مذاکرات تو ہونے چاہئیں لیکن....

مذاکرات تو ہونے چاہئیں لیکن....

کنٹرول لائن پر بھارت کی مسلسل جارحیت کے باوجود بیک چینل ڈپلومیسی کا سلسلہ ختم نہیں کیا گیا۔ ایک خبر کے مطابق اس سلسلے میں پاکستان کے شہر یار خان اور بھارت کے مسٹر لامبا کے درمیان دوبئی میں ملاقات ہو ئی ہے۔ اس میں موجودہ کشیدہ صورتحال پر غور کے بعد یہ لائحہ عمل طے کیا گےا کہ حالات کو کس طرح معمول پر لایا جائے اور پریشر گروپوں کے ہوتے ہوئے تعلقات خوشگوار بنانے اور مذاکرات دوبارہ کیونکر شروع کئے جائیں۔نمائندوں سے بیک چینل ملاقاتوں میں یہ بھی فیصلہ کیاگیا کہ نیو یارک میں اگلے ماہ بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ اور پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے درمیان ملاقات ہو جائے۔دونوں طرف سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ ملاقات کی صورت میں حالات سدھارنے میں مدد ملے گی۔

جہاں تک پاکستان اور بھارت کے درمیان ہمسایوں کی حیثیت سے خوشگوار تعلقات کا معاملہ ہے تو اس سے کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ لیکن یہ تعلقات انصاف پر مبنی برابر کی سطح پر ہونا چاہئیں۔ یہ نہیں کہ بھارت مسلسل جارحیت کرتا چلا جائے۔ پانی پر قبضہ کرے اور سیا چن اور کشمیر سمیت متنازعہ مسائل کا کوئی حل نہ ہو اور یہ تعلقات برادرانہ اور دوستانہ ہو جائیں یہ کیسے ممکن ہے؟ بہتر طریقہ جو دنیامیں زیر عمل بھی آ چکا یہ ہے کہ فریقین اگر کسی تیسرے فریق کا تعاون حاصل نہیں کرنا چاہتے تو دو طرفہ مذاکرات ہی کے ذریعے تنازعات کا منصفانہ حل تلاش کریں، اس وقت بھی پاکستان ہی کو بھارت سے شکایات ہیں، جو کشمیر اور سیاچن پر قابض ہے اور پاکستانی دریاﺅں کے منبع پر ڈیم بنا کر پاکستان کو پانی کی نعمت سے بھی محروم کرنے پر تلا بیٹھا ہے، بیک چینل ڈپلومیسی سے مذاکرات کا آغاز ہو تو اس میں خلوص ہونا ضروری ہے جب تک بنیادی تنازعات طے نہیں ہوتے پائیدار دوستی اور خوشگوار تعلقات قائم نہیں ہو سکتے۔        

مزید : اداریہ