پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور گرانی کی تازہ لہر

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور گرانی کی تازہ لہر

                                                                                            مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے تین ماہ کے دوران مٹی کا تیل 12.20روپے، پیٹرول 9.36روپے اور ڈیزل 7.66روپے لیٹر مہنگا ہو گیا ہے۔یکم ستمبر کو اوگرا کی طرف سے جاری کئے گئے نرخوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت 4روپے 64پیسے اضافے کے بعد 109روپے چودہ پیسے، ڈیزل کی قیمت 2روپے 50پیسے اضافے کے بعد 112روپے 26پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت 99پیسے اضافے کے بعد 104روپے پچاس پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔ تازہ اضافے کے بعد مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ ٹرانسپورٹروں نے انٹرسٹی کرایوں میں 10فیصد اضافہ دیا ہے۔ نان اے سی گاڑیوں کے کرائے میں بھی پانچ فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ سٹاپ ٹو سٹاپ کرایہ 30روپے ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ اضافہ عالمی منڈی میں قیمت بڑھنے پر کیا گیا ہے، مہنگا پیٹرول خرید کر سستا بیچنے کا کوئی فارمولا نہیں۔

یہ درست ہے کہ تیل کی قیمتیں عالمی منڈی سے منسلک ہیں، لیکن عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جس شرح سے بڑھتی ہیں، پاکستان میں قیمتوں میں اضافہ اس سے زیادہ کر دیا جاتا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ عالمی منڈی میں اگر تیل کی قیمتیں آج بڑھی ہیں تو پاکستان فوری طور پر تو آج ہی تیل عالمی منڈی سے نہیں خرید رہا، اس وقت جو تیل پاکستان میں موجود ہے وہ کئی ماہ پہلے خریدا گیا تھا، آج کی قیمتیں تو چند ماہ بعد کی درآمد پر لاگو ہوں گی، پھر پاکستان کے اندر جو تیل پیدا ہوتا ہے ضروری نہیں کہ صارفین کو وہ بھی عالمی نرخوں پر ہی فروخت کیا جائے، حکومت اپنے ملک کے صارفین کو ریلیف دینے کے لئے اس تیل کی قیمتیں کم رکھ سکتی ہے، ریلیف دینے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تیل پر جو ٹیکس عائد ہیں ، وہ کم کر دیئے جائیں، حکومت تیل کی قیمتیں تاجرانہ اصولوں اور ذہنیت کے تحت مقرر کرتی ہے، حالانکہ یہ حکومت کے شایان شان نہیں، بہت سے ملک ایسے ہیں جہاں تیل سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا، ان ملکوں کا کلی انحصار درآمدی تیل پر ہے۔ لیکن وہ بھی اپنے شہریوں کو سبسڈی کی صورت میں ریلیف دیتے ہیں، جبکہ پاکستان میںزر تلافی تدریجاً کم کرتے کرتے ختم کرنے کا پروگرام ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر چیز مہنگی ہوتی جا رہی ہے حکومت جونہی تیل کی قیمتیں بڑھاتی ہے اس کی آمدنی میں بھی نقد و نقد اضافہ ہو جاتا ہے، جب کہ ٹیکسوں کی آمدنی کے لئے سو سوجتن کرنے پڑتے ہیں،تب بھی ٹارگٹ پورا نہیںہوتا ۔ اس لئے حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کو فوری منافع کا ایک آسان ذریعہ بنا لیا ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافے کا فوری نتیجہ تو یہ نکلا ہے کہ مسافروں کی ٹرانسپورٹیشن کے کرائے بڑھا دیئے گئے ہیں، اسی طرح گڈز ٹرانسپورٹیشن کے کرائے بھی بڑھ جائیں گے تو ضرورت کی ہر چیز مہنگی ہو جائیگی، کھانے پینے کی ساری اشیاءمہنگی ہو جائیں گی۔ دیہات سے منڈی تک سبزیاں لانے کے لئے زیادہ کرایہ خرچ ہو گا، اسی طرح منڈی سے صارفین تک بھی سبزیاں مہنگے داموں پہنچیں گی، اس طرح کوئی بھی ایسی چیز متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی جس کی ٹرانسپورٹیشن کے لئے پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں۔ یوں زندگی کا ہر شعبہ مہنگائی کی لہر سے متاثر ہو گا، ابھی گزشتہ ماہ ہی حکومت نے صنعتوں اور کمرشل مقاصد کے لئے استعمال ہونے والی بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے جس سے صنعتی پیداوار کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور مزید اضافہ متوقع ہے ۔ یہی اشیاءجب فروخت کے لئے مارکیٹوں میں جاتی ہیں تو بھی مہنگی بجلی کی قیمت دکاندار گاہک سے وصول کرتا ہے اس لئے پرچون اشیاءکی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ جبکہ آمدنی میں اضافہ اس شرح سے نہیں ہو رہا، جو لوگ اپنی آمدنی خود متعین کرتے ہیں ان کے لئے تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن تنخواہ دار طبقہ جس کی تنخواہیں مقرر ہوتی ہیں اور ایک مخصوص مدت کے بعد ہی تھوڑی بہت بڑھتی ہیں ان میں بھی مہنگائی کی شرح کے تناسب سے اضافہ نہیں ہوتا اس لئے تنخواہ دار طبقہ اس مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر بقول وزیر اطلاعات درآمدی تیل مہنگا خرید کر سستا بیچنے کا کوئی فارمولا نہیں، تو کیا عوام یہ سمجھ لیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اسی طرح بے لگام انداز میں بڑھتی رہیں گی، جن ملکوں میں تیل پیدا ہوتا ہے انہوں نے اپنے مقامی صارفین کے لئے قیمتیں کم رکھی ہوئی ہیں تو کیا ہم اس تیل کی قیمتیں کم نہیں رکھ سکتے جو ہمارے ملک کے اندر پیدا ہوتا ہے؟ اگر قیمتوں کو یونہی بے لگام چھوڑ دیا گیا تو مہنگائی کا جو شیطانی چکر پورے ملک کے عوام اور ہماری معیشت کو گرفت میں لے چکا ہے وہ یونہی پھیلتا رہے گا اور معاشرتی بے چینی میں اس طرح اضافہ ہوتا رہے گا۔

موجودہ حکومت ابھی تین ماہ پہلے برسر اقتدار آئی ہے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا فرض ہے کہ اس کے ذمہ داران اپنے منشور کو دوبارہ پڑھ لیں اور اس میں جو وعدے وعید کئے گئے ہیں ان پر غور کریں اور ان کے مطابق عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کریں اگرچہ ہمارے ہاں یہ روایت ہے کہ سیاسی جماعتیں کامیاب ہو کر انتخابی منشور کو طاقِ نسیاں پر رکھ دیتی ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ساتھ عوام نے جو امیدیں وابستہ کی ہیں، اگر وہ پوری نہ ہوئیں تو عوام میں مایوسی کی لہر پھیلے گی جو بالاخر معاشرتی بے چینی کا سبب ہی بنے گی اور اس سیاسی بے چینی کو اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف استعمال کریں گی،اپوزیشن نے احتجاج کی کال دے دی ہے اور جماعت اسلامی نے تو عوام کو سڑکوں پر آنے کی ”دعوت“ دے ڈالی ہے۔ اسمبلی کے اندر مخالف جماعتیں ہلہ گلہ کرنے کا پروگرام بنا رہی ہیں، اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ عوام کی بے چینی کو کسی نہ کسی حد تک دور کرنے کی کوشش کی جائے، تیل کی قیمتیں بیشک عالمی منڈی سے منسلک ہیں لیکن گیس تو ہماری اپنی پیداوار ہے۔ اس کی قیمتیں کیوں مسلسل بڑھائی جا رہی ہیں، یہ تو عالمی منڈی سے منسلک نہیں۔ گاڑیوں کے مالکان نے دو عشرے قبل اپنی گاڑیوں کو اس امید پر سی این جی پر منتقل کیا تھا کہ یہ نسبتاً سستا ایندھن ہے لیکن دو عشرو ںسے بھی کم وقت میں گیس کی بھی قلت ہو گئی اور جو حکومت دھڑا دھڑ سی این جی پمپوں کے لائسنس جاری کر رہی تھی اس نے سی این جی پمپوں پر گیس کی ”راشن بندی“کر دی اب یہ گیس کبھی ہفتے میں دو دن ملتی ہے اور کبھی یہ بھی نہیں ملتی، اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ مہنگا تیل افورڈ نہیں کر سکتے۔ سی این جی انہیں ملتی نہیں، ان کے پاس کیا متبادل ہے؟ اور کیا حکومت کے عالی دماغوں نے کبھی سوچا ہے کہ مہنگے تیل پر بڑھتے ہوئے انحصار کا نتیجہ بالاخر کیا نکلے گا۔دنیا بھر میں صارفین کے پاس مہنگی اشیاءکے بائیکاٹ کا آپشن ہوتا ہے اور ایسی ہزاروںمثالیں موجود ہیں کہ صارفین نے کسی ایک یا بہت سی اشیاءکا متفقہ بائیکاٹ کر کے اشیاءکی قیمتیں کم کروا لیں، پاکستان میں اگرچہ ایسی کوئی روایت نہیں لیکن کیا ہم تیل پر انحصار کم کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کر سکتے اور کیا حکومت کے اقتصادی ماہرین کے پاس کوئی ایسا منصوبہ ہے جس کے ذریعے پاکستان کے عوام کی گردنوں پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جا سکے ؟

مزید : اداریہ