پنجاب اسمبلی، پشاور، مردان حملوں کیخلاف مذمتی، سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرنیکی قراردادیں منطور
لاہور( نمائندہ خصوصی ،آئی این پی)پنجاب اسمبلی نے پشاور میں کرسچین کالونی میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور جبکہ اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ صوبے میں نیشنل ایکشن پلان پر موثر انداز سے عملدرآمد کیا جارہا ہے جس کے تحت عسکریت پسندی کی تعلیم و تربیت کے سدِ باب کیلئے 15483دینی مدارس کی جیوٹریکنگ مکمل کرلی گئی ہے اور مساجد کی جیو ٹریکنگ بھی آخری مراحل میں ہے ، اسمبلی کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں بچوں کو اغوا کرکے ان کے اعضاء سمگل کرنیوالے کسی منظم گروہ کا کوئی وجود نہیں اور نہ ہی کسی بچے کو اغوا کرکے اس کے اعضا نکالے گئے ہیں بلکہ یہ سوشل میڈیا پر افراتفری اور خوف و ہراس پھیلانے کی مہم تھی ۔ اجلاس اب غیر معنہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا ہے ۔ گزشتہ روز سپیکر رانا محمد اقبال خا ں کی صدارت میں اجلاس کے دوران وارسک روڈ پشاور میں کرسچئن کالونی اور مردان خود کش دھماکے پر افسوس ، تشویش اور مذمت کا اظہار کیا گیا امن واقعات کا ذکر صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر عام بحث کے دوران کیا گیا اور متفقہ مذمتی قرارداد منظور کی گئی ۔صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر عام بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر نے بچوں کی گمشدگی اور اغوا ء کے وارداتوں کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ بچوں کے اغوا کی خبروں سے خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ اس بحث کے وقت، وزیر قانون ، ہوم سیکرٹری ، اور آئی جی پولیس کی موجودگی ضروری تھی لیکن ان میں سے کوئی بھی موجود نہیں سپیکر کوآگاہ کیا گیا کہ وزیر قانون اسمبلی سیکرٹریٹ میں ہی اسمبلی کے امور سے متعلق ایک اجلاس میں موجود ہیں جس پر سپیکر نے اجلاس کی کارروائی دس منٹ کیلئے روک دی۔ وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو وزیر قانون نے ایوان میں سن دوہزار گیارہ سے دوہزار سالہ تک گم اور بازیاب ہونے والے بچوں کے اعدادو شمار پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ سن دوہزار گیا رہ میں ایک ہزار دوبہتر بچے گم ہوئے جن میں سے ایک ہزار دوسوباسٹھ بچے بازیاب ہوئے دو ہزار بارہ میں گم ہونے والے ایک ہزار دو سو ساٹھ میں سے ایک ہزار دوسوچھپن بچے گھر واپس لوٹے دو ہزار تیرہ میں گم ہونے والے ایک ہزار دوسو تین میں سے ایک ہزار ایک سو پچاسی بچے بازیاب ہوئے ، دوہزار پندرہ میں گم ہونے والے ایک ہزار دو چونتیس میں سے ایک ہزار ایک سو ترانوے بچوں کی گھر واپسی ہوئی جبکہ امسال اکتیس جولائی تک سات سو سرسٹھ بچے لاپتہ ہوئے جن میں سے سات سو پندرہ بچوں کی گھر واپسی ہوئے ہے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بچوں کی گمشدگی اور اغوا کے بارے میں میڈیا پر ہونے والی گفتگو کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ بچوں کو منظم طریقے سے اغوا کرنے والا کوئی گروہ موجود نہیں ہے وزیر قانون نے کہا کہ بچوں کے اغوا کے بارے میں ایک منظم انداز سے سوشکل میڈیا پر خوف و ہراس پھیلایا گیا ہے، حکومت ایسے عناصر کا کا پتہ چلالیا ہے تاہم ان کے خلاف سائبر کرائم کے تحت کارروائی نہیں کی گئی بلکہ انہیں نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور خبردار کیا گیا کہ آئندہ ایسی حرکت پر ان کیخلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ انہوں نے بچوں کے اغوا کے واقعات سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے کے بعد ذرائع ابلاغ پر ہونے والے غیر حقیقی تبصروں اورتجزیوں پر بھی تنقید کی اور ایوان کو بتایا کہ بچوں کو اغوا کرکے ان کے اعضاء نکالنے اور سمگل کرنے کا کوئی ایک کیس سامنے نہیں آیا اور نہ ہی یہ ثابت ہوا ہے کہ کوئی منظم گروہ بچوں کو اغوا کررہا ہے یا ایسی کسی گروہ کا کوئی وجود ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے بارے تحفظات کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر قانون نے ایوان کو بتایا کہ ان تحفظات کا اظہار حقائق سے ناواقف لوگ کر رہے ہیں جبکہ اس پلان پر عملدرآمد کامیابی سے جاری ہے ۔ انہوں نے اس پلان پر عملدرآمد کے دوران اب تک تفتیشی مراحل سے گذرنے والوں ، گرفتار ہونے والوں اوردرج کرائے جانے والے مقودمات کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ساتھ مڈبھیڑ میں مارے جانے والوں کی تفصیل بھی پیش کی ۔ وزیر قانون نے ایوان کو بتایا کہ صوبے میں تمام مدارس میں ممکنہ طور پر عسکریت پسندی کی تعلیم و تربیت کا پتہ چلانے اور سدِباب کیلئے ان کی فنڈنگ معلمین اور طلباء کے مکمل کوائف’ جیو ٹریکنگ ‘ سسٹم کے تحت حاصل کرلئے ہیں اب مساجد کی جیو ٹریکنگ بھی آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے وزیرقانون کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کاصرف ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان کی ترقی سے روکا جاسکے اور افراتفری پھیلا کر اسیعدم اسدتحکام کا شکار کیا جائے لیکن یہ یہ مذموم عزائم خاک میں ملائے جارہے ہیں ۔ اس جنگ میں پوری قوم کو متحد ہو کر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہونا چاہئے جبکہ پاک فوج سمیت قانون نافذ کرنے والے تمام ریاستی اداروں کے افسر اور اہلکار اپنا آج قوم کے کل پر قربان کررہے ہیں ۔ اس مرحلے پر وزیر قانون نے پشاور کے وارسک روڈ پر کرسچین کالونی پر دہشت گردوں کے حملے اور مردان میں دہشت گردی کے واقعات کی خاص طور پر مذمت کی اور کہا یہ کہ یہ کرسچین کالونی پر حملہ نہیں بلکہ پاکستان پر حملہ تھا ۔ ایوان نے کرسچین کالونی پشاور میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کیلئے متفقہ کیخلاف قراداد بھی منظور کی ۔ قرارداد میں اس واقعے کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ متاثرین ، ان کے پسماندگان اور لواحقین سے تعزیت ہمدردی اوریکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ ایک بزدلانہ کارروائی تھا جس میں اقلیتوں کو نشانہ بناکر پاکستان کو عالمی سطحپر بدنام کرنے کی مزموم سازش کی گئی لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرکے اس سازش کو ناکام بنادیا یہ ایوان ان اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے اور اور آئندہ بھی ان کی کامیابی کیلئے دعا گو ہے ۔ صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ عمران خان کا پاگل پن تیسری شادی سے بھی دور نہیں ہوگا بلکہ شادی کر نیوالوں کو بھی پاگل کر دیں گے ‘ عوام کو خوشخبری دینا چاہتا ہوں کہ انتخابات 2018ء کے بعد نیم پاگل اور مولوی دونوں صاحبان ملک میں نظر نہیں آئیں گے‘ پاکستان کی عسکری اور سول قیادت ایک پیج پر ہے پاکستان کے سپہ سالار آرمی چیف نے عین وقت پر جراتمندانہ بیان دیاہے ، کرسچن کالونی پشاور میں ہونے والے حملے کو ناکام بنانے پر فوج سمیت تمام سکیورٹی ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں‘دہشتگردوں اور پی ٹی آئی کا ایجنڈا ایک ہے کیونکہ دونوں ملک میں انتشار اور افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں‘ اس بات میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ کھلے اجتماعات دہشتگردوں کیلئے آسان ہدف ہیں تاہم ہم تحریک انصاف کے جلسے کو 3حصار پر مشتمل فول پروف سکیورٹی فراہم کریں گے ، پو رے روٹ پر 4سے پانچ ہزار پو لیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے ۔
پنجاب اسمبلی
