فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 200

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 200
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 200

  

محمد علی کے بارے میں ہمیں معلوم تھا کہ وہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں مالدار آدمی نہیں ہیں بلکہ پاکستان پہنچ کر تو خاصے نامساعد حالات کا شکار رہے۔ مگر ان کی شاہ خرچی اورفیاضی دیکھ کر سب ہی غلط فہمی کا شکار ہو جاتے تھے۔ اس وقت تک وہ ’’سٹار‘‘ نہیں بنے تھے۔ آمدنی کا کوئی بڑا ذریعہ بھی نہیں تھا۔ سستا زمانہ سہی مگر پھر بھی خدا جانے وہ ان اخراجات کے لئے پیسہ کہاں سے لاتے تھے؟

اس سلسلے میں ایک لطیفہ اور سن لیجئے۔

لکشمی چوک پر ایک باربر شاپ تھی ۔ہم 1951ء سے اسی دکان سے کٹنگ کراتے تھے۔ (حجامت کراتے تھے صحیح لفظ ہے) یہ دکان صاف ستھری تھی ۔اس کے مالک اس وقت جوان تھے۔ انہوں نے چار پانچ کارندے بھی رکھ چھوڑے تھے مگر اوّل روز سے ہمارے بال وہی تراشتے تھے۔ وقت گزرتا رہا ان کی دکان بھی اچھی اور پھر بہت اچھی ہو گئی۔ ہمارے حالات بھی بہتر ہو گئے ۔پہلے ہم صحافی تھے پھر فلم سٹوری رائٹر بنے یہاں تک کہ پروڈیوسر بن گئے۔ کسی وقت پیدل گھوما کرتے تھے یا بسوں میں سفر کرتے تھے پھر رکشا اور ٹیکسی میں بیٹھنے لگے یہاں تک کہ کار سوار ہو گئے۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 199 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اُس زمانے میں جن لوگوں کے پاس پیسے آ جاتے تھے ان میں سے اکثر لکشمی چوک چھوڑ کر مال روڈ کے فیشن ایبل باربرز کی دکان کا رخ کر لیتے تھے مگر ہم نے ماسٹر جی کو نہ چھوڑا۔ دو تین بار تجربے کے لئے بعض دوستوں کے ساتھ مال روڈ اور ہال روڈ کے بڑے دکانداروں کے پاس بھی گئے جہاں اس زمانے میں سات آٹھ روپے کٹنگ کا ریٹ تھا ۔وہ شیمپو بھی کرتے تھے۔ وہاں ماحول بھی بہت خوب صورت اور رومانٹک ہوتا تھا مگر ہم نے ماسٹر جی والی بات کہیں نہ پائی۔ وہ ہمیشہ بذات خود ہماری کٹنگ بڑے اہتمام، توجہ اور پیار سے کیا کرتے تھے ۔کسی شاگرد کو ہمارے پاس بھی نہیں پھٹکنے دیتے تھے۔ ہاں جس روز ماسٹر جی دکان سے غائب ہوں اور ہمیں جلدی ہوتی تھی تو ان کے کسی ہونہار شاگرد سے حجامت کرا لیتے تھے۔ اس دکان میں ہم شیمپو بھی کراتے تھے اور تمام چیزوں کے عوض پہلے بارہ آنے‘ پھر ڈیڑھ روپیہ اور آخر میں تین روپے دیا کرتے تھے۔ ماسٹر جی نے ہم سے کبھی ریٹ بڑھانے کو نہیں کہا، البتہ ان کی دکان میں ایک بلیک بورڈ پر ریٹ لکھ دئیے جاتے تھے اور ہم اس کے مطابق خود ہی بلا کہے سنے ریٹ میں اضافہ کر دیتے تھے۔ شروع میں چار آنے اور بعد میں آٹھ آنے ٹپ بھی دیتے تھے لیکن صرف شاگردوں کو‘ ماسٹر جی آخر دکان کے مالک تھے۔ انہیں ٹپ دینا پروٹوکول کے خلاف تھا وہ خود بھی بہت بے نیاز تھے۔ کافی عرصے کے بعد تو وہ صحیح معنوں میں خلیفہ بن گئے تھے۔ دکان میں ایک طرف بینچ پر بیٹھے نماز پڑھتے رہتے یا آنے جانے والوں سے باتیں کیا کرتے۔

اس دکان میں حماّم بھی تھا اور بہت سے لوگ محض غسل کی غرض سے بھی آیا کرتے تھے۔ ماسٹر جی ان کے لئے گرم اور ٹھنڈے پانی کا اہتمام کراتے‘ پہلے پانی کی حرارت بذات خود چیک کرتے اور پھر گاہک کونہانے کی اجازت دیتے۔ جب انہوں نے دکان کو ’’ماڈرن کٹنگ سیلون‘‘ میں تبدیل کیا تو ہر چیز جدید زمانے کے مطابق ہو گئی۔ اوپر نیچے ہونے والی کرسیاں‘ خوبصورت آئینے‘ سامنے واش بیسن جس میں شیمپو کیا جاتا تھا۔ ہر طرح کا شیمپو ماسٹر جی کی دکان میں موجود ہوتا تھا۔ وہ خود بھی ایک شیمپو تیارکرتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ اس کے استعمال سے بال نہیں جھڑتے مگر ہمارے لئے وہ ہماری پسند کا شیمپو الگ سے خرید کر لا کر رکھ دیتے تھے۔ ہمارے جاتے ہی تازہ دھلے ہوئے تولئے بڑے اہتمام سے نکالے جاتے۔ بالکل اجالا سفید براق کڑکڑاتا ہوا کپڑا ہماری گردن کے اردگرد باندھا جاتا پھر ماسٹر جی بڑے غور و خوض کے ساتھ ہمارے بال مختلف قینچیوں کی مدد سے کاٹتے تھے۔ کالر کے اندر روئی بھی رکھ دیتے تھے۔ یہ سب اہتمام اس دکان میں صرف ہمارے ہی لئے ہوتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ ماڈرن تقاضے ہیں اور اگر ہم نے ماڈرن دکانوں کا رخ نہیں کیا تو وہ اسی دکان میں ہمیں جدید ترین سروس کیوں نہ فراہم کریں؟ انہیں ہماری نازک مزاجی اور نفاست طبع کا بھی بخوبی علم اور احساس تھا۔ اس لئے ہر طرح ہمیں مطمئن اور خوش رکھنا چاہتے تھے۔

شیمبو کے لئے دوسرا تولیا استعمال کیا جاتا تھا۔ ایک گھٹنوں پر بچھایا جاتا اور دوسرے چھوٹے تولئے سے ہمارا سر اس طرح لپیٹ کر خشک کرتے کہ کیا مجال جو ایک چھینٹ یا بوند بھی لباس پرپڑ جائے۔ شیمپو کرنے کے بعد جب وہ ہمارا سر دھوتے تو عکس کرنے میں کبھی پانی زیادہ ٹھنڈا ہو جاتا تھا اور کبھی زیادہ گرم۔ ہمارے سر کی حرکت سے وہ جان لیتے تھے کہ پانی ہمارے مطلب کا نہیں ہے۔ آخر تنگ آ کر انہوں نے یہ طریقہ نکالا کہ دو جگ بھر کر پانی پہلے ہی تیارکرا لیتے تھے۔ ہم پانی میں انگلی ڈال کر چیک کرتے اور منظوری دیتے۔ پھر ان کا ایک شاگرد جگ سے پانی ڈالتا رہتا اور ماسٹر جی سرد دھونے کا فریضہ سرانجام دیتے۔ شیمپو سے پہلے وہ چند منٹ زیتون کے تیل سے ہمارے سر کی مالش بھی کرتے تھے اور ایسی مہارت سے مالش کرتے کہ ہماری آنکھیں بند ہو جاتی تھیں۔ جب ایسا وی آئی پی برتاؤ کیا جا رہا ہو تو اس دکان کو چھوڑ کر ہم بھلا کہاں جا سکتے تھے؟ پھر یہاں سیاست‘ فلم‘ ادب اور صحافت پر جو تبادلہ خیال ہوتا رہتا تھا وہ الگ ۔۔۔لگ بھگ ہم پچیس تیس سال تک بطور خاص لکشمی چوک پر ان سے کٹنگ کرانے کے لئے جاتے رہے۔ پھر لاہور کا ٹریفک حد سے زیادہ پرہجوم اور بے ہنگم ہو گیا اور ہم نے کسی اور کام کے سلسلے میں لکشمی چوک کا رخ کرنا ہی بالکل بند کردیا تو ماسٹر جی کی دکان کو بھی خیرباد کہہ دیا۔ مگر اس عرصے میں ماسٹر جی اور ہم دونوں کے بال سفید ہو گئے تھے۔

ماسٹر جی کے بچے جوان ہو گئے ۔دو لڑکے باہر چلے گئے‘ ایک جرمنی میں تھا‘ دوسرا پیرس میں‘ ہم جب کبھی ملک سے باہر جا کر واپس آتے اور ماسٹر جی کو معلوم ہوتا تو بڑے اشتیاق سے پوچھتے ’’آفاقی صاحب وہاں پیرس میں میرے بیٹے سے ملاقات ہوئی تھی؟‘‘

جیسے کہ پیرس کوئی گاؤں تھا جہاں پہنچتے ہی ان کے بیٹے سے ملاقات ہونا لازم تھا ۔ہم ماسٹر جی کی سادگی کا خیال کرکے بات ٹال دیتے تھے ’’بس ماسٹر جی کیا بتائیں وقت بہت کم تھا اور مصروفیت اتنی زیادہ کہ کسی سے ملنے ملانے کا ہوش ہی نہیں تھا۔‘‘

’’آفاقی صاحب کبھی وقت نکال کر جائیں آپ کی بڑی خدمت کرے گا میرا بیٹا بڑا سعادت مند ہے‘‘

ماسٹر جی کا نام ہم نے کبھی نہیں پوچھا ۔نہ انہوں نے بتایا۔ ہمارے سامنے کبھی کسی نے انہیں نام لے کر مخاطب بھی نہیں کیا۔ شاگرد بھی ’’استاد جی‘‘ ہی کہا کرتے تھے تمام گاہکوں کے لئے وہ ’’ماسٹر جی‘‘ تھے غضب کے باتونی تھے اور ہر موضوع پر یوں بے تکان بولتے تھے کہ عقل حیران رہ جاتی تھی۔ ہم سر جھکائے بیٹھے ’’ہوں ہاں‘‘ کرتے رہتے تھے۔ ماسٹر جی کچھ دیر کے بعد اپنی قینچی روک لیتے اور سامنے آ کر کھڑے ہو جاتے اور کہتے ’’لیجئے اب آپ بول لیجئے‘‘

یہ گویا بات چیت کا وقفہ ہوتا تھا۔

ماسٹر جی یکطرفہ اظہار خیال کے قائل نہ تھے دوسرے کو بھی بولنے کا پورا موقع دیتے تھے۔ اب تو سالہاسال گزرگئے ہیں کبھی ادھر سے گزر ہوتا بھی ہے تو ان کی دکان پر دور سے ایک نظر ضرور ڈال لیتے ہیں اب وہاں نہ پارکنگ کے لئے جگہ ہے اور نہ ہی کاروں‘ بسوں اور ویگنوں والے رکنے کی مہلت دیتے ہیں۔ اکثر سوچا کہ خاص طورپر ماسٹر جی سے ملاقات کے لئے جائیں اور ایک آدھ حجامت بنوا لیں مگر زمانہ رکنے ہی نہیں دیتا۔ خدا جانے اب وہ کس حال میں ہیں۔

لیجئے محمد علی کے ذکر سے ’’ماسٹر جی‘‘ کا تذکرہ نکل آیا۔ بات صرف اتنی تھی کہ جب محمد علی ابتدا میں لاہور آئے اور انڈس ہوٹل کے کمرا نمبر ایک میں انہوں نے ڈیرا جمایا تو حجامت کرانے کے لئے انہیں باربر کی ضرورت پیش آئی۔ ہوٹل کا ہر بیرا ان کی خدمت بجالا کر فخر محسوس کرتا تھا۔ ایسی بات بھی نہیں ہے کہ وہ بڑے مشہور و معروف فلم سٹار بن گئے تھے دراصل ان کا رکھ رکھاؤ اور رئیسانہ آن بان سے ہر کوئی متاثر ہو جاتا تھا۔ جن دنوں دوچار آنے کی ٹپ کافی خیال کی جاتی تھی وہ جیب سے ایک روپے کا نوٹ نکال کر ٹپ دے دیا کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ہر بیرا ان کے اشاروں پر چلتا تھا ہوٹل کا ایک موٹا سا نوجوان بیرااُن کا خصوصی بیرا بن گیا تھا۔ ایک بار اس کی ڈیوٹی کسی اور منزل پر لگا دی گئی۔

وہ ایک دو روز نظر نہ پڑا تو محمد علی صاحب نے حاضر خدمت بیرے سے دریافت کیا۔ اس نے اس کے تبادلے کی اطلاع دی اور محمد علی صاحب نے فون اٹھا کر منیجر سے ملایا۔ ’’دیکھیئے میں محمد علی بول رہا ہوں۔ آپ نے غلام علی کو کہیں اور لگا دیا ہے اس کی ڈیوٹی اسی فلور پر لگا دیں پلیز‘‘

منیجر بھی ان کا مداّح تھا ۔فوراً حکم کی تعمیل کر دی ۔جو بیرا ایک دو روز ان کی خدمت میں رہا تھا اس کی مایوسی دیکھی تو محمد علی نے جیب سے ایک نوٹ نکال کر اس کے حوالے کیا اور کہا ’’میرے لئے سگریٹ تم ہی لایا کرو‘‘ مطلب یہ کہ اس بہانے اسے بھی ٹپ ملتی رہے۔

ان کے طور طریقے ہی ایسے تھے کہ سارے ہوٹل کے ملازمین میں چرچا ہو گیا۔ غلام علی نے محمد علی کی فرمائش پران کی کٹنگ کے لئے ماسٹر جی کی دکان سے رجوع کیا۔ ایک دو بار تو ماسٹر جی خود ہوٹل گئے مگر پھر اپنے شاگرد خاص رحمن کو محمد علی کی خدمت پر مامور کردیا۔

ایک بار ہم دکان پر کٹنگ کرانے گئے تو ماسٹر جی شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ رحمن نے موقع غنیمت جانا اور اپنا گاہک کسی اور کے حوالے کرکے فوراً ہمیں اپنی خدمت میں پیش کردیں۔ ہم بھی اخلاقاً سر جھکا کر بیٹھ گئے اب جو رحمن نے باتیں شروع کیں تو پچھلی ساری کسر پوری کر دی۔ فلم اور سیاست کا کوئی گوشہ تشنہ نہ چھوڑا۔ باتیں کرتے کرتے اچانک رحمن نے پوچھا ’’آفاقی‘‘ صاحب کیا محمد علی بہت رئیس آدمی ہے؟‘‘

ہم نے پوچھا ’’کیوں؟ تمہیں یہ خیال کیسے آیا؟‘‘

بولا ’’آفاقی صاحب میں ان کی کٹنگ کرنے جاتا ہوں تو بیس روپے نکا ل کر دیتے ہیں بڑا شاہ دل بندہ ہے‘‘

ہم نے کہا ’’ہاں وہ دل کا بھی رئیس ہے‘‘

بزرگوں سے سنا تھا کہ جو شخص جتنا خرچ کرتا ہے اللہ اسی حساب سے اس کو دیتا ہے۔ محمد علی کو دیکھ کر اس کہاوت پر یقین آ جاتا ہے۔ محمد علی کو ہم نے جب سے دیکھا بے دریغ پیسہ لٹاتے دیکھا۔ قدرت محمد علی سے بھی زیادہ فیاض ہے۔ لوگ سمجھتے تھے یہ شخص سب کچھ لٹا کر فقیر ہو جائے گا مگر اللہ نے اسے اتنا دیا کہ لٹانے سے بھی کوئی کمی نہ ہوئی بلکہ اس کی دولت میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ محمد علی نے جب سے فلمی دنیا میں قدم رکھا ہے کسی میدان میں ناکامی کا منہ نہیں دیکھا اور پیسہ ،تو ایسا ٹوٹ کر برسا کہ ڈوب گیا میخانہ بھی ۔ معاف کیجئے مصرع میں تحریف کر لی ہے۔ مصرح یوں ہے۔؂

ایسا ٹوٹ کے برسا بادل ڈوب گیا میخانہ بھی

مطلب یہ کہ پیسے کی محمد علی کو پھر کبھی کمی نہ ہوئی حالانکہ یہ شخص پیسے کا سخت دشمن ہے۔

ہم نے محمد علی کی بات چیت سنی‘ چال ڈھال دیکھی طور طریقوں کا جائزہ لیا تو احساس ہوا کہ ارے یہ شخص تو ہماری فلم ’’کنیز‘‘ کے کردار کے لئے اتنا فٹ ہے جیسے کہ انگوٹھی میں نگینہ‘ وہ اپنے نواب اور جاگیردار دادا کے محل میں پلتا ہے، دادا سے تفاخر‘ غرور‘ آن بان اور سوچنے کا انداز بھی سیکھ لیتا ہے۔ دیکھنے میں بھی نوابزادہ لگتا ہے ہم نے پہلے اس کردار کے لئے حبیب کاانتخاب کیا تھا مگر حبیب اپنے قد و قامت کے باوجود رئیسانہ شان سے محروم تھے۔ محمد علی تو جیسے کہ بنے بنائے نواب زادے تھے۔ خوب رو‘ خوش اطوار‘ چال ڈھال‘ آواز‘ نشست و برخاست سب رئیسانہ ،ادھر حبیب صاحب ایک بات پر ہم سے ناراض بھی ہو گئے اور بعد میں مقدمہ بازی تک نوبت پہنچ گئی ۔یہ داستان پھر کبھی بیان ہو گی۔ ہمیں تو ایسا محسوس ہوا جیسے کہ ہماری فلم میں رکاوٹ ہی اس لئے پیدا ہوئی تھی کہ ہم محمد علی کو اس کردار میں کاسٹ کریں ۔اللہ کی مصلحت کوئی انسان کہاں جان سکتا ہے ہم جس رکاوٹ کو مصیبت سمجھ رہے تھے وہ ہمارے لئے راحت اور کامیابی کا ذریعہ بن گئی۔(جاری ہے)

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 201 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ