ویل ڈن جاوید ہاشمی

ویل ڈن جاوید ہاشمی
ویل ڈن جاوید ہاشمی
کیپشن: 1

  

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ذہن میں یہ احساس پوری شدت کے پیوست ہو کر رہ گیا ہے کہ بس وہ تو وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھ ہی چکے تھے لیکن میاں نواز شریف نے ان کے نیچے سے کرسی کھینچ لی۔ اس میں وہ دھاندلی کا شور مچاتے ہوئے اپنی طرح کے چند ہزار جذباتی کارکنوں کے ساتھ وزیر اعظم ہاﺅس اور پارلیمینٹ پر دھرنا دیئے ہوئے ہیں اور وزیر اعظم عمران خان کے نعرے لگوا رہے ہیں۔ بد زبانی، بھڑکیں مارنے، للکارنے تھرکنے کے ساتھ متکبرانہ جنونی لب و لہجے میں احکامات جاری کر رہے ہیں اور قوم کے ہر طبقے کو بد دیانت، بکاﺅ مال قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں اس شان اور قماش کا سیاسی لیڈر شاید ہی قوم کو پہلے کوئی نصیب ہوا ہو۔ طاہر القادری تو عالم دین ہیں اور شیخ الاسلام بھی کہلاتے ہیں مگر ان کی باتوں کا تو کوئی سر پیر ہی نہیں ہے۔ بات بات پر بڑی بڑی قسمیں کھاتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ خود انہیں بھی احساس ہے کہ ان کی بات پر کوئی اعتبار نہیں کرتا۔ وہ اعلانیہ ایک بات کہتے ہیں اور پھر مکر جاتے ہیں اور اس میں وہ کوئی عار محسوس نہیں کرتے اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے بار بار جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔

 عمران خان اور طاہر القادری میں کچھ چیزیں مشترک ہیں دونوں بھڑکیں مار کر اپنی دلیری اور بہادری ثابت کرتے آ رہے ہیں اور اسلام آباد کو میدان جنگ بنایا ہوا ہے ایک طرف تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں نے آگے بڑھ کر وزیر اعظم ہاﺅس اور دیگر عمارتوں میں داخلے کی کوشش کی تو دوسری طرف پولیس اہلکار انہیں روکنے کی جدوجہد کر رہے ہیں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے قائدین نے اب تک اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ کے اصول پر علیحدہ آزادی مارچ انقلاب مارچ اور دھرنے جاری رکھ اور آخر میں حکومت کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان کر دیا جس سے اس خبر کی تصدیق ہو گئی کہ دونوں تحریکوں کے رہنماﺅں نے لندن میں ملاقات کے دوران کوئی خفیہ معاہدہ کر لیا تھااس معاہدے میں چودھریوں کا بھی کردار تھا۔ عمران خان نے اتوار کی رات کو وزیر اعظم ہاﺅس اور پارلیمنٹ کی عمارتوں پر ایک بار پھر دھاوا بولنے کا حکم دیا اور اپنے کارکنوں کو پوری تیاری کے ساتھ آنے کی ہدایت کر دی تھی اس دوران کور کمانڈروں کا اجلاس جاری تھا۔ دھرنے کے شرکا کا مقابلہ کرنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں پولیس موجود تھی لیکن ان کے پاس صرف لاٹھیاں، آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں تھیں۔

 دوسری جانب تحریک ا نصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے پاس چھوٹی بڑی لاٹھیوں کے علاوہ بڑے بڑے لٹھ جن میں سے بعض میں کیلیں لگی ہوئی تھیں ہتھوڑے، کٹر، غلیلیں اور پتھروں کا بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ پتھر کم پڑنے کی صورت میں وہ ہتھوڑوں سے بڑے پتھر کو توڑ کر انہیں پھینکنے کے قابل بنا رہے تھے، فٹ پاتھ بھی توڑے جارہے تھے، ان کی تیاری کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ کنٹینر ہٹا کر راستہ بنانے کے لئے کرینیں بھی ساتھ لائے تھے اور آنسو گیس سے بچاﺅ کے لئے خصوصی چشمے بھی ان کے پاس تھے۔ اپنے سینے پر پہلے کوئی کھانے کا دعویٰ کرنے والے دونوں رہنما پولیس کے پاس حقیقی گولیاں نہ ہونے کے باوجود اپنے کنٹینروں اور بلٹ پروف گاڑیوں میں چھپے رہے۔ عمران خان تو ”مطلع“ صاف دیکھ کر باہر بھی آئے اور چہل قدمی بھی کی لیکن طاہر القادری نے کنٹینر کے دروازے پر اس طرح کھڑے ہو کر خطاب کیا کہ جان کا ذرا بھی خطرہ ہو تو اس میں واپس جا چھپیں ان کے بارے میں تو یہ بات قدم قدم پر ثابت ہو چکی ہے کہ موت سے بہت ڈرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں دھرنے کے دوران ایک غبارہ پھٹنے کی آواز سے وہ دبک کربیٹھنے کی کوشش کرتے پائے گئے۔ عمران خان کی یہ ہٹ دھرمی اتوار کی رات تک برقرار رہی کہ وہ وزیر اعظم نواز شریف کے استعفے سے کم کوئی بات نہیں مانیں گے جبکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان یہ کہہ کر ان کا مطالبہ متفقہ طور پر مسترد کر چکے ہیں کہ اگر چند ہزار افراد کو لیکر کوئی طالع آزما ایسی غیرآئینی وغیر جمہوری بات پر اڑ جائے تو انتخابات، عوامی نمائندگی آئین و قانون، جمہوریت اور حکومتی نظام کو ہمیشہ خطرہ لاحق رہے گا۔ اس قسم کے ناجائز مطالبات ماننے کا مطلب ملک کو انتشار میں مبتلا کر دیتا ہے۔

 عمران خان کے وزیر اعظم ہاﺅس کی طرف پیش قدمی کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی ملتان چلے آئے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کر کے بتایا کہ یہ عمران خان کا ذاتی فیصلہ تھا جس پر پارٹی سے کوئی رائے نہیں لی گئی۔ بعد میں عمران خان نے اپنا روایتی آمرانہ انداز اختیار کرتے ہوئے جاوید ہاشمی کو تحریک انصاف سے نکالنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے اسمبلیوں سے مستعفی نہ ہونے والے اراکین کو بھی پارٹی سے نکال دیا۔ شریف برادران پر بادشاہت کا الزام لگانے والے عمران خان کے تکبر اور آمریت کا اقتدار ملنے سے پہلے یہ عالم ہے تو حکومت میں آنے کے بعد وہ اپنے ماتحتوں اور قوم کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے ان کی ہٹ دھرمی اور کارکنوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کی ان کوششوں کے باعث ایک طرف وہ بار بار ملک بھر سے لوگوں کو اسلام آباد بلا رہے ہیں تو دوسری طرف ان کے کارکنوں کو ”میدان جنگ“ میںچھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں۔

 ادھر طاہر القادری بار بار اپنی علالت کا بہانہ کر کے بلٹ پروف کنٹینر میں آرام کے لئے چلے جاتے ہیں۔ جس میں تین تین اے سی لگے ہیں اور شب و روز کے علیحدہ ملبوسات موجود ہیں وہ اپنی آنکھوں کے آپریشن اور روشنی سے بچنے کا بہانہ کر کے بھی زیادہ دیر کنٹینر سے باہر نہیں آتے حالانکہ انہوں نے پچھلے دنوں خود ہی بنایا تھا کہ ان کا موتیا کا آپریشن ہوا تھا ملک بھر میں لاکھوں افراد اس آپریشن سے گزرتے ہیں اور وہ دوسرے تیسرے دن سے معمول کے کام کرنے لگتے ہیں۔ طاہر القادری تو دس جون سے ”میدان عمل“ میں ہیں۔ ظاہر ہے کہ آپریشن اس سے قبل ہی ہوا ہو گا۔ انہیں آخری اور خطرناک لمحات میں اب یہ آپریشن یاد آ رہا ہے۔ اسلام آباد کے ”محاذ جنگ“ میں پولیس نے بعض صحافیوں اور کیمرے والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی سب نے شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے تو خواجہ سعد رفیق اور پرویز رشید کو کیپٹل ٹی وی کے دفتر بھیج کر افسوس کا اظہار اور نقصان کا ازالہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس موقع پر یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ایک ٹی وی چینل نے شر انگیزی کی تمام حدود پار کر لی ہیں۔ اس کے ایک میزبان کو کسی کارروائی سے قبل ہی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد معلوم ہوجاتی ہے۔ ہفتے کی رات کو جب مسلح مظاہرین اور غیر مسلح پولیس اہلکاروں کی جھڑپیں ابھی شروع ہی ہوئی تھی کہ ٹی وی چینل کے میزبان نے سات افراد کے شہید اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کا اعلان کر دیا جبکہ اگلے ر وز یعنی اتوار کی رات کو زیرنظر سطور تحریر کئے جانے تک صرف تین افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ملی تھی۔

 حکومت کو دہائی دی جا رہی ہے کہ خواتین اور معصوم بچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا جائے۔ حالانکہ یہ مطالبہ عمران خان اور طاہر القادری سے کیا جانا چاہئے جو انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لئے محفوظ گھروں سے نکال کر لائے ہیں۔ بعض سیاسی رہنما اور ٹی وی کے مہمان و میزبان امریکہ اور برطانیہ کی مثالیں دے کر کہہ رہے ہیں وہاں مظاہرین کو روکنے کی کوشش ہوتی ہے نہ ان پر تشدد کیا جاتا ہے یہ لوگ پاکستان کے بھولے بھالے عوام کو بے وقوف سمجھتے ہیں جو ان کے خیال میں نہیں جانتے کہ وہاں ٹین ڈاﺅننگ اسٹریٹ یا وائٹ ہاﺅس کے سامنے مظاہرہ کرنے والے مسلح نہیں ہوتے۔ وہ مقررہ حدود میں رہ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں کسی پر حملہ کرتے ہیں نہ سرکاری عمارتوں کی دیواروں کو ٹرک سے توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ مظاہرین اپنا حق احتجاج نہایت شرافت و شائستگی سے استعمال کر کے واپس اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں ان کے اپنے ذاتی مقاصد ہوتے ہیں نہ وہ ملک دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ امر پوری طرح سے عیاں ہے کہ قادری اور عمران نے جو رویہ اختیار کیا وہ کسی طرح مقبولیت کے کسی بھی معیار پر پورا نہیں اترتا ان کا لہجہ شریفانہ ہے اور نہ ان کا انداز سیاست قابل تحسین تب ہی تو تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے بیشتر ارکان عمران خان کے آگے بڑھنے کے فیصلے کے خلاف تھے۔

مزید :

کالم -