز کے اہم افسران کو ہر طرح کا تحفظ حاصل ہے اور ہر سہولت میسر ہے، جبکہ عوام کو سہولت اور تحفظ حاصل ہونا چاہئے وہ در در بھٹک رہے ہیں۔ انصاف اور بروقت فیصلے نہیں ہو پارہے ۔ در اصل یہ کسی کو نہیں معلوم کہ کراچی کا انچارج کون ہے۔ صوبائی محکمہ داخلہ کی ذمہ داری بھی وزیر اعلیٰ سنبھال رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ اپنی مصروفیات کی وجہ سے اپنے وزراءاور اراکین اسمبلی کو ہی ملاقات کا وقت نہیں دے پاتے تو محکمہ دا خلہ اور پولیس افسران کو کیا وقت دیتے ہوں گے۔

قلیل ترین لوگوں کے سوا کسی کو علم نہیں ہے کہ کراچی میں پولیس کس کے حکم پر عمل کرتی ہے۔ کیا آئی جی اور چیف سیکرٹر ی برائے نام ہیںیا انہیں کام کرنے کی آزادی حاصل ہے ؟ کوئی خان عبدالجبار خان المعروف ڈاکٹر خان صاحب ( قیام پاکستان کے وقت خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ اور پھر ون یونٹ کے قیام کے بعد کالعدم مغربی پاکستان کے پہلے وزیر اعلیٰ اور خان غفار خان کے بڑے بھائی ) کوئی خان عبدالقیوم خان ( مرحوم بھٹو کی حکومت میں وزیر داخلہ) کوئی قاضی فضل اللہ ( کالعدم مغربی پاکستان کے وزیر داخلہ) میسر ہوجائیں تو کراچی کا مسئلہ حل ہونے میں کوئی قباحت نہیں رہے گی۔ ان لوگوں کو قبرستانوں میں جا کر پکارا کرے کوئی ۔ جگہ کی قلت کی وجہ سے ان لوگوں کی کارروائیوں کو ذکر نہیں کر سکتا، پھر کبھی سہی ، بس اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ یہ لوگ اپنے عہدوں، عوام اور حکومتوں سے مخلص ہوا کرتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو ” سٹیک ہولڈر“ نہیں، مالک تصور کیا کرتے تھے ،اسی لئے فوری اور بروقت فیصلے کرنے میں کسی تساہل سے کام نہیں لیتے تھے۔

کراچی میں کئی عناصر کے جا ئز اور ناجائز مفادات یکجا ہو گئے ہیں، ایسا دنیا کے ہر بڑے شہر میں ہوتا ہے ، لیکن شہر کا انتظام چلانے والے عناصر اپنے شہر کے مفادات کی خاطر دیگر تمام مفادات کو شائستگی سے ایک طرف رکھ دیتے ہیں ، جس کی کراچی میں شدت سے کمی محسوس کی جاتی ہے ۔ مسو لینی کو دنیا میں فاشزم متعارف کرانے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے، اٹلی کا حاکم تھا، انتہائی سخت گیر حاکم۔ شاعر مشرق علامہ اقبال کی ان کے ساتھ ایک ملاقات ہوئی، علامہ سے خواہش کا اظہار کیا گیا کہ کوئی نیا آئیڈیا دیں۔ علامہ اقبال نے کہا کہ ” جب روم کی آبادی ، اس کے وسائل کے مقابلے میں بڑھ جائے تو مزید لوگوں کو شہر میں آباد ہونے کی اجازت نہ دی جائے ،بلکہ ان کے لئے نئی بستیاں آباد کی جائیں© “©۔ مسولینی نے حیران ہو کر پوچھا کہ اس میں کیا حکمت ہے ؟ علامہ اقبال نے جواب میں کہا کہ اگر آبادی وسائل سے زیادہ ہوگی تو مثبت کلچر پر منفی کلچر غالب آجائے گا اور مسائل بڑھتے ہی چلے جائیں گے۔

مسو لینی یہ سن کر اپنی ٹیبل پر کھڑا ہو گیا۔ اپنی پشت پر موجود کھڑکی سے روم کے شہر کو دیکھا اور علامہ سے کہا کہ آپ نے کمال کی بات بتائی ہے۔ علامہ نے انہیں بتایا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنے صحابہ کرام ؓسے ارشاد ہے کہ جب مدینہ منورہ ایک مخصوس جغرافیائی حد سے تجاوز کرنے لگے اور آبادی وسائل سے تجاوز کرنے لگے تو مزید لوگوں کو آباد ہو نے کی اجازت نہ دی جائے اور نئی بستیاں آباد کی جائیں۔ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ و سلم کی اس حدیث مبارکہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ذرا کراچی کے حجم پر غور تو کریں۔ وہ کراچی جو لالو کھیت (اب لیاقت آباد )پر ختم ہوجاتا تھا ، کلفٹن میدان تھا، منگھو پیر آخری حد تھی، کہاں تک پھیلا دیا گیا ہے۔ چاروں طرف پھیلانے کے ساتھ ساتھ آسمان کی طرف بھی تعمیرات کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی حکمران اور اشرافیہ فخریہ انداز میںکہتے ہیں کہ کراچی دو کروڑ کی آبادی کا شہر بن گیا ہے۔

کیا کراچی اتنی بڑی آبادی کو برادشت کرنے کی سکت، قوت، صلاحیت رکھتا ہے کیا اتنے بڑے شہر میں رہائش رکھنے والے لوگوں کے لئے جو سہولتیں ہونی چاہئیں ، وہ پیدا کی گئی ہیں۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو بھی کراچی کے حالات آج کے حالات سے قطعی مختلف ہوتے۔ کراچی ہی کیا ، پاکستان کے کئی شہروں کا حشر ہمارے حکمرانوں، منصوبہ سازوں، بستیاں بسانے والے افسران نے کراچی جیسا ہی کردیا ہے۔ کوئی منصوبہ بندی ہے، نہ کوئی ٹاﺅن پلاننگ۔ شہروں کی منصوبہ بندی ایڈہاک ازم کی بنیاد پر نہیں کی جاتی ہے، منصوبہ ساز کم سے کم ایک صدی ذہن میں رکھ کر منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ان کے جانشین اس پر سختی سے کار بند رہتے ہیں۔ ہمارے شہروں میں سڑک ہے تو پینے کا صاف پانی نہیں ہے، گھر ہیں تو گھروں کے باہر صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے،عوام ہیں، لیکن ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور دوائیں نہیں ہیں، عوام ہیں تو ٹرانسپورٹ کا کوئی مربوط نظام نہیں ہے۔بے روزگار ہیں تو روزگار کے سرکاری اور نجی ذرائع مسدود ہیں ۔ نجی ملازمین کی خدمات کا معاوضہ وہ بھی نہیں دیا جاتا جو حکومت وقت نے طے کیا ہوا ہے ۔ قانون، انصاف اور سہولتیں صرف پیسے کے گرد گردش کرتی ہیں۔ اس گردش میں تشدد سے متنفر اور انصاف کے شیدائی حاکم بھی نہ جانے کہاں گم ہو گئے ہیں۔     ٭

مزید : کالم