جرگہ کے فیصلے کیخلاف میرے بائی کو حوالات میں بند کردیا گیا
خیبر ایجنسی (بیورورپورٹ)لنڈیکوتل کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ نے جرگہ کے فیصلے کے بغیر سود کے تنازعے پر میرے بڑے بھائی کو حوالات میں بند کر دیا ،پولیٹکل انتظامیہ نے جر گہ کے فیصلے سے پہلے میر ے بھائی کو یکطرفہ طور پر حوالات میں بند کر کے ظلم اور نا انصافی کی ہے ،سودی کاروبار میں گرفتاری کرکے گورنر کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا ہے ، انصاف نہیں ملا تو اے پی اے لنڈی کوتل کے خلاف اعلیٰ حکام اور عدالتوں کے دروازوں پر دستک دونگا ،فضل الرحیم شنواری کا لنڈیکوتل پر یس کلب میں پریس کانفر نس سے خطاب۔لنڈیکوتل پر یس کلب میں پر یس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے فضل الرحیم شنواری نے کہا کہ ان کے بڑے بھائی عدل زمین کا حاجی جاوید کوکی خیل کے ساتھ گزشتہ گیارہ سال سے لین دین کا تنازعہ چلا آرہا ہے اس دوران تحصیل دفتر میں کئی بار تحصیلدار کے سامنے دونوں فریقین حاضر بھی ہوئے ابھی تو جرگہ ہی مقرر کیا گیا اور ادھر اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ لنڈی کوتل رحیم اللہ محسود نے سرکاری جر گہ مقرر کرنے کے فوری بعد ان کے بھائی کے خلاف یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے ان کو بلا وجہ جیل میں ڈال دیا جو سراسر قبائیلی روایات، جرگے کے اصولوں اور انصاف کے خلاف ہے سرکاری جرگے نے دونوں فریقین کے بیانات قلمبند کر ائے انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے وہ بار بار پیش ہوئے جبکہ مخالف فریق بااثر ہونے کی بناء پر غیر حاضر رہا فضل الرحیم شنواری نے الزام لگایا کہ اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ لنڈی کوتل رحیم اللہ محسود نے اپنے ہی مقررہ کردہ جرگے کے فیصلے سے پہلے بااثر لوگوں کی سفارش اور دباؤ پر ان کے بھائی کو حوالات میں بند کر دیا جو ظلم اور انصافی کی انتہا ء ہے حالانکہ پولیٹیکل انتظامیہ کے دفاتر میں سودی معاملات کی درخواستیں لینے پر پابندی عائد کی گئی تھی انہوں نے کہا کہ مخالف فریق نے کراچی میں ایک بنگلے اور دو گاڑیاں پر بھی قبضہ کیا ہواہے اور اب ان کے بھائی کو بھی حوالات میں بند کروا دیا انہوں نے کہا اگر اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ نے ان کے بھائی کو رہا نہیں کیا اور تنازعے کو سرکاری جرگے کے ذریعے حل نہیں کروایا تو انصاف کے لئے اعلیٰ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور اعلیٰ حکام تک بہت جلد اپنی فریاد پہنچائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اے پی اے لنڈی کوتل قبائلی ہونے کے باؤجود بھی قبائلی روایات اور جرگہ سسٹم سے نا واقف ہے جس سے موجودہ نظام کو بھی خطرہ ہے ۔
