ملک معراج خالد:درویش صفت شخصیت

ملک معراج خالد:درویش صفت شخصیت
ملک معراج خالد:درویش صفت شخصیت
کیپشن: 1

  

انسانیت کی معراج یہ ہے کہ عوام الناس کی فلاح وبہبود کے لئے کام کیا جائے۔ دنیا میں متعدد ایسے لوگ ہیں جو وسائل ہوتے ہوئے بھی کوئی کار خیر سرانجام نہیں دیتے ، لیکن ایسے عظیم ہستیاں بھی موجود ہیں جو فقیری میں امیری تلاش کرلیتی ہیں، جس سے بے وسیلہ اور بے سہارا افراد کو مددمل جاتی ہے۔ ملک معراج خالد بھی ایسی ہی درویش صفت شخصیت کے مالک تھے جو بڑے عہدوں پر پہنچ کر بھی غربا اور مستحقین کے کام آتے رہے۔

پاک بھارت گونڈی بارڈر کے قریبی علاقے کو ماجھے کا وسیب کہا جاتا ہے۔ جہاں کے جری اور بہادر لوگ ملنگی، بھگت سنگھ ، نظام لوہار ، جگا جبرو جانے جاتے ہیں۔ اسی علاقے میں ایک بستی ڈیرہ چاہل ہے۔ جہاں کے غریب کسان خاندان کے گھر کمال صفات بچہ معراج خالد یکم فروری 1916ءکو پیداہوا۔ جس نے غربت کے ماحول میں آنکھ کھولی لیکن کسی احساس کمتری کا شکار نہیں ہوا۔ دن رات محنت مزدوری کرکے وطن عزیز پاکستان کے نگران وزیراعظم، سپیکر قومی اسمبلی اور سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ مقرر ہوئے اور ہمیشہ لوگوں کی رہنمائی اور مدد کرتے رہے۔

انہوں نے ساری عمر سادگی، عاجزی اور انکساری میں گزار دی۔ ابتدا ہی سے سماجی کارکن کی حیثیت سے دن رات ایک کردیا۔ پرائمری تعلیم قریبی گاﺅں کرباٹھ سےٰ حاصل کی پھر گونڈھ مڈل سکول سے آٹھویں پاس کیا۔سنٹرل ماڈل ہائی سکول لوئر مال لاہور سے 1934ءمیں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور سے 1939ءمیں بے اے آنرز کا امتحان پاس کیا اور 1946ءمیں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ کسمپرسی اور غربت کے دن تھے۔ سکول اور کالج کی فیس بھی ان کے پاس نہیں ہوتی تھی۔ معراج خالد تین بجے جاگ جاتے ،بھینسوں کا دودھ دوہتے اور دودھ بیچ کر پڑھنے کے لئے جاتے تھے۔ کئی سال ایک کرتا پہنے رہے کہ مزید خریدنے کے لئے پیسے نہیں تھے، حتیٰ کہ پہننے کے لئے جوتا بھی نہیں تھا۔ والد صاحب کا جوتا پہن کر کالج جاتے اور واپس آکر انہیں دے دیتے۔ باپ بیٹا دونوں کے پاس ایک ہی جوتا تھا۔ دن کے وقت والد صاحب اور دوپہر کے بعد ملک معراج خالد ننگے پاﺅں پھرتے تھے۔

تحریک پاکستان میں زمانہ طالب علمی میں بھرپور حصہ لیا اور مہاجرین کی آبادکاری کے لئے بھی کام کیا۔ پوری تعلیم دودھ فروشی اور معمولی ملازمتیں کرکے ہی حاصل کی۔ ضلع لاہور کے دیہی علاقے کی تعلیم وتربیت کے لئے اگست 1939ءکو انجمن اخوان اسلام کی بنیاد رکھی جس کے زیر انتظام 1954ءمیں اخوان ہائی سکول برکی کا قیام عمل میں آیا ،پھر یکم فروری 1994ءکو اخوان سائنس کالج برکی کا افتتاح صدر پاکستان فاروق لغاری سے کرایا۔ یہ دونوں تعلیمی ادارے سال ہا سال سے ہزاروں طلباءکی تعلیمی پیاس بجھا رہے ہیں۔ یہاں کے تعلیم یافتہ افراد قومی اور بین الاقوامی سطح پر اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ ملک معراج خالد نے یہ سب کچھ علاقے کے غریب ،مستحق اور ہونہار بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے کیا۔

ملک معراج خالد خود ڈیرہ چاہل سے ریلوے روڈ لاہور کے ایک کچے گھر میں منتقل ہوگئے پھر 1964ءمیں ریگل کے پاس اندرون ہال روڈ لکشمی مشن میں ایک فلیٹ میں ساری عمر گزارکر کمال مثال قائم کردی۔ ایک کمرہ وہی ڈرائنگ روم ،وہی دفتر ،وہی گھر۔ ان کی بیگم صاحبہ سکول ٹےچر تھیں، 1973ءمیں فورٹریس سٹیڈیم میں عوامی میلہ کے دوران ان سے پوچھا میڈم آپ کے میاں وزیراعلیٰ پنجاب ہیں ؟کیا آپ سکول کی ملازمت چھوڑ دیں گی تو بیگم صاحبہ نے کہا میری ملازمت مستقل نوعیت کی ہے میں کیوں چھوڑوں گی؟ ان کی ملازمت تو عارضی ہے۔ بیگم صاحب کا کہنا تھا ہمارے گھر میں مٹی کے دو گھڑے ہیں ہم ان گھڑوں کا ٹھنڈا پانی پیتے ہیں جبکہ فریج ہم نے مہمانوں کے لئے رکھی ہوئی ہے۔ عظیم شخصیت کی بیوی بھی عظیم تھیں،ملک معراج خالد نے بہت مشکل حالات میں تعلیم مکمل کی ، اپنی کمال صفات کی وجہ سے 1965ءمیں آزاد حیثیت سے مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہو کر کنونشن مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ پھر 1966ءمیں ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی جدوجہد میں شامل ہوگئے، پاکستان پیپلزپارٹی کے بانیوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔

ملک معراج خالد 1972ءمیں وفاقی وزیر زراعت اور پھر 1972ءہی میں وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے۔ 1975ءمیں وفاقی وزیر قانون 1976ءمیں وفاقی وزیر بلدیات ودیہی سماجی بہبود اور 1977ءمیں قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے۔ دوبارہ 1988ءتا 1990ءمیں قومی اسمبلی کے سپیکر رہے۔ نومبر 1996ءتا فروری 1997ءنگران وزیراعظم مقرر ہوئے۔ اتنے اہم عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود وہ ہمیشہ درویش صفت ہی رہے۔ معمولی بھی تکبر نہ کیا۔ جب معراج خالد پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے تو گورنمنٹ کالج لاہور میں ایک تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے جانا تھا۔ ہال روڈ پر ہی رہائش تھی، ڈرائیور گاڑی کہیں لے کر گیا ہوا تھا۔ دیر تک واپس نہ آیا تو وہ ریگل چوک سے ایک رکشے پر سوار ہوئے اور سیدھے گورنمنٹ کالج لاہور پہنچ گئے۔ یہی نشانی ہوتی ہے عظیم شخصیت ہونے کی:

تم اس گہر درخشاں کی قدر کیا جانو

یہ امانت ہے ہماری ہمیں واپس دے دو

ہے کوئی ایسی مثالی تاریخ پاکستان میں، جو کہیں نہیں ہے۔ مجھے (ڈاکٹر جاوید اقبال ندیم) بھی ان کے بنائے ہوئے اخوان سائنس کالج برکی میں دوسال پرنسپل کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ ہر کوئی ان کے گن گاتا ہے۔ سابق پرنسپل کا کہنا تھا کہ ملک معراج خالد نے جب بھی کالج آنا ہوتا تو مجھے فون کرکے پوچھتے پرنسپل صاحب مجھے آپ کے کالج آنے کی اجازت ہے۔ وہ کبھی کسی بھی کام میں مداخلت نہیں کرتے تھے۔ سکول وکالج کا تمام عملہ ،اساتذہ اور پرنسپل سب کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ وہ ہمیشہ ادارے کی ضروریات پوری کرنے کی کوشس کرتے، کھیلوں میں بہت دلچسپی لیتے تھے ،خود بھی کبڈی کے اچھے کھلاڑی تھے۔ انجمن اخوان اسلام کے جنرل سیکرٹری مرزا محمد رفیق بتاتے ہیں کہ ملک معراج خالد ہمیشہ طلباءکو ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ہمیشہ ترغیب دیتے۔ کالج میں پھول پودے ، خصوصاً پھل دار پودے آم ، کھجور ، امرود ، جامن، لیموں اور دیگر کئی ایک پودے لگانے کی تلقین کرتے تاکہ طلباءان کی چھاﺅں میں بیٹھیں اور پھل بھی کھائیں۔

کالج کے لئے ماٹو ”حریت، اخوت اور مساوات“ دیا اور ساتھ ہی یہ نعرہ بھی متعارف کرایا کہ ”اپنا تیشہ اپنا راستہ“ یعنی خود محنت کرو اور اپنی قسمت خود بناﺅ۔ ہر استاد کا انفرادی طورپر بے حد احترام کرتے، کالج لائبریری کا افتتاح اپنے مذل سکول گھونڈ کے استاد محترم صوفی عبدالغنی اصغر سے کرایا۔ وہ ہمیشہ کہتے کہ جب میں اپنی مادر علمی میں آﺅں تو مجھے سابق وزیراعظم نہ کہو، بلکہ سابق طالب علم کہہ کر پکارا کرو۔ مجھے اس میں خوشی محسوس ہوتی ہے۔ اخوان ہائی سکول برکی 1972ءمیں قومی تحویل میں لے لیا گیا تھا تو ملک معراج خالد جب نگران وزیراعظم بنے تو انہوں نے 1996ءمیں یہ سکول واپس دلوا دیا تاکہ طلباءواساتذہ آزادی سے اپنے ماحول میں تعلیمی مراحل ادا کرسکیں۔

ملک معراج خالد کو مطالعہ کا بھی بے حد شوق تھا۔ علامہ اقبال کے شیدائی تھے۔ انہیںکلام اقبال سے بہت سے اشعار زبانی یاد تھے۔ سیاست میں کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی، ہمیشہ لوگوں کی بہتری اور بھلائی کرتے رہے۔ جنرل ضیاءالحق کے دور میں جیل بھی کاٹی۔ ایسی عظیم اور فہیم ہستیاں کم ہی دنیا میں رہ گئی ہیں۔ انہی کی وجہ سے معاشرہ چل رہا ہے، 13جون 2003ءکو ان کے اس دنیا سے چلے جانے سے بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا۔ ان کے بنائے ہوئے تعلیمی ادارے بھی پستی کی طرف جارہے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں نے ان تعلیمی اداروں کو چلانے کے لئے مالی مدد کی ، حمزہ فاﺅنڈیشن اور بحریہ ٹاﺅن نے خصوصی حصہ ڈالا تھا۔ حمزہ فاﺅنڈیشن ،جس کے سربراہ سیٹھ عابد ہیں، اب بھی بھرپور مدد کررہی ہے ،لیکن اور کوئی نہیں آتا۔ جب وہ زندہ تھے تو ہر کوئی آتا تھا، اپنا کام کرواتا تھا اور مدد بھی کرتا تھا۔ اب سب بھول گئے ہیں۔ ان کی برسی پر بھی نہیں آتے۔ ان کے انجمن اخوان اسلام کے پچیس ممبران و عہدے داران ہیں لیکن جب ملک معراج خالد کی مدبرانہ سرپرستی نہیں رہی تو یہ انجمن بھی گروہوں میں بٹ گئی ہے، چودھراہٹ کے کھیل میں تعلیمی اداروں کا نقصان ہورہا ہے۔ اساتذہ کی وہ عزت ووقار نہیں جو ان کی زندگی میں ہوتی تھی، کیونکہ ہر کوئی لالچ اور احساس برتری کا شکار ہوگیا ہے، تعلیمی اداروں کو جنرل سٹور کی طرح چلایا جارہا ہے۔ اللہ مغفرت کرے ملک معراج خالد بڑی خوبیوں کے مالک تھے:

سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں

مزید :

کالم -