امریکہ اور روس کا ’’مشترکہ عملدرآمد گروپ‘‘ قائم کرنے پر غور

امریکہ اور روس کا ’’مشترکہ عملدرآمد گروپ‘‘ قائم کرنے پر غور

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) واشنگٹن کے سکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور روس ایک ایسے فارمولے پر متفق ہو جائیں گے جس کے تحت وہ شام میں اپنے مشترکہ دشمن داعش کے خلاف فضائی اور دیگر جنگی کارروائیوں میں باہمی تعاون کے ساتھ حصہ لیں گے۔ ان ذرائع نے ’’نمائندہ پاکستان‘‘ کو زیر غور مسودے کے اہم نکات بتائے ہیں جن کے مطابق اردن کے دارالحکومت عمان کے قریب امریکہ اور روس کا ایک ’’مشترکہ عمل درآمد گروپ‘‘ قائم کیا جائے گا جہاں سے وہ ان دہشت گردوں کے خلاف کے خلاف اپنے فضائی حملوں میں ہم آہنگی پیدا کریں گے جن پر ان دونوں کا اتفاق ہوگا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اب ساری توجہ داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں پر صرف کریں گے جن کے تعین میں ان میں اختلاف نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں بشار الاسد کے مخالف اپوزیشن گروہوں کو نشانہ بنانے کی روسی پالیسی پر فی الحال عملدرآمد نہیں ہوگا اور داعش کو اپنی مخالف قوتوں کے درمیان عدم تعاون سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ملے گا۔ روس کو القاعدہ کے سابق جنگجوؤں کی تنظیم النصرۃ فرنٹ پر شدید اعتراض تھا جو اب ’’جبات فتح الشمس‘‘ کے نئے نام سے ان باغی جنگجوؤں کی صف میں گھس رہے تھے جنہیں امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ نئے معاہدے کے تحت امریکہ ان باغی جنگجوؤں کی حمایت نہیں کرے گا جن کے ساتھ القاعدہ کے سابق ارکان شریک ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کو شکایت تھی کہ روس دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے بہانے بشار الاسد کے مخالف اعتدال پسند جنگجوؤں کو بھی نشانہ بنا رہا تھا۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان اتفاق رائے بہت خوش آئند ہے کیونکہ اب شام کی اعتدال پسند اپوزیشن کو اصل دہشت گردوں سے الگ کردیا جائے گا اور تمام توجہ ان دہشت گردوں پر صرف کی جائے گی۔ سکیورٹی ماہرین نے روسی صدر پیوٹن کے اس بیان کو بہت حوصلہ افزا قرار دیا ہے جس میں انہوں نے شام کی خانہ جنگی میں امن کا معاہدہ تیار کرنے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی کوششوں کو سراہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شام کے اعتدال پسند جنگجوؤں اور کردوں کے آپس میں جنگ نہ کرنے کے سمجھوتے سے تمام قوتوں کو مل کر داعش کے خلاف کارروائیوں میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔

مزید :

صفحہ اول -